عظمیٰ نیوز سروس
جموں // وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی کے ایوان میں بتایا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ غیر معروف اخبارات کو اشتہارات کس بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے این سی کے تنویر صادق کے گذشتہ روز اور وحید پرہ کے جمعرات کو اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا وہ اشتہارات کی تقسیم کا فارمولہ نہیں سمجھ سکے ہیں، اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔ اشتہارات کو کبھی بھی پریشر پوائنٹس کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دبائو کا استعمال ہی کیا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تنویر صادق نے جن اخبارات کا نام لیا ہے ، انہوں نے بھی کبھی یہ اخبارات نہیں دیکھے ہیں۔ابکا کہنا تھا کہ وہ آزاد صحافت پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی بھی دبائو کی حکمت عملی کے طور پر استعمال نہیں کیا ہے اور نہ کریںگے۔انکا کہنا تھا کہ اخبارات/ چینلزکو سرکولیشن اورپہنچ کی بنیاد پر اشہارات کی تقسیم کی جانی چاہیے لیکن یہاں جو ہورہا ہے وہ حیران کن ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اشتہارات کو معقول بنائیں گے اور جس کا جتنا شیئر بنتا ہے اسے اسی حساب سے اپنا شیئر دیا جائیگا۔