علامہ اقبال کو جو عالمی شہرت دوام اور قبول عام کی سند حاصل ہوئی وہ بہت کم شعراء وادباء کے حصے میں آتی ہے۔ عالمی زبانوں میںعلامہ اقبال کے فکر وفن پر جس قدر خامہ فرسائی کی گئی اتنا بہت کم شعراء وادباء کے فکر وفن پر لکھا گیا۔دنیا کی دیگر عالمی زبانوں کی طرح عربی میں بھی اقبال پر سیر حاصل بحث ہوئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے اقبال نے عربوں کوجانا پھر عربوں نے اقبال کو۔اقبال عربی زبان سے نا آشنا نہیں تھے ۔ انہوں نے عربی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی اور چار سال تک اورینٹل کالج لاہورمیںاور لندن میں قیام کے دوران کچھ مہینے لندن یونیورسٹی میں عربی پڑھانے کی انہیں سعادت حاصل ہوئی تھی۔ عربی ادبیات خاص طور سے عربی شاعری سے انہیں بہت شغف تھا۔دیوان متنبی اور دیوان حماسہ انہوںنے پڑھا تھااور بہت سارے عربی اشعارانہیں ازبر تھے اورہندوستان میںعربی زبان کی نشر واشاعت کی تمنا کرتے تھے۔نقوش اقبال کے مطابق علامہ نے مولانا علی میاں سے ایک ملاقات میںبتایاتھا کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف امراء کی توجہ ہندوستان میں عربی زبان وادب کی نشر واشاعت کی طرف مبذول کرائی ہے۔انہیں عربوں سے بھی بے انتہا عقیدت ومحبت اور انسیت تھی اسی لیے ان کی شاعری میں عربوں کے مسائل وموضوعات کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔عربوں سے بے انتہا شغف، عقیدت و محبت اور لگاؤ کے باوجود انہوں نے مصر اور فلسطین کے سوا کسی دوسرے عرب ملک کا سفر نہیں کیا۔حجاز کی محبت میں وہ سرشار تھے ۔ بے شمار اشعار بھی انہوں نے حجاز کے حوالے سے کہے ۔ارمغان حجاز ان کے ایک شعری مجموعے کا نام بھی ہے مگر حجاز کا سفر انہیں جسمانی طور سے حاصل نہیں ہوسکا۔ مصری ادیب سمیر عبد الحمید کے مطابق ۱۹۰۵ء میںعدن (یمن) اور پورٹ سعید (مصر) کے راستے انگلینڈ جاتے ہوئے علامہ نے پورٹ سعید میںقیام کیا۔ چندمدارس ومساجد کی زیارت کی اور مصر کے حاکم شاہ فاروق کو ایک خط بھی لکھاجو ایک سطر پر مشتمل تھا۔ اس خط میں علامہ نے شاہ فاروق کو حضرت عمر فاروق کی مشابہت کی تلقین کی۔علامہ کا کسی عربی ملک کا یہ پہلا سفر تھا ۔اس کے بعد ۱۹۳۱ء میں مسجد اقصی میں پہلی اسلامی کانفرنس کے انعقاد کے موقعے پر اسکندریہ کی جمعیۃ الشبان المسلمین نے علامہ کے اعزاز وتکریم میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا۔مشہور مصری عالم وادیب اور شاعرڈاکٹر عبد الوہاب عزام نے اپنے استاذ عبد الوہاب نجار کے حکم کی تعمیل میں علامہ کا تعارف کرایا۔
ڈاکٹر عبد الوہاب عزام کہتے ہیں کہ جب وہ لندن میں تھے تو انہوں نے اقبال کانام سنا تھااوریورپی مجلات میں ان کے بارے میں پڑھا تھا۔اس کے بعد انہوں نے ’’پیام مشرق‘‘ پڑھا اور اقبال کے گرویدہ ہو گئے۔ اپنی خلوت میں اقبال کے بارے میں سوچتے تو اپنی جلوت میں ان کے فکر وفن پر گفتگو کرتے۔ مجلہ الرسالہ میں انہوں نے اقبال کے حوالے سے متعدد مضامین لکھے ۔ علامہ کے اشعار کا ترجمہ شائع کرایااور انہیں عالم عرب سے روشناس کرانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ یوں عبد الوہاب عزام پہلے عربی عالم ، ادیب اور شاعرہیں جنہوں نے اقبال کو عالم عرب میں متعارف کرایااورخود ایک اقبال شناس کی حیثیت سے منظر عام پر آئے۔ ۱۹۳۶ء میں انہوں نے اللمعات کے عنوان سے ایک نظم لکھنی شروع کی جسے انہوں نے علامہ کے نام منسوب کیا ۔