بلا شبہ اس دنیا میں کئی تبدیلیاں لائی نہیں جاتیں بلکہ وہ از خود وقوع پذیر ہوجاتی ہیں۔یہ تبدیلیاں چھوٹی چھوٹی باتوں سے متعلق نہیں ہوتیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے پیدا ہوجاتی ہیں۔گویا’تبدیلی ‘کھاد اور کوڑے کے اْس بدبو دار ڈھیر کی طرح ہوتی ہے جو بعض اوقات زرخیز زمین بھسم کر تی ہے اور بعض اوقات اس سے اعلیٰ قسم کے پھول اورصحت بخش سبزیاں بھی کھلتی ہیں۔حال میں رونما ہونے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو دنیا میں ایسی کئی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی رہیںکہ جن کا پہلے سے ہم میں شان و گمان بھی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں! یہ فطری امر ہے کہ ہم ہمیشہ اْس تبدیلی کے متمنی رہتے ہیں،جس میں ضرورت کی چیز صرف اْس کو ملے جس کو اس کی ضرورت ہے۔لیکن ایسا نہیں ہوتاکیونکہ بڑی بڑی سوسائٹیاں اور بڑے بڑے لوگ ضرورت مندوں کو صبر و تحمل کی تلقین اور تبلیغ سے ان کی تبدیلی کے جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہیںاور خود بے خوف و خطر اْن کا خون چوستے رہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ انسان اپنی ذہنی یکسوئی برقرار رکھنے پر بدستور قادر نہیں رہتا ،جبکہ ذہنی یکسوئی ہی انسانی زندگی کی تمام طاقتوں کو مرکوز کرکے ذہنی تبدیلی پیدا کرتی ہے اور یہی تبدیلی بڑے بڑے انقلابات وقوع پذیر ہونے کا سبب بنتی ہے۔عرب، اسرائیل اور امریکہ دوستی،ایران، پاکستان ،روس وترکی کاملاپ،بھارت کی پاک ، چین دشمنی جیسی تبدیلیاںبھی وقوع پذیر ہوچکی ہیں اور اب دیکھنا باقی ہے کہ یہ تبدیلیاںغیر معمولی ثابت ہوکرکوئی نیا انقلاب لاسکتی ہے یا نہیں! خیر۔۔۔۔!!
امریکہ کے حالیہ صدارتی الیکشن کو ہی لے لیجئے جو ایک متوازن سوچ و متحمل مزاج شائستہ شخصیت جوبائیڈن اور ایک متلون مزاج وغیر مہذب شخصیت ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان معرکہ تھا، جس میں امریکی عوام نے جوبائیڈن کو فتح سے ہمکنار کیا جو آئندہ سال 20جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے؟ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ ابھی تک اپنی شکست قبول نہیںکرتے ہیں اورانتخابات میںدھاندلی کا الزام لگاکر اگلے چار سال تک خود کو ملک کا صدر جتلا تے ہیں، جس سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوچکی ہے جو نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لئے تباہی کا پیش خیمہ بت ہوسکتی ہے۔امریکی قوانین کے مطابق ڈونلڈٹرمپ چونکہ جنوری کی بیس تاریخ تک بدستورصدارتی اختیارات کے مالکِ مختار ہیں۔کہیں وہ ان کا غلط استعمال کرنے تو نہیں جارہے ہیںکیونکہ انہوں نے اپنی متلون مزاجی کے تحت انتہائی عجلت میں ملک کے تمام تر اہم شعبوں جن میں خاص طور دفاعی امورات کا شعبہ بھی شامل ہے،میں پھیر بدل کر کے اپنے ہم نوا اور ہم مزاج افراد میں تفویض کردئے ہیںتاکہ کسی بھی وقت اور کسی بھی مرحلے میں وہ تمام شعبے بلا کسی کھڑکے اْس کے احکامات بجا لاسکیں۔چنانچہ وسطی اور جنوبی ریاستوں کے سفید فام امریکی جنہیں رنگداروں کے ڈیموگرافک دبائواور روزگار میں مسابقت کا سامنا ہے ، اپنے طرز زندگی میں تبدیلی کے خطرات سے خائف ہیں ،اس لئے وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی شکست پر افسردہ اور غصے میں ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ہار کے باوجود ان کی حمایت میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کرکے دنگے و فسادکررہے ہیںاور اگلے چار سال تک ٹرمپ کوامریکی صدر کی حیثیت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں گوروں کا حق حکمرانی ابھی تک قائم ہے اور جہاں کہیںوہ رنگداروں کو شریک اقتدار کر رہے ہیںوہاں وہ اِسے مجبوری تصور کرتے ہیں۔ گویا رنگ و نسل ،اونچ نیچ ،انّا پرستی اور ہٹ دھرمی کے گردآب میں یہ امریکی گورے محض اپنے مفادات و مقاصد کے لئے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پرجانبدانہ طرز عمل کے تحت بذات ِ خود کام کرنے پر تْلے ہیں۔جس سے یہ خدشہ اْبھر کر سامنے آتا ہے کہ آنے والے ان دو مہینوں کے دوران جہاں امریکہ میں بڑے پیمانے پر اندورونی بغاوت کا خطرہ لاحق ہے وہیں ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے نظریاتی جنون کے تحت حریف ملکوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں مہلک ہتھیاروں کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں۔جبکہ یہ بھی باور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے منظور ِ نظر اْن ملکوںاور اْن کے دشمنوں کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا ہے۔جن میں عرب ،اسرائیل ،ایران،ترکی،بھارت، پاکستان اورچین جیسے ممالک قابلِ ذکر ہیں۔ شکست خوردہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں ہر حلقے میںیہ بات زبان زد عام ہے کہ وہ انتہائی متلون مزاج ،انّا پرست اور ضدی شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اس لئے یہ خدشہ بڑھتا جارہا ہے کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘کے مصداق کہیں وہ دنیا کے لئے تباہی کا موجب تو بنیں گے اور آغازاسرائیل ایران اور ہند و پاک کے مابین جنگ سے کریں گے۔
اب اگر امریکی صدارتی الیکشن میں جیتنے والے جو بائیڈن کا ذکر کیا جائے تو جہاں اْن کی زندگی حادثات سے بھری پڑی ہے۔وہیں الیکشن میں اْن کی ذاتی زندگی کے صبر آزما سانحات کے دوران ثابت قدمی اور نرم دلی نے اْن کی کافی مدد کی ہے۔ ٹرمپ کے سخت لہجے کے مقابلے میں وہ دھیمے لہجے والی شخصیت ہیں جو عالمی سطح پر امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتی ہے اور تنازعات کے حل کیلئے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتی ہے جبکہ وہ ٹرمپ کے اسلام مخالف رویے کے برعکس مسلمانوں کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ، جو مودی اورسلمان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، کی شکست سے رنجدہ ہیںجبکہ بھارت اور عرب مارات میں بھی مایوسی چھا ئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے بھی کئی باراپنے بیانوں میں یقین دلایا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ہندو پاک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ مگرٹرمپ مسئلہ کشمیر کے تئیں ثالثی تو نہ کرسکے البتہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی مسخ کر کے رکھ دی ہے۔ ویسے بھی ماضی قریب میں امریکیوں نے ایسا کوئی صدارتی انتخاب نہیں دیکھا ہوگا جیسا انہوں نے حالیہ انتخاب یعنی 2020ء میں دیکھا ہے۔اسی طرح پوری دنیا نے بھی کبھی اس فکرمندی کے ساتھ امریکا میں جاری سیاسی کشیدگی، تلخ بیانات کے تبادلے اور قانونی جنگوں پر توجہ نہیں دی تھی، جو اس بار دیکھنے کو ملی ہے اور جس نے ان انتخابات کو ہنگامہ آرائی کا شکار کیے رکھا۔میدانِ جنگ سمجھی جانے والی امریکی ریاستوں میں دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان موجود ووٹوں کے معمولی فرق کی وجہ سے انتخاب کے دس دن بعد بھی امریکی عوام تنائو کا شکار ہیںاور تا حال ایک غیر یقینی صورت حال کی کیفیت میں پڑے ہوئے ہیں۔اس بار امریکی عوام نے ایک ایسے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کو صدر منتخب کیا ہے جسے اس اہمیت کی وجہ سے امریکیوں کی ’زندگی کا اہم ترین انتخاب‘ قرار دیا جارہا تھا اور جس کے نتیجے کو ’آئندہ دہائی پر اثر انداز ہونے والا‘ نتیجہ کہا جارہا تھا۔