نیوز ڈیسک
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور جموں و کشمیر کے انچارج ترون چْگ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی سیاسی زمین کھونے کو محسوس کرنے کے بعد مایوسی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ایک بیان میں ترون چْگ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے الیکشن پر الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا “ان کا یہ الزام کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا بی جے پی کی کٹھ پتلی بن گیا ہے، خالصتاً اس کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ جموں اور کشمیر میں جمہوری نظام میں اپنی پارٹی کے زوال سے واقف ہے”۔ان کا مزید کہنا تھا کہ “یہ سیاستدان ہمیشہ بائیکاٹ کی کالوں اور پراکسی ووٹرز پر سوار ہو کر جیتتے رہے ہیں، انہوں نے عوام کے جذبات کا غلط استعمال کیا ہے اور جب تک چیزیں ان کے منصوبوں کے مطابق چلیں، تب تک سب اچھا تھا۔اب جبکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ ان مکرو ہ چالوں پر جیت نہیں سکتے ہیں تو انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی دیانتداری پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔چگ نے محبوبہ سے مخاطب ہوکر کہا “آپ نے آج تک تمام سرکاری آسائشیں حاصل کی ہیں اور قانونی یا غیر قانونی طور پر ان سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن اپنے فائدے کے لیے ان اعلیٰ ترین اداروں کی سالمیت پر سوال اٹھانے سے کبھی نہیں ہچکچائیں ۔الیکشن کمیشن آف انڈیاایک غیر جانبدار ایجنسی ہے جو آزادانہ طور کام کررہا ہے اوراس کے کام کرنے کے انداز کو پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے‘‘۔لہٰذا، انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے بتائے ہوئے خطوط پر بولنا اور عمل کرنا چھوڑ دیں۔
الیکشن کمیشن پر حملہ محبوبہ مفتی کی مایوسی کا مظہر