منڈی//سرحدی علاقہ ساوجیاں گلی کے گولی باری متاثرین گزشتہ ڈیڑھ سال سے حکومتی معاوضے کے منتظرہیںلیکن حکومت متاثرہ کنبوں کی دادرسی کرنے کیلئے تاحال غفلت کی نیندمیں مبتلاہے۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل سرحدی علاقہ ساوجیاں گلی میں سرحدپارسے شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا تھا جس کی وجہ سے گلی علاقہ میں تیس دکانیں اور 5 کے قریب دکانیں نظر آتش ہو گئی تھیں ،اورمتاثرین تاحال ادادکے منتظرہیں۔منگل کے روز نیشنل کانفرنس کے صوبائی یوتھ صدر و سابق ممبر اسمبلی پونچھ اعجاز جان نے گلی علاقہ کا دورہ کیا جہاں پر ان متاثرین نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی.طرف سے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ان کے نقصان کا تخمینہ لگا کر انبکو اس کا معوزاہ دیا جایے گا مگر ڈھیڈ سال گزر جانے کے باوجود بھی وہ ملہوکین معوزے کے منتظر ہیں.اس حوالے سے اعجاز جان نے کشمیر اعظمی.سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب گلی علاقہ میں سرحدپارکی سے گولہ باری ہو رہی تھی تو اس کے بعد ریاست جموں کشمیر کے سرکاری نمائندوں اور لیڈروں نے علاقہ کا دورہ کیا تھا اور گولہ باری سے ہوئے نقصان کا جائزہ لیا تھا اور ان لوگوں سے وعدے کیے تھے کہ جلد ہی ان کے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی مگر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی وہ لوگ معاوضے کے منتظر ہیں انہوں نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار نے گولہ باری سے متاثرین کی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے جس سے یہ.ثابت ہو رہا ہے کہ ریاستی سرکار ہرمحاز پر ناکام ہوئی ہے۔اعجاز جان نے کہا کہ ایک طرف.سے ریاستی سرکار یہ دعوے کر رہی ہے کہ وہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے تحفظ کے لیے زمین دوز بنکر بنا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ان بنکر وںپر کام تک شروع نہیں ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ نقصان زدہ لوگوں کے نقصان کی بھرپائی کرے تاکہ یہ لوگ اپنی زندگی دوبارہ بہتر طریقے سے گزار سکیں۔