کلام اقبال کا مطالعہ کرنے کے بعد سب سے پہلے ہماری توجہ جس چیز پر جاتی ہے وہ اقبال کی شاعری کاحرکی و فکری پہلو ہے۔ اقبال کی شاعری حرکت وعمل سے مزین ہے۔انہوں نے اپنی شاعری سے ایک سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی کوشش کی اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔اقبال کی شاعری کا زمانہ ہندوستان اور عالمی سطح پر سیاسی ہلچل کا زمانہ تھا۔ان کی شاعری کاایک اہم پہلو سیاسی بھی ہے۔اقبال ہمیشہ اپنی شاعری میں حرکت و عمل کا پیغام دیتے رہے۔اس کے باوجود کہ انہوں نے بڑھ چڑھ کر عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا ، اقبال کی سیاست میں دلچسپی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال ہمیشہ اسی غم میں روتے رہے کہ اس سوئی ہوئی مسلمان قوم کو کس طرح جگایا جائے۔اقبال انقلابی فکر رکھتے تھے ۔انہوں نے ایک سنجیدہ مقصد کی غرض سے شاعری کی ۔وہ مسلمان قوم میں ایک نیا جوش دیکھنے کے متمنی تھے۔وہ اس نوجوان کی تلاش میں تھے جو مغرب کی برکتوں کی قدر کرتے ہوئے بھی مشرقیت سے بے زار نہ ہو:
؎ یہ حوریاں فرنگی ، دل و نظر کا حجاب
بہشت مغربیاں ، جلوہ ہائے پابہ رکاب
؎ سوال مے نہ کروں ،ساقئی فرنگ سے میں
کہ یہ طریقئہ رندان پاک باز نہیں
اقبال اپنے اسلاف کے ماضی کے قدردان تھے اور مغربی علوم اور ثقافت سے ان کی واقفیت اچھی خاصی تھی۔انہیں اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر تھا ۔وہ ہمیشہ اپنی قوم کے نوجوانوں میں ایک طرح کا جوش اور ولولہ دیکھنا چاہتے تھے۔اقبال نے جہاں مغرب کی کچھ چیزوں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انہوں نے کچھ پہلوئوں کی تعریف بھی کی ہے اور وہ چاہتے تھے کہ ہم مغرب سے اتنا ہی استفادہ کریں جتنا ہمارے مزاج اور ہماری ثقافت کے لیے اچھا ثابت ہو سکے اور ساتھ میں ہم اپنی اسلامی شناخت کو بھی برقرار رکھ سکے ۔انہوں نے اسی فکر و سوچ کو شعر کے قالب میں ڈھال کر قوم کو ایک نیا پیغام سنایا۔
؎ دیار عشق میں اپنا نام پید اکر
نیا زمانہ نئے صبح وشام پید ا کر
؎ اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر
اقبال کا کلام ملت اسلامیہ کے لیے دعوت فکر ہے۔ وہ مسلمانوں کے اند ر سموئے ہوئے جمود کو توڑنا چاہتے ہیں۔وہ مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔انکا دل اپنی قوم کے لیے روتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی فکر میں ڈوبے رہے کہ کس طرح اس قوم میں حرکت و عمل ایک مادہ پھونکا جائے اور ان کو اپنی ذمہ داری اور منصب کا احساس دلایا جائے۔وہ قوم جو اس کائنات کی تسخیر اور رہنمائی کے لیے تھی خود غلامی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ قوم کو پھر وہ عروج حاصل ہو۔اقبال نے اسی سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے شاعری کا سہارا لیا۔
؎ سبق پھر پڑھ صداقت کا ،عدالت کا،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
؎ خدا تجھے کسی بحر سے آشنا کردے
کہ تیری موجوں میں اضطراب نہیں ہے
اقبال کے کلام میں بندئہ مومن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اقبال کا بندئہ مومن اسلامی تعلیمات کا پروردہ ہے ۔اقبال نے بندئہ مومن کے تصورکو چاہے کہیں سے بھی لیا ہو، جیسا کہ بعض حلقوں میں مشہور ہے لیکن اس نے اپنے کلام میں جس بندئہ مومن کے تصور کو پیش کیا، اس کی اساس اسلامی تعلیمات ہے۔اس کا تصور اسلام کو ذہن میں رکھے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔اقبال کا یہ بندئہ مومن حرکت و عمل کا منبع ہے۔ اقبال کا مرد مومن کوئی روایتی انسان نہیں بلکہ اس کے اندر کچھ نیا کرکے دکھانے جذبہ وجوش ہے۔ وہ حیات و کائنات میں اسیر نہیں بلکہ وہ نئے جہانوں کو اسیر کرنے کی تمنا اپنے اند رکھتا ہے۔
؎ مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے
قلندر ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر
؎ وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میںفقط مستئی کردار
؎ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
اقبال نے اپنی شاعری میں خودی کا پیغام بھی دیا۔ ان کے نزدیک ایک کامل انسان وہی ہے جس کے اندر ہمیشہ خودی کا جذبہ ہو۔شاعر مشرق کے نزدیک خودی نام ہے مسلسل جدوجہد اور عمل کا۔انسان کے اندر جب صرف اللہ کا ڈر اور خوف ہوتا ہے تب اس کی خودی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔اقبال خودی کو تکبر اور غرور کے معنی میں نہیں لیتے بلکہ ان کے نزدیک خودی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان سکے۔خودی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے اندر کی صلاحتیں کو پہچان سکے اور پھر ان کو صحیح مقصد کے لیے بروئے کار لائے۔اقبال کے نزدیک صرف ایک بہادر اور نڈر انسان میں خودی ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔
؎ آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
؎ وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اقبال کے یہاں عشق کی بڑی اہمیت ہے۔اقبال عقل پر عشق کو فوقیت دیتے ہیں۔اقبال کے یہاں عشق سے مراداللہ پر یقین کامل سے ہے۔ان کے نزدیک عقل ہمیںمنزل کا پتہ بتا سکتی ہے لیکن یہ عشق ہی جو اس منزل پر چلنے کے لیے اکساتا ہے چاہے وہ منزل کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔ گو عقل میں بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں لیکن اس کے اندر وہ جوش و جذبہ اور حرارت نہیں جو عشق کی خوبیاں ہیں۔
؎ عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمیں و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
؎ بے خطر کود پڑ ا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
اقبال کی شاعری کے فکری نظام کو اس چھوٹے سے مضمون میں سمیٹنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔پھر بھی یہ کچھ اشارے ہیں جن سے اقبال کے فکری نظام کی تشکیل پاتی ہے۔اقبال کی شاعری کا بنیادی مقصد جہد مسلسل ہے۔ان کی شاعری اپنے اندر حرارت رکھتی ہے اور اس کا ایک اسلامی پہلو ہے۔ اقبال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اپنی فکر کو شاعری کا جامہ پہنایا اور ان کی شاعری فنی سطح پر بھی کامیاب ہے اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جو اس وقت عالمی ادب میں کم ہی شاعروںکو نصیب ہوا۔ اقبال کے کلام کی اہمیت آج کے اس مادی دور اور مغرب زدہ سماج میں اور بڑھ گئی ہے۔مسلمان قوم آج پھر طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہے۔ایسے میں اقبالیات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
(پتہ : جواہر لال نہرو یونی ورسٹی ۔نئی دہلی)