اسلام آباد//جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ کوئی الحاق نہیں ہے اور مسئلہ کشمیر پہلے دو فریقی تھا جو بعد میں سہ فریقی اور پھر اقوام متحدہ کی صورت عالمی مسئلہ بن گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان سلامتی کونسل میں کشمیر کے الحاق سے دستبردار ہو چکا ہے،رائے شماری ہندوستان کا کشمیریوں ،پاکستان اور عالمی برادری سے کیا گیا عہد ہے،کشمیریوں اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر اپنا بیا نیہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔لندن سے پاکستان کے دورے پر آئے ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے اسلام آباد میں حریت رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہندوستان اپنی فوج بھیجنے کا جواز کشمیر میں سنگین ہنگامی صورتحال بیان کرتا ہے جبکہ آج کشمیر میں ایسی صورتحال موجود نہیں ہے کہ جس کے دفاع کا ہندوستان نے27اکتوبر 1947کو اعلان کیا تھا۔جموں و کشمیرکی آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کئے جانے کا مقصد یہی تھا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی اور اشتراک سے رائے شماری کرانے کے انتظامات کئے جائیں۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک عبوری حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں کشمیر کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی بھی مکمل نمائندگی موجود ہو۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ نے سرینگر کی اس حکومت کے کردار کو تسلیم کیا ہے جو رائے شماری کے مقصد سے قائم ہو اور جس میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان کی بھی موثر نمائندگی ہو اور جسے تنازعہ کے فریق کے طور پرحکومت پاکستان کا اعتماد بھی حاصل ہو۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ ہم کشمیری اپنا مقدمہ نہ سمجھنے سے نقصان اٹھا رہے ہیں،کشمیریوں اور پاکستان کو اپنا مقدمہ صحیح طور پر پیش کرنا ہی نہیں آرہا ہے۔