کشمیری عوام اپنے یہاں منعقد ہونے والے انتخابات کی طرف زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں لیکن وہ گذشتہ ہفتے امریکی انتخابات اور ان کے نتائج پر قریبی نظر رکھے ہوئے تھے۔ کیا بزرگ اور کیا جوان،ہر کوئی گلوب کے دوسرے حصے میں ہونے والی انتخابی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے اپنے انداز سے گفتگو کررہا تھا۔ معلوم وجوہات کی بنا پرکشمیری عوام اپنے یہاں اس طرح کے ہرعمل سے بیزاری کی حد تک مایوس ہیں اور اُن کا اپنے سبھی جمہوری اداروں پر سے ہی اعتبار جیسے اُٹھ گیا ہے لیکن وہ دوسرے ممالک کے جمہوری معاملات میں کافی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ بے شمار نقائص کے باوجود جمہوریت اور جمہوری طرز حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کی کمی ہمارے یہاں بھی نہیں ہے۔یہاں کے اکثریتی عوام کے اس طرز عمل و طرز فکر سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ وہ بھی جمہوری اداروں کا استحکام چاہتے ہیں تاکہ فیصلہ سازی میں اُن کی بات، اُن کے جذبات اور اُن کے خیالات کی قدر ہو ۔ارباب حل و عقد میں کشمیریوں کی یہ بات نوٹ ہوئی ہو یا نہیں، لیکن کشمیری عوام کی سوچ جمہوری نہج پر ہی چل رہی ہے تاہم مسلسل دہائیوں کے تنازع نے اُنہیں مایوسیوں کے دلدل میں دھکیلا ہے۔مبصرین امریکی انتخابات میں کشمیریوں کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کررہے ہیں کہ وہ اس تنازع کو حل کرانے کیلئے امریکہ جیسے طاقتور اور با اثر ممالک کی مداخلت چاہتے ہیں جس نے یہاں کے عوام کو ہر سطح پر متاثر کر رکھا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں جو بائیڈن کی جیت کے خواہشمند تھے جس کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے برعکس ’’حقیقت پسند‘‘ ہیں۔ ایسا تاثر78سالہ بائیڈن کے اُن بیانات کے بعد پیدا ہوا ہے جو اُنہوں نے امریکہ کے عام ووٹران ،خاص کر اقلیتی فرقوں کے رائے دہندگان کے ساتھ بات چیت کے دوران دئے اور جن کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔حالانکہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ سابق صدر اوبامہ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا کشمیر مسئلے کا تذکرہ کرکے کشمیریوں کی اُمیدیں بڑھائی تھیں لیکن بعد میں وہ بھی کچھ کئے بغیر ہی وائٹ ہائوس سے رُخصت ہوگئے۔ بائیڈن بھی اوبامہ کی ہی پارٹی یعنی ڈیموکریٹ کے اُمیدوار تھے اور اوبامہ اپنے زمانے کے نائب صدر کیلئے جی جان سے الیکن مہم چلارہے تھے۔
اصل میں سٹیٹ (ملک) کو چلانے والے کردار بدل جاتے ہیں لیکن سٹیٹ کی پالیسیاں تبدیل ہونے کیلئے بڑی انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو غیر معمولی حالات میں ہی عمل میں آتی ہیں۔ فی الوقت امریکہ کوکسی ایسی غیر معمولی صورتحال کا سامنا نہیں ہے، اس لئے اُسے اپنی خارجی پالیسی تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نظر نہیں آرہی ہے۔البتہ حکمران شخصیات کے مزاج کا اثر ملک کی کارکردگی پر ضرور پڑتا ہے کیونکہ آج کی دنیا میں استعمال کی جانے والی اصطلاحات کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ کوئی ایسا شخص جو تقسیم در تقسیم پر یقین رکھتا ہو ، بلا کسی دوسرے خطے کے مسائل کے بارے میں کیوں سوچے؟اس کے برعکس جس کے نظریہ میںانسان کو اولیت ہو، اُس سے توقعات وابستہ ہونا ایک فطری عمل ہے۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کشمیری عوام کا ٹرمپ مخالف ہونا سمجھ میں آتا ہے ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ مسلسل شورش نے کشمیری عوام کو کچھ زیادہ ہی ’سیاسی‘ بنایا ہے اور وہ اب عالمی حالات میں بھی گہری دلچسپی لینے لگے ہیں جو کہ ایک مثبت نشانی ہے۔