جموں//اپنی پارٹی ضلع صدر جموں اربن سمیت درجنوں پارٹی لیڈران اور کارکنان کو پیر کے روز جموں وکشمیر پولیس نے اُس وقت گرفتار کیا جب اُنہوں نے توی پل نزدیک ڈوگرہ چوک ٹریفک نقل وحمل روکنے کی کوشش کی۔ اپنی پارٹی ضلع صدر جموں اربن پرنو شگوترہ کی قیادت میں مظاہرین پریس کلب میں جمع ہوئے اور ڈوگرہ چوک کی طرف احتجاجی مارچ نکالتے ہوئے پیش قدمی کی جہاں جموں وکشمیر پولیس کی بھاری جمعیت نے اُنہیں آگے جانے سے روکا۔البتہ اپنی پارٹی لیڈران اور کارکنان نہیں رکے اور ڈوگرہ چوک کی طرف چلے گئے اور وہاں پر ٹریفک آمدورفت روک کر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔پولیس نے سڑک میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور انہیں آگے جانے سے روکا۔ مزاحمت کرنے پر ضلع صدر سمیت درجنوں اپنی پارٹی لیڈران کو حراست میں لیاگیا جنہیں ضلع پولیس لائن جموں لے جایاگیا جہاں سے بعد ازاں اُن کو رہا کر دیا۔ اس سے قبل مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شگوترہ نے کہاکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے غریب افراد اور متوسط طبقہ کے لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخ میں سب سے زیادہ اچھال ہے لیکن حکومت کی طرف سے لوگوں کو کوئی راحت فراہم نہیں کی جارہی۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت کو چاہئے کہ افراط ِ زر پر قابو پانے کے لئے اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو جموں کا واحد نمائندہ ہونے کا دعویٰ کر رہی تھی لیکن اب اِس جماعت سے وابستہ لیڈران عوامی غیض وغضب کا سامنا کرنے کے لئے سامنے بھی نہیں آرہے۔ جنہیں ووٹ دیکر اقتدار میں لایاتھا اُنہوں نے ہی عوام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اُن کے اعتماد سے کھلواڑ کیا۔