کابل //امریکا نے ایک نئے سوئس ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے افغانستان کے مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالر منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جو طالبان کے زیر کنٹرول نہیں ہوں گے، جس سے گرتی ہوئی معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ ٹرسٹیز بورڈ کے ماتحت افغان فنڈ سے ملک بجلی جیسی اہم درآمدات کی ادائیگی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ عالمی اقتصادی اداروں کو قرض کی ادائیگی، ترقیاتی امداد کے لیے افغانستان کی اہلیت کا دفاع اور نئی کرنسی کی پرنٹنگ کے لیے بھی فنڈز فراہم کر سکتا ہے۔امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فنڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور مخصوص 3.5 ارب ڈالر کا اجرا ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ استحکام لانے کے لیے مددگار ہوگا۔امریکی حکام نے کہا کہ افغان مرکزی بینک میں اس وقت تک رقم منتقل نہیں کی جائے گی جب تک اس میں سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوتی، جہاں بینک کے اعلیٰ طالبان عہدیداروں کے حوالے سے سفارتی تعطل بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ ان میں سے دو عہدیدار ایسے ہیں، جن پر اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندی عائد ہے اور منی لانڈرنگ کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے خزانہ ویلے ایڈیمو نے مرکزی بینک کے سپریم کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ جب تک شرائط مکمل نہیں کی جاتیں ڈی اے بی (افغان سینٹرل بینک) میں فنڈ منتقل کرنا ناقابل فہم خطرہ ہوگا اور افغان عوام کی مدد خطرے میں پڑے گی۔جنیوا میں قائم نیا فنڈ کا اکاؤنٹ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) میں ہے اور یہ فنڈ مرکزی بینکوں کو مالی خدمات فراہم کرتا ہے۔بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (بی آئی ایس) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بی آئی ایس افغانستان کے لوگوں کے لیے فنڈ کے ساتھ صارفین کے تحت تعلقات بنا رہا ہے، جس کا کردار فنڈ کے انتظام یا فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے اور ان پر عمل درآمد تک محدود ہے اور وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں اور ضوابط کی تعمیل کرے گا۔اقوام متحدہ کے مطابق صرف اس فنڈ سے گرتی ہوئی معیشت کے سنگین مسائل حل نہیں ہوں گے اور انسانی بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ سردیوں کا موسم آنے کو ہے جبکہ افغانستان کی 4 کروڑ آبادی کا نصف حصہ شدید بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