اُن کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے اثر سے اُن کا خطہ نہیں بچ سکتا ہے جو کافی حد تک صحیح ہے،اور ہاں، عالمی سطح کی تبدیلیاں شخصیات ہی رونما کرتی ہیں۔ اس لئے بھی امریکہ جیسے با اثر ملک کے انتخابات میں کشمیریوں کی دلچسپی کوئی حیران کرنے والی بات نہیں ہے البتہ ان انتخابات کے نتائج کے ساتھ حد سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
ادارے مستحکم ہوں اور ان اداروں کے کل پُرزے دیانتداری اور پیشہ ورانہ طریقے پر کام کرنے کے عادی ہوں تو افراد کی من مانیاں ملک پر اثر انداز نہیں ہوتی ہیں۔یہ وہ حقیقت ہے جو امریکہ میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات کے دوران نمایاں طور پر ثابت ہوگئی۔صدر ٹرمپ باربار ووٹوں کی گنتی روکنے کی اپیلیں کرتے رہے تاکہ کسی بہانے اُن کے وائٹ ہائوس میں موجود رہنے کی راہ نکل آتی لیکن اس کام میں مشغول اہلکاروں و افسروں نے ایسی کسی اپیل کو خاطر میں نہ لاکر اپنا کام انتہائی دیانتداری کے ساتھ جاری رکھا یہاں تک کہ عدلیہ نے بھی آزادانہ طرز عمل اختیار کرکے جمہوریت کی مٹی کومزید پلید ہونے سے بچالیا۔ووٹ شماری اور متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف افسران و اہلکاروں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اُس کام کو مکمل کرکے ہی رہیں گے جس کیلئے اُنہیں متعین کیا گیا ہے۔
امریکہ میں صدر اور نائب صدر کا انتخاب الیکشن کے ایک بلواسطہ طریقے سے عمل میں لایا جاتا ہے۔امریکہ کی پچاس ریاستوں میں کہیں بھی یا واشنگٹن ڈی سی کے اندر رجسٹر ووٹر صدر یا نائب صدر کے انتخاب کیلئے براہ راست ووٹ نہیں ڈالتے بلکہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے الیکٹورل کالیج کا انتخاب کرتے ہیں۔الیکٹورل کا لیج کے منتخب ممبران ہی بعد ازاں صدر اور نائب صدر کا انتخاب عمل میں لاتے ہیں اور ان کی رائے کو الیکٹورل ووٹ کہا جاتا ہے۔صدر اور نائب صدر کیلئے اُمیدوار کا انتخاب انہی الیکٹورل ووٹوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔مجموعی طور پر538الیکٹورل ووٹوں میں سے جو اُمیدوار270الیکٹورل ووٹ حاصل کرتا ہے اُسے کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔اگر کسی وجہ سے کوئی بھی اُمیدوار 270کے جادوئی ہندسے کو نہیں پاتا ہے تو اُس صورت میں ایوان نمائندگان صدر کا انتخاب عمل لانے کا اختیار رکھتا ہے۔اب اگر نائب صدر کے انتخاب کیلئے بھی کوئی اُمیدوار مطلوبہ الیکٹورل ووٹ حاصل نہیں کرتا ہے تو نائب صدر کے انتخاب کا اختیار سینٹ کو منتقل ہوتا ہے۔امریکہ میں صدر اور نائب صدر کے انتخاب کیلئے ہر چار سال بعد ووٹ ڈالنے کا ایک دن مقرر ہے اور وہ یکم نومبر کے بعد آنے والی پہلی منگل ہے۔بعد ازاں 12دسمبر کے بعدپہلی پیر کو الیکٹورل کالیج کے الیکٹور ماہ جنوری کے ابتدائی ایام میں نتائج پر مہر ثبت کرتے ہیں اور 20جنوری سے آئینی طور نئے صدر کی مدت کار شروع ہوتی ہے۔
موجودہ نظام جمہوریت کے بانیوں کی روایت رہی ہے کہ وہ اکثر انتخابی نتائج کو قبول کرکے منتخب افراد کو کام کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کرتے ہیں۔وہ حکومت مخالف مظاہرے کرتے ہیں لیکن وہ اپنی منتخب حکومتوں کا تختہ پلٹنے کے عادی نہیں ہیں اور اُن کے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے بھی مخصوص مطالبات منوانے کے بعد ختم ہوتے ہیں یا وہ اپنی ناراضگی ظاہر کرنے تک محدود ہوتے ہیں۔ممبران کی خرید و فروخت کے واقعات اُن کے ہاں شاذ ہی پیش آتے ہیں اور وہ دل بدلی پر بھی زیادہ یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ دنیا پر حکمرانی کیلئے اپنے حکومتی ایوانوں کے اندر دنیا بھر کے اہم مسائل پر بحث و تمحیص کرتے ہیں اور باقی ماندہ دنیا اُنہیں بڑے شوق سے سنتی ہے بلکہ اُن سے اُمیدیں بھی بنائے رہتی ہے۔
