ملک کی پانچ اسمبلیوں کے انتخابات کا عمل جاری ہے لیکن الیکشن کمیشن کی ساری توجہ مغربی بنگال کی طرف ہے۔ گزشتہ دنوںریاست کی چیف منسٹر اور ترنمول کا نگریس کی صدر ممتا بنرجی کے یہ کہنے پر کہ مسلمان بھائی اپنے ووٹ تقسیم نہ کریں ، الیکشن کمیشن نے ان کے اس بیان کو الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے نام ایک نوٹس جاری کردیا اور جب انہوں نے اس نوٹس کا جواب نہیں دیا تو الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی پر 24گھنٹے تک نتخابی مہم نہ چلانے کی پابندی عائد کردی۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام کہاں تک صحیح یا غلط ہے اس بحث میں گئے بغیر یہ سوال چیف الیکشن کمشنر سے کیا جاسکتا ہے کہ آیا اس قسم کی پابندیاں کیا دیگر سیاسی پارٹیوں کے قائدین پر بھی سابق میں لگائی گئیں۔ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ہندوستان کا دستور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ الیکشن کے مو قع پر کوئی بھی سیاسی پارٹی ، مذہب، ذات، زبان، علاقہ یا جنس وغیرہ کی بنیاد پر ووٹ ما نگے۔ الیکشن کے ضابطہ اخلاق میں بھی اس بات کو واضح انداز میں بیان کر دیا گیا کہ مذہب یا ذات کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی یا اس کے قائدین ان باتوں کا خیال نہیں رکھتے ہیں تو الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کر ے۔ لیکن کیا ہندوستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں سیاسی پارٹیوں نے مذہب یا ذات کا سہارا نہیں لیا ہے۔ یہ غلطی کیا صرف ممتا بنرجی سے سرزد ہوئی کہ انہوں نے راست طور پر ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں مخاطب کرتے ہوئے ان سے متحدہ انداز میں اپنے ووٹ استعمال کر نے کی تاکید کی۔ کیا اس سے پہلے کسی سیاسی قائد نے کسی طبقہ کو متحد ہو کر ووٹ ڈالنے کا مشورہ نہیں دیا۔
سارا ہندوستان جانتا ہے کہ اب ہندوستان میں الیکشن محض مذہب، ذات اور زبان کو بنیاد بنا کر ہی جیتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی جو کچھ بھی سیاسی ترقی ہوئی یہ سب مذہبی منافرت پھیلانے کا نتیجہ ہے۔ ہندوؤں کے جذبات کو ورغلا کر اقتدار پر قبضہ کر نے کا طریقہ تو بی جے پی ہی نے شروع کیا۔ ہر مرحلہ پر مذہب خطرہ میں ہے کا نعرہ دے کر اپنی سیاسی دکان سب سے پہلے بی جے پی نے ہی چمکائی۔ بعد میں دوسری پارٹیوں نے بھی اپنے آپ کو کسی مخصوص مذہب اور ذات سے جوڑنے کا دعوی کیا۔ لیکن شروعات تو بی جے پی نے ہی کی۔ اس وقت الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کیوں نہیں کی جب اسی بنگال میں لوک سبھا الیکشن کے موقع پردو سال پہلے کلکتہ میں بھاجپاکی انتخابی ریالی میں یہ نعرے گونج رہے تھے"دیش کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو۔"دہلی کے 2020کے اسمبلی الیکشن کے دوران یہی نعرہ وزیراعظم کی موجودگی میںلگایا گیا اس وقت کیوں ان ان لوگوں کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ کمال تو یہ ہے کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی مہم میں ہر روز بی جے پی کے قائدین کی زبانوں پر یہ نعرہ تھا کہ "مسلمانوں کے دو استھان،پاکستان یا شمشان " اسی طرح جھار کھنڈ اسمبلی الیکشن کی مہم میں بی جے پی کے نیتا جو زہر اگلنے میں شہرت رکھتے ہیں یہ کہا تھا کہ "جو نریندر مودی کو ووٹ نہیں دیتا ، وہ پاکستان چلا جائے " اور تو اور ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے دہلی کے الیکشن کی انتخابی مہم میں نفرت اور تعصب میں بھرا یہ جملہ کہا کہ "ای وی ایم کا بٹن اس زور سے دباؤ کہ شاہین باغ میں بجلی کا جھٹکا لگے" ۔یہ سب کیا الیکشن کمیشن کی نظروں سے اوجھل رہا ۔ اس وقت الیکشن کمیشن کے اس کے خلاف کیا کاروائی کی؟
