باکو//عالمی طاقتوں کی اپیل کے باوجود آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورونو کاراباخ کے تنازع پر جاری جھڑپوں کے دوران شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد امریکہ، فرانس اور روس نے ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں سے غیر مشروط جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔کاباراخ کی علیحدگی پسند فورسز کا کہنا ہے کہ دارالحکومت اسٹیپاناکرٹ میں آذربائیجان کی جانب سے دوبارہ بھاری ہتھیاروں سے گولے باری کی جا رہی ہے۔دوسری جانب آذربائیجان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی فورسز شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں اور ملک کے دوسرے بڑے شہر گانجا پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے کے اقدام نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ستائیس ستمبر سے جاری ان جھڑپوں میں اب تک 260 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔پیر کی شب امریکہ، روس اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جھڑپوں کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملک فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی پر عمل درآمد کریں۔تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ کشیدگی میں اضافہ اور مبینہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور یہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر غیر مشروط جنگ بندی کی پیش کش کو قبول کریں۔آذربائیجان اور آرمینیا نے اب تک جنگ بندی پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔اس سے قبل کاراباخ کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ انہوں نے جنگی حکمتِ عملی کے تحت اپنے جنگجوؤں کو لڑائی کے مقام سے پیچھے بلا لیا ہے جب کہ آذربائیجان نے دعویٰ کیا ہے کہ علیحدگی پسند فوجی اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے آرمینین وزیرِ اعظم نکول پشنیان سے رابطہ کیا اور تنازع پر بات چیت کی۔دونوں رہنماؤں نے جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں پر تشویش اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