امریکہ میں دو پارٹی نظام رائج ہے ۔یعنی وہاں کی سیاسی سرگرمیاں ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلیکن پارٹی نام کی محض دو سیاسی پارٹیوں تک محدود ہیں۔1856سے انہی دو پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے صدور اور نائب صدور نے ملک کی بھاگ ڈور سنبھالی ہے۔دو پارٹی نظام اب مغرب میں کافی مقبول ہوتا جارہا ہے یہاں تک کہ انگلستان، جہاں سے بھارت اور پاکستان نے پارلیمانی جمہوری نظام اپنالیا ہے، میں بھی اب سیاسی سرگرمیاں کنزرویٹیو پارٹی اورلیبر پارٹی تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایسا ہی دو پارٹی نظام آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی رائج ہے۔
جمہوری نظام حکمرانی کے اگر چہ ماہرین کے سامنے بہت سارے عیوب ہیں تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جدید دنیا کے اندر اسی نظام کا طوطی بول رہا ہے۔جمہوریت کا مطلب عام فہم زبان میں ایک ایسا نظام حکمرانی ہے جس میں عوام کی رائے کا احترام ہو اور یہی اولیت رکھتی ہو۔ لیکن عوام کی رائے عام ہی ہوتی ہے اس لئے وہ حکمرانوں کا انتخاب کرتے وقت بھی اپنی اسی سوچ کو بروئے کار لاتے ہیں۔ وہ میدان سیاست کے شاطر کھلاڑیوں کے دائو پیچ سے بھی زیادہ واقفیت نہیں رکھتے ہیں، اسی لئے اکثر جذبات کی رو میں بہہ کر ہی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔کئی ماہرین عام لوگوں کی اسی عام سوچ کو جمہوریت کی نمایاں عیب قرار دیتے ہوئے مانتے ہیں کہ بعض سیاست دان جمہوری طرز سے مسند اقتدار تک پہنچ کر ملکی پالیسی سے متعلق خاص فیصلوں کو لیکر حساس نہیں ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ملک کے اندر نفرت جڑ پکڑ کر افرا تفری کا ماحول قائم ہوتا ہے اور ساتھ ہی دنیا میں بد امنی اور عدم تحفظ رائج ہوتا ہے۔ماہرین ایسے موقع پرست اور خود غرض سیاست دانوں کی سرگرمیوں کو ’جمہوری تماشہ‘ قرار دیتے ہوئے یہاں تک مانتے ہیں کہ جمہوری اداروں کا نہ پنپنا بھی اقتدار پرست سیاست دانوں کی سیاست کاری کا نتیجہ ہوتا ہے اور دنیا کے بیشتر مسائل بھی اسی سیاست کاری کے نتیجے میںحل سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔
بہر کیف امریکی انتخابات مکمل ہوچکے ہیں۔بائیڈن کا صدر بننا اب طے ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ بائیڈن امریکہ کی موجودہ شبیہ کو سدھارنے میں کس حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں اور اس سدھار کے راستے کیا کشمیریوں کا کوئی بھلا ہوسکتا ہے ،یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم ایک بات طے ہے کہ بائیڈن ہندوپاک کے درمیان متوازن تعلقات پر ہی زور دیں گے اور اُن کی کوشش رہے گی کہ چین کے ساتھ بھی معاملات قدرے بہتر ہوں۔اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بائیڈن انتظامیہ کوئی رول ادا کرتی ہے تو اس کا یقینی طور پر فائدہ کشمیری عوام کو مل سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی کسی پیش رفت کے نتیجہ میں اعتماد سازی کے اقدامات کا اٹھایا جانا ناگزیر بن جائے گا اور اُنہی اقدامات کے طفیل اگر کشمیری عوام کو کوئی راحت نصیب ہوتی ہے تو وہ بڑی بات ہوگی ۔باقی امریکہ کشمیر مسئلہ حل کروائے گا،اس طرح کی کوئی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیںہوسکتا ہے۔