گزشتہ سال اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال پہلی مرتبہ 31؍اگست کوتل ابیب سے اسرائیل کی سرکاریEL ALکا طیارہ ابو ظہبی میں اترا۔ اس سال جنوری میں ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے نے باضابطہ کام کرنا شروع کردیا اور اس کے کچھ عرصہ بعد ہی یو اے ای کی وزاتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے اسرائیل کا دورہ بھی کیااور وہاں امارات کا سفارتخانہ قائم کرنے کے سلسلے میںاسرائیلی حکام سے بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں، خصوصاً عرب امارات میں کچھ ایسی چیزیں رونما ہورہی ہیں، جو اس سے پہلے امارات میں تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھیں۔
گزشتہ ستمبر میں جاری ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق،امارات کے تمام ہوٹلوں کو کوشر (Kosher) غذا کی فراہمی کے لئے نہ صرف سرٹیفکٹ حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے بلکہ اس کی تیاری کے لئے ان کے باورچی خانوں میں ایک علٰحیدہ جگہ بھی مختص کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ابو ظہبی میں محکمہ ثقافت و سیاحت کی جانب سے گاہکوں کو کوشرغذا پیشکش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ سرکولر میںہوٹلوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کوشرغذا کو اپنے مینو میں شامل کریں اور ساتھ ہی کوشر غذاکے لئے مخصوص نشان اس کے حاصل کردہ سرٹیفکٹ کے ساتھ ریسٹورینٹ میںنمایاں جگہ لگایا جائے۔
دبئی جو کئی برسوں سے خلیج کے ایک بڑے سیاحتی مرکز کے طور پر ابھرا ہے،اسے اسرائیلی سیاحوں کے استقبال کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پروازوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے دونوں حکومتیں سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو سہولیات مہیا کرانے کے لئے اقدامات کررہی ہیں۔اس کے لیے امارات میں یہودی کوشر غذا مہیا کرانے کا کام سرِ فہرست ہے۔ ال ہبتور گروپ پہلا ہوٹل گروپ ہے جس نے ایلی کوشر کچن کے تعاون سے اپنے مہمانوں کے لئے کوشر غذا متعارف کروائی ہے۔دبئی کے کئی ممتاز اور مہنگے ہوٹلوں کے کھانے کے مینوز میںاب کوشر غذا دستیاب ہے۔گذشتہ سال تک دبئی میں امارات مال کا دورہ کرنے والوں کوفوڈ پلازہ میں محدود کوشرکھانا دستیاب تھا،لیکن اب اس چھوٹے سے ادارے نے اپنی کوششوں کو وسعت دی ہے اور اس غذا کے چاہنے والوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ رونما ہورہا ہے۔
یو اے ای میں یہودی
اس بات کا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ وہ علاقہ جہاں یو اے ای کی سات امارات وجود میں آئیں، وہاں کبھی یہودی بھی مقیم ہواکرتے تھے۔12ویں صدی میں یہودی اسپین تک پہنچ گئے تھے،ربی بنجامن آف توڈیلا نے مشرق وسطی کا ایک دہے طویل دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے یہاں رہنے والے یہودیوں سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے راس ال خیمہ کا دورہ کیا تھا جو آج یو اے ای کی اماراتوں میں سے ایک ہے اور جو ملک میں آباد علاقہ کی حیثیت سے ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔یہاں یہودیوں نے ان کا استقبال کس نامی علاقہ میں کیا تھا جہاں وہ رہتے تھے۔اگرچہ اب یہاں ان یہودیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا ہے جو کبھی یہاں رہتے تھے،لیکن ربی توڈیلا کے خطہ عرب کا ریکارڈ ابھی بھی موجود ہے جس کے مطابق ماضی میںبڑی تعداد میں یہودی نژاد قبیلے اس جگہ مقیم ہوا کرتے تھے۔