سوال یہ ہے کہ آیا الیکشن کمیشن اپنے دستوری فرائض کی انجام دہی میں کس حد تک اپنی غیر جانبداری کا ثبوت دے رہا ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر انتخابی کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے رہے۔ گز شتہ دنوں آسام میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران ای وی ایم مشینوں کو لے کر جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے اس کا کوئی خاطر خواہ جواب الیکشن کمیشن کی جانب سے نہیں آیا۔ کس طرح ای وی ایم مشین ، کسی امیدوار کی کار میں پائے جا سکتے ہیں اور کس طرح جملہ ووٹوں سے بڑھ کر کسی پولنگ بوتھ پر رائے دہی ہو سکتی ہے۔ ممتا بنرجی کے خلاف جو کاروائی کی گئی ا س کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ممتا بنرجی کے الیکشن انچارج اور انتخابی نتائج کی پیش قیاسی میں کافی مہارت رکھنے والے تجزیہ نگار پرشانت کشور نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی 294رکنی اسمبلی میں 100حلقوں میں کا میابی حاصل نہیں کر سکے گی۔ اس پیش قیاسی نے شاید بی جے پی کے اوسان خطا کر دئے ہیں۔ مغربی بنگال کا الیکشن جیتنے کے لئے بی جے پی نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی، وزیر داخلہ امیت شاہ تو مغربی بنگال کی انتخابی مہم کے اسٹار کیمپنر ہیں لیکن ساری مرکزی مجلس وزراء کے وزیر، بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹرس اور پارٹی کاسارا کیڈر اس وقت بنگال کے مختلف علاقوں میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ ان سب کی پوری جدوجہد کا محور اور مرکز یہی ہے کہ کسی طرح ممتا بنرجی کو تیسری مرتبہ مغربی بنگال کا چیف منسٹر نہ بننے دیا جائے۔ اس لئے پور ی فوج دیدی کے خلاف اتاردی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ گودی میڈیا کا ساتھ لے لیا گیا ہے۔ وہ ہرآن ممتا بنرجی پر کوئی نہ کوئی حملہ کر نے میں لگا ہوا ہے۔ ممتا بنرجی نے جیسے ہی مسلمانوں کو متحد ہو کر ووٹ دینے کا مشورہ دیا گودی میڈیا کے ہاتھوں میں زبر دست ہتھیار آ گیا اور اب صبح و شام یہ پروپگنڈا شروع ہو گیا کہ دیکھئے کیسے مسلمانوں کی خوشامد کی جا رہی ہے۔ ہندوؤں کو کوئی پوچھ نہیں رہا ہے ہر ایک مسلمانوں کے ووٹوں کو لینے میں لگا ہوا۔ الیکشن کمیشن بھی اپنی جانبداری دکھاتا ہوا ایک مخصوص پارٹی کی کامیابی کے لئے فکر مند ہو گیا ہے۔ پہلے تو مغربی بنگال میں سات مرحلوں میں رائے دہی رکھ کر اس بات کی کوشش کی گئی کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کراس جماعت کی کا میابی کو یقینی بنایا جائے۔غیر ضروری طور پر خوف اور دہشت کا ماحول بھی پیدا کیا گیا۔ چار مسلمانوں اور ایک غیر مسلم کی جان بھی اس الیکشن کے دوران چلی گئی۔ ممتا بنرجی نے جب مرنے والوں کو پر سہ دینے کے لئے ان کے گاؤں جا نے کا ارادہ کیا تو الیکشن کمیشن نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔ خود ممتا بنرجی انتخابی مہم کے دوران زخمی ہو گئیں۔ انہوں نے وہیل چیر کے سہارے اپنی مہم چلائی۔ الیکشن کمیشن ریاست کی چیف منسٹر کو مناسب سیکورٹی فراہم کر نے میں ناکام ہو گیا۔ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ممتا بنرجی کسی حادثہ کا شکار نہیں ہوئی بلکہ ان پر جان لیوا حملہ ہوا ہے۔ یہ ایک گہری سازش تھی جو بی جے پی نے ممتا کے خلاف رچائی تھی۔ معا ملہ چاہے جو کچھ بھی ہو لیکن الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی پر کئے جانے والے شدید حملے کا بھی کوئی خاص نوٹ نہیں لیا۔ مسئلہ صرف ممتا بنرجی یا ان کی پارٹی ترنمول کی کامیابی کا نہیں ہے۔ اصل میں الیکشن کمیشن جس انداز میں حزبِ مخالف کے لیڈروں کو نوٹس دے کر ان سے وضاحت طلب کر تا ہے یا ان پر پابندیاں عائد کرتا ہے اس قسم کی قانونی کاروائی ساری پارٹیوں کے خلاف ہو نی چاہیئے۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے بر سر اقتدار پارٹی کو پوری چھوٹ دے دی اور اپوزیشن پر اپنا کوڑا کسا۔
ہندوستانی سیاست میں بی جے پی کو اب تک جو کچھ کامیابی ملتی رہی اس میں پارٹی کی فرقہ وارانہ سیاست کا بہت بڑا دخل ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ملک کی سیاست کو غلط رخ پر لے جانے کی پاداش میں بی جے پی کو کبھی لگام دینے کے بارے میں سنجیدگی سے کوئی کاروائی نہیں کی۔ بی جے پی نے ملکی سیاست میں اپنے اثر ورسوخ کو بڑھانے کے لئے سب سے پہلے بابری مسجد۔ رام مندر کی سیاست شروع کی۔ 90کے دہے تک جس پارٹی کے صرف دو ارکانِ پارلیمنٹ تھے ،آ خر کس طرح ہر الیکشن میں ان کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور اس کے لئے کیا کچھ حربے اختیار نہیں کئے گئے۔ مذہب کا غلط استعمال سب سے پہلے بی جے پی نے کیا اور اس کا راست فائدہ اسے آج تک حاصل ہو رہا ہے۔ رام مندر کی سیاست پر ہی راج سنگھاسن پر قبضہ کیا گیا۔ اس وقت الیکشن کمیشن نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ لینے والوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے نا اہل کیوں قرار نہیں دیا۔ 1992میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بی جے پی پر امتناع عائد کر دیا جانا تھا، کیوں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے 6؍دسمبر1992کو بابری مسجد کے شہادت کے واقعہ کو "کھلی غنڈہ گردی"سے تعبیر کیا تھا۔ لیکن افسوس کہ کئی سال بعد تحت کی ایک عدالت نے ان مجرمین کو بَری کر دیا اور ابھی چار دن پہلے خبر آئی کہ جس جج نے لال کشن اڈوانی، مرلی منوہر جو شی ، اور اومابھارتی کے علاوہ جن خاطیوں کو بابری مسجد کی شہادت کے معاملے میںکلین چِٹ دے دی انہیں اتر پردیش سرکار نے نائب لوک ایو کت بنا دیا۔ یہ عہدہ انہیں مجرموں کو آزاد کرنے کے عوض بطورِ انعام کے دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے جس چیف جسٹس نے بابری مسجد کے خلاف فیصلہ دیا وہ آج بی جے پی کے طفیل راجیہ سبھا کے رکن بنا دئے گئے۔ جب یہ سب ہو سکتا ہے اور ایک پارٹی صرف اور صرف مذہبی جذبات بھڑ کا کر ووٹ بٹورتی ہے تو اس وقت الیکشن کمیشن کی معنی خیز خاموشی کھل کر سامنے آ تی ہے۔ الیکشن کمیشن ، ایک دستوری ادارہ ہے۔ اس کا فرضِ منصبی ملک میں غیر جانبدار اور منصفانہ انداز میں الیکشن منعقد کرنا ہے اور ایسے لوگوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکنا ہے جو مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ منصفانہ الیکشن کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کو اپنی غیرجانبداری کو ہمیشہ ثابت کرنا ہوگا۔
فون نمبر۔91+9885210770
���������