نئی دہلی//اترپردیش کے اناؤ میں عصمت دری کا شکار لڑکی کے ساتھ ہو رہے ظلم پر اپوزیشن کے ہنگامہ کے درمیان منگل کو لوک سبھا میں‘ کنزیومر پروٹیکشن بل -2019’ پر بحث کی شروعات ہوئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے اناؤ کے واقعہ پر وزیر داخلہ امت شاہ سے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آکر نعرے بازی کرنے لگے ۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان فوڈ اینڈ کنزیومر امور کے وزیر رام ولاس پاسوان نے بل پر بحث کا آغاز کرکے ایوان سے اسے منظور کرانے کی اپیل کی۔ مسٹر پاسوان نے کہا کہ یہ بل صارفین کے تحفظ کے لئے ضروری ہے ۔ اپوزیشن کے ہنگامہ تیز ہونے کی وجہ سے مسٹر پاسوان نے بحث کو آگے بڑھانے کے لئے صارفین معاملوں کے وزیر مملکت دانوے راؤسیھوو داداراؤ سے اپیل کی۔ مسٹر داداراؤنے کہا کہ ‘کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1986’ میں پہلی بار بنا تھا، جو بدلتے ہوئے حالات اور لبرلائزیشن کے بعد موثر نہیں رہ گیا تھا۔ اس کے لئے ایکٹ میں کئی ترمیم تو ہوئے لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ اس قانون کی جگہ نیا مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں بل پیش کرنا پڑا ہے ۔
اس بل کو گزشتہ لوک سبھا میں منظور کیا گیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہو سکا تھا لیکن اسی درمیان 16 ویں لوک سبھا کی مدت ختم ہو گئی۔ کانگریس کی جانب سے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ اناؤ کا واقعہ سب کو شرمسار کرنے والا ہے . بہترین صوبہ بنانے کا دعوی کرنے والی حکومت کے دعویٰ کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں، جس لڑکی کی عصمت دری ہوئی ہے اسے انصاف نہیں مل رہا ہے ۔اس کے والد کو قتل کرا دیا گیا اور لڑکی اور اس کے وکیل کو ٹرک نے ٹکر مار دی۔ وہ دونوں سنگین حالت میں اسپتال میں داخل ہیں۔ اس معاملہ میں سی بی آئی کی جانچ کی جا رہی ہے لیکن معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس معاملہ میں مسٹر شاہ کو ایوان میں بیان دینا چاہئے ۔ اپوزیشن مسلسل-‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا ؟’اور ‘مودی حکومت جواب دو’ جیسے نعرے بھی لگاتے رھے ۔ بحث کے درمیان اپنی بات نہیں سنے جانے کے بعد کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور دراوڑ منیتر کشگم نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اس کے بعد ترنمول کانگریس کی جانب سے بھی اناؤ کے واقعہ پر اپنا موقف رکھنے کی کوشش کی لیکن اجازت نہ ملنے کے بعد وہ بھی واک آؤٹ کر گئے ۔ حکومت کی جانب سے اناؤ کے واقعہ پر جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ اتر پردیش کی حکومت اس معاملہ پر سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے ۔
اپوزیشن ریاست کے معاملہ کو لوک سبھا میں اٹھا کر اس پر سیاست کر رہا ہے . پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا‘‘ اس میں سیاست نہیں کرنی چاہئے ، اس معاملہ میں پہلے ہی سی بی آئی جانچ جاری ہے . ریاستی حکومت پوری غیر جانبداری سے تحقیقات کر رہی ہے ، ہم پورے متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں، جو کچھ بھی انصاف کرنا ہے وہ اتر پردیش کی حکومت کر رہی ہے ، لیکن اس پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔بی جے پی کے جگدمبکا پال نے اس معاملے سماجوادی پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹرک سے متاثرہ کے خاندان کا حادثہ ہوا وہ ایس پی لیڈر کا تھا۔ کانگریس نے یوگی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے ریاست کے معاملہ کو لوک سبھا میں اٹھایا ہے ۔ اپوزیشن ملک کو گمراہ کر رہا ہے ۔ مسٹر داداراؤنے کہا کہ بل میں نقلی اور ناقص مصنوعات بنانے اور بیچنے والوں کے ساتھ غلط پروپیگنڈے میں حصہ لینے والوں پر بھی پابندی لگانے کی تجویز ہے ۔ اس کے لئے مرکزی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے ۔
اس کے تحت اگر کوئی مشہور شخصیت گمراہ کن اشتہار میں حصہ لیتا ہے تو اس پر پابندی عائد کرنے اور سخت قدم اٹھانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ کنزیومر پروٹیکشن بل میں بہت سے نئے التزام کئے جا رہے ہیں، جو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں۔ بل میں صارفین کے مفادات کے تحفظ کا قانون ہے ۔ اس میں پہلا، مصنوعات اور سروس سے صارفین کی زندگی اور جائیداد کے لئے پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ کرنا ہے . جبکہ دوسرا مصنوعات اور سروس کے معیار، مقدار، اثرات، درستگی، معیار اور قیمت کے بارے میں معلومات دینا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے راجندر اگروال نے بل پر بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ یہ بل عام صارفین سے منسلک بل ہے ، اس لئے اسے منظور کرانے میں اپوزیشن پارٹیوں کی بھی مکمل حمایت ملنے کی امید ہے ۔ایک طویل میٹنگ کے بعد اسے پورے بل کے طور پر ایوان کے سامنے لایا گیا ہے ۔