عبد الوہاب عزام کو عربی فارسی انگریزی اور ترکی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔فردوسی پر انہوںنے ڈاکٹریٹ کا مقالہ سپرد قلم کیا تھااور شاہنامے کا عربی میںترجمہ بھی کیا تھا۔ اردو اورفارسی پر عبور حاصل ہونے کی وجہ سے انہوں نے اقبال کے فکر وفن کو مکمل طور سے سمجھااور ’’ضرب کلیم، پیام مشرق،اسرار خودی اور اسراربے خودی‘‘ کا عربی میں منظوم ترجمہ کیا۔ ضرب کلیم علامہ کی وفات سے ایک سال قبل ۱۹۳۷ء میں قاہرہ سے اور پیام مشرق ۱۹۵۰ء میں کراچی سے منظر عام پر آئے ۔ اس کے بعد اسرار خودی اور اسرار بے خودی کے منظوم عربی ترجمے زیور طباعت سے آراستہ ہوئے۔جاوید نامہ کی بھی چند نظموں کاانہوں نے عربی میں ترجمہ کیا۔ محمد اقبال سیرتہ ووفلسفتہ وشعرہ (علامہ اقبال حیات ، فلسفہ اور شاعری)کے عنوان سے ایک کتاب بھی انہوں نے عربی میں تحریر کی۔انہوں نے اقبال کے فکر وفن پر سعودی مجلے المنہل کا خصوصی شمارہ بھی شائع کرایا۔ عبد الوہاب عزام ایک قادر الکلام شاعر تھے اس لیے انہوں نے علامہ کے کلام کا عربی میں منظوم ترجمہ کیا۔
مولانا علی میاں نے اقبال شناسی کے میدان میں پیش کی گئی ڈاکٹر عبدالوہاب عزام کی مساعی کو سراہا لیکن اقبال کی شاعری کے منظوم ترجمے پرانہوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ شاعری کے اپنے حدود وقیود ہوتے ہیں اس لیے شعر کے ترجمے کا حق شعر میں ادا نہیں کیا جاسکتا ہے حالانکہ قبل ازیں بہت سارے شعراء نے دوسری زبانوں کے منظوم شہ پاروں کا منظوم ترجمہ کیا جن میں سلیمان بستانی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ہیومر کی الیاذہ کاعربی میں منظوم ترجمہ کیا تھا۔اس کے علاوہ خیام کی رباعیوں کا بھی عربی میں منظوم ترجمہ کیا گیا۔مگرتمام اعتراضات کے باوجود عبد الوہاب عزام کے منظوم ترجموں کوعالم عرب میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ آج بھی جب اقبال کی شاعری کا ذکر کیا جاتا ہے تو عزام کی عربی شاعری کے حوالے سے ہی ذکر کیا جاتا ہے۔
عبد الوہاب عزام کے بعد عربی میں علامہ کے فکروفن پر کام کرنے والوں اور انہیں عربوں سے متعارف کرانے والوں میں ہندوستانی عالم اور عربی ادیب مولانا ابو الحسن علی ندوی کا نام سرفہرست ہے۔انہوں نے مختلف عرب ممالک میں اقبال پر تقریریں کی ،لیکچر دیے اور اقبال کے فکر وفن پر سیر حاصل گفتگو کی۔۱۹۵۱ء میںقاہرہ یونیورسٹی میںالانسان الکامل فی نظر اقبال (انسان کامل اقبال کی نظر میں) کے عنوان سے لیکچر دیا اور متعدد مضامین لکھ کر مصری مجلات میں شائع کرایا۔۱۹۶۰ء میں دار الفکر دمشق سے اقبال کے فکر وفن پرمولانا کی ایک مستقل کتاب ’’روائع اقبال‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ دار العلوم ندوۃالعلماء کے استاد مولانا شمس پیر زادہ نے ’’نقوش اقبال‘‘ کے عنوان سے اس کتاب کا اس قدر خوب صورت ترجمہ کیا ہے کہ اس پر اصلی کتاب ہونے کا گمان ہوتا ہے۔
