۔ 2018میں 446 اور 2021میں صرف 83نوزائد بچے فوت : میڈیکل سپر انٹنڈنٹ
سرینگر //لل دید اسپتال سرینگر میں طبی سہولیات میں بہتری کی وجہ سے پچھلے تین سال کے دوران نوزائید بچوں کی اموات میں 12.15فیصد کمی ہوئی ہے۔ لل دید اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2017میں فوت ہونے والے نوزائد بچوں کی شرح 18.84فیصدتھی جبکہ سال 2021میں یہ کم ہوکر 6.69فیصد رہ گئی ہے۔ لل دید اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شبیر احمد صدیقی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ایک ماہ کے دوران لل دید اسپتال میں 2100سے 2400بچوں کا جنم ہوتا ہے جن میں 250سے 300بچے مختلف بیماریوں کے شکار ہوتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ نوزائد بچوں میں زیادہ تعداد مقررہ مدت سے پہلے جنم لینے والے اور کم وزن کے بچے شامل ہوتے ہیں اور اس لئے ان بچوں کو جلد ہی انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں منتقل کرنا پڑتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ 24گھنٹوں کے دوران زچگی کیلئے داخل ہونے والے 10سے 20خواتین سے جنم لینے والے 6سے 7بچے مقررہ مدت سے قبل ہی جنم لیتے ہیں یا ان میں وزن کی کمی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم وزن والے نوزائد بچوں کا وزن1.2 سے1.3کلو گرام ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شبیر نے بتایا ’’ سال 2017-18میں مرنیوالے نوزائدبچوں کی تعداد 446 تھی، سال 2018-19میں کم ہوکر 393 ہوئی، سال 2019-20میں اس میں مزید کمی ہوئی اور یہ183 رہ گئی،جبکہ سال0-21 202میں مرنیوالے نوزائدبچوں کی تعدادکم ہوکر135تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2021-22میں ستمبر مہینے کے آخرتک صرف 83بچوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر شبیر صدیقی نے بتایا کہ لل دید اسپتالوں میں نوزائد بچوں کی اموات کو روکنے کیلئے نہ صرف زچگی کے ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا بلکہ ماہانہ میٹنگوں میں نوزائد بچوں اور حاملہ خواتین کی اموات کا جائزہ لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ شعبہ ایمرجنسی اور آئی سی یو میں تمام سہولیات کی دستیابی خاصکر وینٹی لیٹروں کو 24گھنٹے بغیر کسی خلل کے جاری رکھنے پر بھی خاصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں 4بستروں پر مشتمل آئی سی یو اور 8ایچ ڈی یو دستیاب ہیں اور اس کی وجہ سے نہ صرف حاملہ خواتین کے اموات میں کمی آئی ہیں بلکہ نوزائد بچوں کی اموت کو کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