برسوں سے یہودیوں کو یو اے ای آنے سے روکاجاتا تھا اور غیر اسرائیلی یہودی بھی امارات کا دورہ کرکے خوشی محسوس نہیں کرتے تھے۔تاہم جب سے یو اے ای نے اپنے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینا شروع کی،اس نے مدد کے لئے خاموشی سے چند یہودی سائنس دانوں سے رجوع کیا۔تاریخ دان جوڈتھ فریڈ مین نے ٹائمز آف اسرائیل کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کے والد گیرالڈ فریڈ مین ایک جرمن یہودی تھے۔وہ اسرائیل منتقل ہوئے اور پٹرولیم تلاش کرنے کے ماہر بن گئے ۔یو ای اے کی جانب سے اسرائیلیوں پر رسمی پابندی کے باجود فریڈ مین کو امارات میں پٹرولیم تحقیق کرنے کا موقع دیا گیا۔روز کا کہنا ہے کہ وہ واحدیہودی نہیں تھے،جنھیں یو اے ای نے خاموشی کے ساتھ اپنے یہاں مختلف شعبوں جیسے زراعت،زرعی معیشت اور پانی کے وسائل کو وسعت دینے کے لیے اپنے یہاںمدعو کیا تھا۔
یہودی برادری کی تعداد میں اضافہ
کئی برسوں سے اسٹیفن اور دوسرے یہودی جو ابو ظہبی میں مقیم تھے اب اپنی عبادت کے لیے ایک مکان حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔2005ء میں انھوں نے ایک مکان کرایہ پر حاصل کیا اور اس کو غیر سرکاری کیسہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) میں تبدیل کردیا۔اس مکان میں ایک کمرہ عباد ت کے لئے مختص کردیا گیا، ایک کوشر کچن کے طور پر مخصوص کردیا گیا اور چند کمرے یہودیوں کے قیام کے لئے مختص کردیے گئے۔جو یو اے ای کے مختلف علاقوں سے شبط اور دیگرمذہبی تہواروں میں شامل ہونے کے لیے وہاں آتے ہیں۔تاہم یہودیوں نے اپنی عمارت پر کوئی نشانی نہیں لگائی ہے اور اپنی سرگرمیاں خاموشی سے انجام دیتے ہیں کہ کسی کو اس کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ اس مکان میں یہودی مذہبی ارکان ادا کیے جاتے ہیں۔اگرچہ کہ حالیہ برسوں میں ان یہودیوں میں اور زیادہ اعتماد پیدا ہوا ہے اور وہ اب اپنی سرگرمیوں کواسلامی یو اے ای میں کسی خوف وخطر کے بغیر انجام دے رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں یو اے ای میں پہلے چیف ربی کا تقرر کیا گیا۔حکومت نے ربی یہودا سرنا کو یہ خطاب دیا جودبئی میں نیویارک یونیورسٹی کے برونف مین سنٹر فار جیوش اسٹوڈینٹ کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر بھی ہیں۔نیویارک یونیورسٹی میں یہودیوں کے لیڈر کی حیثیت سے ربی سرنا پہلے شخص ہیں جن کو 2010ء میں یو اے ای کے دورہ کے لئے مدعو کیا گیا، جب ان کی یونیورسٹی نے یہاں اپنی شاخ قائم کی۔ربی سرنا کے یو اے ای کے چیف ربی کی حیثیت سے فرائض میں ہر سال کئی مرتبہ یو اے ای کا دورہ اور یہودیوں کی مدد کرنا شامل ہیں۔یہ ایک رضاکارانہ عہدہ ہے اور سرنا کا کہنا ہے کہ صدیوں کے بعد عرب دنیا میں یہودیوں کی آبادی پھیل رہی ہے۔
کوشر اور حلال غذا
’’کوشر‘‘اس غذا کو کہا جاتا ہے، جو یہودیوں کے عقائد کے مطابق سخت اصولوں پر عمل کرتے ہوئے تیار کی جاتی ہے۔ انگریزی لفظ’’کوشر‘‘کو ہبرو زبان کے لفظ’’کاشر‘‘ سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کھانے کے لئے ’’پاک، مناسب یا درست‘‘۔ غذا کے یہ قوانین یہ طے کرتے ہیں کہ کونسی غذا کس دوسرے کھانے کے ساتھ کھانی چاہئے اور ان کو کس طرح اگانا،تیار کرنا اور پیش کرناچاہیے۔ زیادہ تر یہودی کوشرغذاکو ایک صحت بخش یا محفوظ غذا تصورکرے ہیں۔ یہ مذہبی روایت یا طریقہ کی پاسدار بھی ہے۔کوشر کے لئے غذائی ہدایتوں میں کچھ اشیاء کو ملانا ممنوع ہے، خاص طور سے گوشت اور دودھ کی اشیاء ۔
