راجوری //خطہ پیر پنچال میں انتظامیہ بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے غیر قانونی طورپر کان کنی کرنے کا معاملہ ایک نئی پریشانی بن گئی ہے تاہم مقامی لوگ حکام پر مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کا الزام عائد کررہے ہیں ۔راجوری ضلع کے دریائوں او ر نالوں میں غیر قانونی کان کنی ہمیشہ سے ایک معاملہ رہا ہے لیکن بہت سے نئے سٹون کرشرز کی تنصیب اور ترقیاتی کاموں میں اضافے کے ساتھ خاص طور پر رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد اس میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ریت، پتھر، چٹانوں و غیرہ کی بڑھتی ہوئے مانگ کے بعد ان انتظامیہ کی کارکردگی کیساتھ ساتھ اس عمل کیساتھ نمٹنا بھی ایک مشکل عمل بنتا جارہا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قانونی کان کنی اور غیر قانونی کان کنی کے درمیان لائن کھینچنا محکموں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ماضی میں کئی معدنی بلاک کی نیلامی کی جا چکی ہے اور ان نامزد بلاکس سے کان کنی قانونی ہے جبکہ دیگر دریائی علاقوں سے کان کنی غیر قانونی ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قانونی کان کنی کو ریگولیٹ کرنا اور غیر قانونی کان کنی کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے جس سے محکمے نمٹ رہے ہیں اور اس مسئلے کا اندازہ اس صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے کہ نہ صرف دن کے وقت کان کنی بلکہ محکموں کو رات کے وقت کان کنی اور کئی بھاری مشینوں سے بھی نمٹنا پڑتا ہے جبکہ گاڑیوں کو رات کے وقت ندیوں میں کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔دوسری طرف، غیر قانونی کان کنی کے خلاف بے عملی کے الزامات میں بھی تیزی آ رہی ہے اور مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ دن کے اجالے اور رات کے اوقات میں، غیر قانونی کان کنی کا کام زور و شور سے جاری ہے اور کسی بھی سرکاری محکمے کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ قانونی کان کنی کیلئے بھی اصول مقرر ہیں لیکن یہاں سب کچھ اپنے طریقے سے چل رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ضلع میں کسی بھی واٹر باڈی کا معائینہ کیا جائے تو وہاں پر غیر قانونی کان کنی کے نشانات دیکھائی دیں گے ۔راجوری شہر کے وسط میں طارق پل اور عبداللہ پل کے درمیان ہونے والی کان کنی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بزرگ نے بتایا کہ دریا کے بیچوں بیچ بھاری مشینری کے ساتھ کان کنی جاری ہے لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ضلع کے متعلقہ آفیسر نے بتایا کہ اس غیر قانونی عمل کیخلاف کارروائی بڑے پیمانے پر شروع کی گئی ہے اور حالیہ دنوں میں ہی ضلع کے کلر علاقہ میں گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں ۔