این سی پر وعدوں سے مکرنے کا الزام، ریزرویشن معاملے پر احتجاج ہوگا
راجا ارشاد احمد
گاندربل //ممبر پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے جمعرات کو گاندربل میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس پارٹی پر اصولوں اور وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 2002 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں پارٹی قیادت کی طرف سے نیشنل کانفرنس کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔گاندربل کے تولہ مولہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ “وہ لاعلم ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ کون سا اجلاس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے تو میں اس کا مستقل رکن ہوں، 2002 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے مدعو نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا الگ سیاسی پلیٹ فارم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے ریزرویشن کے مسئلہ اور 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں پر نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنے اختلاف کا بھی اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے اسمبلی انتخابات میں لوگوں سے وعدے کیے تھے کہ ہم آرٹیکل 370 سے منسلک تحفظات کی واپسی کے لیے لڑیں گے۔ ہمیں اس پر ووٹ ملے۔ ہمیں پوری اکثریت ملنے کے بعد لوگوں سے کئے گئے وعدوں سے مکرنا نہیں تھا،” انہوں نے کہا۔بھرتی ریزرویشن کے معاملے پر روح اللہ نے کہا کہ طلبا تاخیر کی وجہ سے مواقع کھو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اگر یہ معاملہ آنے والے ایک ماہ کے بعد بھی حل نہ ہوا تو میں دوبارہ طلبا کے ساتھ احتجاج پر بیٹھوں گا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔کنگن میں انہدامی کاروائی پرانہوں کہا کہ” جس طرح یوپی میں بلڈوزر مہم کے دوران لوگوں کی ملکیتی جائدادیں منہدم کی گئی ویسے ہی کشمیر میں کس طرح ہوسکتی ہے ،یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے۔آغا روح اللہ نے کہا کہ ہم نے لوگوں سے کہا تھا کہ ان کے مسائل کو حل کریں گے ، بیروزگاری پر قابو پائیں گے ، ریزرویشن کا مسئلہ حل کریں گے ، بجلی کا بحران دور کریں گے ۔ مگر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم نے اپنے ہی سیاسی ایجنڈے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی۔ وقف ترمیمی بل پر بھی ہم نے وہ لڑائی نہیں لڑی جو ضروری تھی-ہم نے صرف وقت ضائع کیا۔نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری کے ان کے خلاف دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ چوہدری پہلے بی جے پی اور پی ڈی پی میں رہ چکے ہیں اور دو سال پہلے تک نیشنل کانفرنس کا حصہ ہی نہیں تھے ۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا:’جو لوگ کل تک پارٹی میں نہیں تھے وہ آج میرے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ میری سیاست اصولوں پر مبنی ہے ، کرسی کی سیاست نہیں۔’