اقبال کے فکر وفن کے اہتمام کی ابتداء کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مولانا علی میاںکہتے ہیں کہ دار العلوم ندوۃ العلماء میںاستاد کی حیثیت سے جب ان کا تقرر عمل میں آیا تو انہوںنے مشہور عالم مسعود عالم ندوی کے ساتھ قیام کیا۔ علمی وادبی گفتگو میں دونوں اقبال کے اشعار سے محظوظ ہوتے تھے البتہ مسعود عالم ندوی جب یہ کہتے کہ ٹیگور عالم عرب میں اقبال سے زیادہ شہرت رکھتے ہیں اور عالم عرب میںاقبال سے زیادہ ٹیگور کے فکر وفن کا اہتمام کیا جاتا ہے تو مولانا علی میاں کو اس پر بہت غیرت آتی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کسی عربی میگزین یا اخبار میں مجھے ٹیگور پر کوئی مضمون نظر آتا تو مجھے اقبال پر قلم اٹھانے کا خیال آتا۔مولانا علی میاں کہتے ہیں کہ علامہ سے جب ان کی ملاقات ہوئی، انہوں نے ان سے ان کے اشعار کا عربی میں ترجمہ کرنے کی اجازت طلب کی تو علامہ نہ صرف اس پربہت خوش ہوئے بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے دوست عبد الوہاب عزام بھی اس حوالے سے کچھ کام کررہے ہیں۔بہرحال اس کے بعد مولانا علی میاں نے اقبال کا بہت زیادہ اہتمام کیاجس کے نتیجے میں ان کی عربی کتاب روائع اقبال ۱۹۶۰ء میں دار الفکر دمشق سے منظر عام پر آئی۔بیشتر ناقدین کا خیال ہے کہ عربی میں علامہ کے فکر وفن کا جائزہ پیش کرنے والی یہ سب سے شاندار کتاب ہے۔ مولانا علی میاں نے اس کتاب میں علامہ کے اشعار کی تشریح نظم کے بجائے نثر میں کی ہے اور بہت خوب صورت ادبی اسلوب میں علامہ کے فکر وفن کا جائزہ پیش کیا ہے۔
شام میں علامہ کے فکر وفن کا اہتمام اس وقت شروع ہوا جب مولانا علی میاں نے مجلہ حضارۃ الاسلام میں اقبال فی مدینۃ الرسول (اقبال شہر رسول میں) کے عنوان سے ایک مضمون شائع کرایا۔ اس کے بعد اس میگزین میں علامہ کے حوالے سے اوربھی کئی مضامین شائع ہوئے اور شام میں اقبالیات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔۱۹۶۴ء میںدمشق میں علامہ کے حوالے سے ایک کانفر نس کا انعقاد کیا گیا۔ مولانا علی میاں نہ صرف اس کانفرنس میں شریک ہوئے بلکہ اقبال کے شکوے کا ترجمہ بھی ساتھ لے گئے جسے مختلف مکتبات نے کتابچے کی شکل میں شائع کیا ۔اس کانفرنس میں شامل تقریروں اور مضامین کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۸۵ء میں بھی حکومت کی زیر نگرانی نداء اقبال کے عنوان سے ایک سیمینار کاانعقاد کیا گیا۔ اس میں بھی پیش کیے گئے مضامین ومقالات کو دار الفکر دمشق نے کتابی شکل میں شائع کیا۔شام میں اقبالیات کا اہتمام کرنے والوں میں عمر بہاء الدین امیری،عبد المعین ملوحی،زہیر ظاظا،سمر روحی فیصل شام کا نام قابل ذکر ہے۔
علامہ کو عالم عرب میں متعارف کرانے کا سہراصرف عبد الوہاب عزام اور مولانا علی میاںکے سر نہیں ہے بلکہ اور بھی کئی علماء وادباء نے اقبال کے فکر وفن پر خامہ فرسائی کی لیکن یہ بھی درست ہے کہ مولانا علی میاںاور عزام نے علامہ کوعربوں سے متعارف کرانے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔قبل ازیں علامہ کو اردو اور فارسی سے آشنا چند مخصوص علماء ، شعراء وادباء واقف تھے لیکن عزام اور مولانا علی میاں کی علمی مساعی کے بعدپورے عرب میں علامہ اقبال کے فکر وفن کا اہتمام شروع ہوگیا۔ بہت سارے مضامین اورمقالے لکھے گئے بلکہ سچ یہ ہے کہ اقبال اور ان کے فکر وفن کو خواص کی محفلوں سے نکال کر عام لوگوں کی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