کوشر کی روایت کے مطابق کوئی بھی غذا جو گوشت سے تیار کی جاتی ہے، اسے دودھ کے ساتھ تیار نہیں کیا جاسکتا ہے۔اور نہ ہی گوشت کو دودھ سے تیار اشیاء جیسے پنیر وغیرہ کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ جن برتنوں میں یہ پکائی جاتی ہے ان کو گوشت اور دودھ کی اشیاء پکانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جاتا ہے ۔
چونکہ یہودی اپنے مذہبی قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہیں اس لئے کئی مسلمان جن کو مغربی ممالک میں حلال غذاکی تلاش میں دشواری ہوتی ہے وہ کوشر پر انحصار کرتے ہیںاگر وہ وہاں دستیاب ہے۔ چند ایک کے مطابق یہ حلال بھی ہے۔
کوشر کے مطابق کسی بھی جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ اسلامی حلال طریقے سے مناسبت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کو اگر حلال گوشت ملنے میں دشواری ہے تو انھیں کوشر کے مطابق ذبح کیے گئے مویشی کا گوشت کھانے کی اجازت ہے۔
خطہ عرب میں کوشر کھانے کی کیٹرنگ کی تجارت پہلی مرتبہ ’ایلی کچن‘ کی جانب سے شروع کی گئی جو مئی 2010میںدبئی میں قائم ہوا تھا ۔ایلی کیرل کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے ،وہ 2013ء میں دبئی منتقل ہوئی تھیں جب ان کے شوہر نے یہاں ملازمت اختیار کی۔ اس نے دبئی آنے والے یہودی سیاحوں کے لیے کھانا فراہم کرنا شروع کیا اور اپنی اس تجارتی کاوش کو ’ایلی کچن‘ کا نام دیا۔ کیرل کے گاہکوں میں صرف یہودی ہی شامل نہیں ہیں،ان کا کہنا ہے کہ کوشر مذہبی مسلمان بھی کھاتے اور پسند کرتے ہیں۔گزشتہ سال ان کے کچن کی جانب سے مسلم گاہکوں کے لئے رمضان کے لئے خصوصی مینو تیار کیا گیا اور وہ ساتھ ہی تارکین وطن کے لئے بھی غذا مہیا کراتی ہیں۔
جس طریقے سے یو اے ای میں کوشر غذا کو فروغ دیا جارہا ہے، اسے روایتی ، سفارتی حلقوں میں ’سافٹ ڈپلومیسی‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ا س کا مطلب ہے کہ ان ثقافتی، مذہبی یا تعلیمی کاوشوں کے ذریعہ کسی ملک کے عوام کے درمیان اپنے ملک کی روایتوں کو بہت ہی نازک انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ جب وہ اس کے عادی بن جائیں تو اس کے ذریعے اپنے ملک کے دیگر مقاصد کو پورا کرنے کی مہم کی شروعات کی جاسکے۔
اب سے چند برس پہلے تک کسی اسلامی ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا لیکن بدلتے ہوئے عالمی سیاسی و معاشی حالات کے پیش نظر کئی اسلامی ملک ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یو اے ای اور سعودی عرب جیسے ممالک اسرائیل سے دفاعی ساز وسامان خریدنے کے علاوہ صحرا میںکاشتکاری کرنے کے طریقے اور پانی کو صاف کرنے کے طریقوں کے لیے اشتراک کررہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ آرٹیفیشیل انٹیلی جینس جیسے شعبوںمیں اسرائیلی مہارت حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ یہ کوششیں کس کے حق میں زیادہ رنگ لاتی ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
Email: [email protected]