جو بائیڈن کا انتخاب امریکا اور اس کے باہر بھی لوگوں کے لیے راحت کا باعث سمجھا جارہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کے لیے اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وائٹ ہائوس کا یہ نیا مکین امریکی خارجہ پالیسی کو دوبارہ ٹرمپ سے پہلے کے دور میں لے جائے گا؟آغاز میں تو جو بائیڈن کو مقامی مسائل سے زبردست نبردآزما ہونا پڑے گا کیونکہ امریکا میں اس وقت بھی کورونا نے سنگین صورت اختیار کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی تقسیم اور نسلی تعصب کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔جو بائیڈن کے لئے امریکی کانگریس کے انتخابات کا نتیجہ بھی ایک چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ سینیٹ میں ابھی سے ری پبلکن جماعت کی اکثریت نظر آرہی ہے۔ بائیڈن کو ایک حکومت مخالف سینیٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ٹرمپ کو 2016ء کے مقابلے زیادہ ووٹ ملنا اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ ازم کی حمایت اب بھی برقرار ہے۔اس وجہ سے جہاں داخلی معاملات بائیڈن کی مستقل توجہ کے متقاضی ہوں گےوہیں دنیا کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی سمت کو درست کرنا بھی ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں خارجہ پالیسی ایک ایسی چیز ہے جہاں بائیڈن نسبتاً آزادی سے کام کرسکتے ہیںکیونکہ جو بائیڈن کو خارجہ امور کا بہت وسیع تجربہ ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بارک اوباما کے ساتھ نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کو نقصان پہنچانے والی ٹرمپ کی پالیسیوں کے برخلاف بائیڈن خارجہ پالیسی کے لیے ایک روایتی راستہ اختیار کریں گے۔واضح طور پر ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیوں کے 4 برسوں نے دنیا اور عالمی نظام پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کی وجہ سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس کا اثر و رسوخ کم ہوگیا ہے جبکہ اس کی سافٹ پاور میں بھی مدھم پڑی ہے۔یاد رہے کہ افغانستان اور وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں جو بائیڈن کے خیالات ٹرمپ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔ وہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے ناقد رہے ہیں۔ بائیڈن نے بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی پاسداری اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسے مضبوط کرنے پر راضی ہو تو وہ اس معاہدے کو دوبارہ فعال کریں گے۔تاہم سعودی عرب پر بائیڈن کی تنقید کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ اس خطے کے حوالے سے بائیڈن کی پالیسی کیا ہوگی۔ جہاں تک اسرائیل کا سوال ہے تو اسرائیل کے حوالے سے امریکا کی ایک ہی پالیسی چلتی آرہی ہے اور آئندہ بھی اس پالیسی کے تحت امریکا اسرائیل کی حمایت جاری رہنے کا امکان ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج امریکا اور چین کے تعلقات ہوں گے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے اثرات صرف ان 2 ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ ٹرمپ نے چین سے تعلقات کو اپنی محاذ آرائی کی پالیسی کی وجہ سے سخت دشمنی میں تبدیل کردیا تھا۔ امریکا میں چین مخالف خیالات کی وجہ سے ممکن ہے کہ بائیڈن بھی اس حوالے سخت پالیسی ہی اختیار کریںلیکن ٹرمپ کے برخلاف بائیڈن کم جارحانہ پالیسی اپنائیں گے اور چین کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ وہ موسمی تغیر جیسے عالمی مسائل پر اشتراک عمل کی بھی کوشش کریں گے۔الغرض کہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج،ٹرمپ کی ہٹ دھرمی اور جوبائیڈن کے انتخاب سے کیا کوئی نئی تبدیلی وقوع پذیر ہو گی جو کسی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یہ دیکھنے والی چیز ہے۔