عبد الوہاب عزام اورمولانا علی میاں کے علاوہ جن لوگوں نے علامہ کے فکر وفن پر خامہ فرسائی کی ان میں علی شعلان صاوی اورمحمد حسین اعظمی کی کتاب فلسفۃ اقبال والثقافۃ الاسلامیہ فی الہند والباکستان (ہندوپاک میں اسلامی تہذیب وثقافت اور فلسفۂ اقبال)۱۹۵۰ء میں دار احیاء الکتب العربیۃ مصر سے منظر عام پر آئی۔۱۹۵۹ء میں نجیب کیلانی کی کتاب اقبال الشاعر الثائر(اقبال شاعر انقلاب) الشرکۃ العربیۃ للطباعۃ والنشرسے شائع ہوئی۔نجیب کیلانی کی اس کتاب کو قبول عام کی سند حاصل ہوئی،اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے اوراس نے اقبال شناسی میں کافی اہم کردار ادا کیا۔
ان کتابوں کے علاوہ حمید مجید ہدو کی کتاب اقبال الشاعر والفیلسوف والانسان (اقبال بحیثیت شاعر، فلسفی اور انسان)۱۹۶۳ء، دینا عبد الحمید کی اقبال الشاعر الفیلسوف (اقبال بحیثیت فلسفی شاعر) ۱۹۵۹ء، حسین مجیب مصری کی اقبال بین المصلحین الاسلامیین (اقبال اسلامی مصلحین کے درمیان) ۱۹۸۰ء، مہدی حمود فلوجی کی اقبال شاعرا ومفکرا (علامہ اقبال بحیثیت شاعر ومفکر) ۱۹۷۷ء ، حسین مجیب مصری کی اقبال والعالم العربی (علامہ اقبال اور عالم عرب) ۱۹۷۸ء جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں اورانہوں نے اقبال کے فکر وفن کو خراج عقیدت پیش کیا۔مذکورہ بالا سعودی مجلے المنہل کے علاوہ قطر کے مجلہ الامّۃاور کویت کے مجلہ العربی نے بھی اقبال کے فکر وفن پر خصوصی شمارے شائع کیے۔ اقبال کی شاعری اور فلسفے پر بہت سارے ریسرچ اسکالروںنے تحقیقی مقالے لکھ کر اعلی ڈگریاں حاصل کیں جن میں الفیلسوف الہندی محمد اقبال(ہندوستانی فلسفی محمد اقبال) ۱۹۶۷ء، منہج تغییر الانسان عند محمد اقبال، (انسان کو بدلنے کا طریقۂ کار علامہ اقبال کی نظر میں)۱۹۹۵ء، الامۃ الاسلامیۃ فی شعر محمد اقبال (ملت اسلامیہ علامہ اقبال کی شاعری میں) ۲۰۰۲ء، مشکلتا الوجود والمعرفۃ فی الفکر الاسلامی الحدیث عند کل من محمد اقبال ومحمد عبدہ دراسۃ مقارنہ (جدید اسلامی فکر میں وجود ومعرفت کے مسائل محمد اقبال اور محمدعبدہ کی نظر میں ایک تقابلی جائزہ) وغیرہ بطور مثال قابل ذکر ہیں۔
یوں علامہ اقبال، کی سیرت وحیات، اور فکر وفن عالم عرب کے لیے نا آشنانہیں رہے۔علامہ کی عظمت کے لیے یہی کافی تھا کہ ڈاکٹر طہ حسین اور عباس محمود عقاد جیسے عظیم مصری ادباء نے ان پر خامہ فرسائی کرکے ان کی فکری وفنی اور ادبی حیثیت وعظمت کا اعتراف کیا۔سید قطب نے اپنی مشہور تفسیر ظلال القرآن میں اقبال کا ذکر خیر کیا ہے۔ مشہور مصری ادیب علی طنطاوی نے علامہ کے حوالے سے متعدد مضامین لکھے۔ جامعہ ازہر کے شیخ الجامعہ المراغی نے بھی اقبال کے فکر وفن پر قلم اٹھایا۔ مصر کی لتا منگیشکرام کلثوم نے علامہ کے شکوہ کو اپنی مخصوص آواز میں گایا ہے۔ بعض ناقدین نے مصرکے سب سے بڑے شاعر،امیر الشعراء احمد شوقی اور حافظ ابراہیم جیسے شعراء کو بھی علامہ کے مقابلے میں دوسری صف میں رکھا ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علامہ کی فکر کی پاکیزگی،ان کے فن کی عظمت، ان کا شعری وادبی مقام ومرتبہ عربوں کے لیے اظہر من الشمس ہوچکا ہے۔ انہوں نے علامہ کی عبقریت کا اعتراف کیااور ان کی فکر کی بلندی اور تخیل کی بوقلمونی کو سند اعتبار ووقار عطا کیا ہے۔ عالم عرب میں اقبال شناسی کا جودور عبد الوہاب عزام سے شروع ہوا تھا تا ہنوز وہ سلسلہ قائم ودائم ہے اور علامہ کے فکر وفن پر اتنا کچھ لکھا، پڑھا اور کہا جاچکا ہے جس کا شمار ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔
رابطہ ۔صدر شعبۂ عربی/ اردو/ اسلامک اسٹڈیز
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر۔9086180380