سید امجد شاہ
جموں//جموں و کشمیر اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جموں میں 107 سیاستدانوں کو سرکاری رہائش گاہوں سے نکال دیا گیا ہے۔ساتھ ہی ایک سابق نائب وزیر اعلیٰ، تین دیگر سابق وزراء /سابق قانون سازوں کو بھی اپنی رہائش گاہیں خالی کرنے کے لیے بے دخلی کے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔یہ بے دخلی نوٹس اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک کے ذریعہ 21 نومبر 2018 کو سابقہ جموں و کشمیر ریاست کی آخری قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعدبھیجے گئے تھے۔ایڈووکیٹ شیخ شکیل احمد نے 18.02.2021 کے فیصلے کے بعد جموں میں غیر مجاز قابضین یعنی سابق قانون سازوں، سابق وزراء کی بے دخلی سے متعلق محکمے کی طرف سے شروع کی گئی کارروائی کے سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹس،جموں کے دفتر میں ایک آر ٹی آئی دائر کی تھی تاہم ایڈوکیٹ شیخ شکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سابق نائب وزیر اعلیٰ اور کئی دیگر وزراء کوارٹرز خالی کرنے کے نوٹس کے باوجود ان رہائش گاہوں پر قابض ہیں۔ آر ٹی آئی کے جواب میں ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹس نے جواب دیا ہے کہ جموں کے سرکاری کوارٹرز سے تقریباً 107 سیاسی افراد کو بے دخل کرنے کے حکم کے ذریعے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد ان تمام سابق وزراء /سیاستدانوں کے نام جاری کیا گیا تھا جو سرکاری رہائش گاہوں پر قابض تھے۔
انہوں نے کہا’’قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد تمام سابق وزراء ، سیاسی افراد جو سرکاری رہائش گاہوں پر قابض تھے، سے درخواست کی گئی کہ وہ سرکاری رہائش گاہیں خالی کر دیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو رضاکارانہ طور پر خالی کیا گیا تھا اور ان لوگوں کے خلاف مرحلہ وار طور پر بے دخلی کی کارروائی شروع کی گئی تھی جنہوں نے اپنی الاٹمنٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی رہائش خالی نہیں کی تھی” تاہم آر ٹی آئی جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ “محکمہ ایسے تمام مکینوں کو بے دخل کرنے کے عمل میں ہے جنہوںنے ابھی تک کوارٹر خالی نہیں کئے یہیں۔ تحریری جواب میں ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ بے دخلی مرحلہ وار طریقے سے کی جا رہی ہے۔غیر قانونی مکینوں کو سرکاری کوارٹر خالی کرنے کے لیے نوٹس/مواصلات بھیج دیے گئے ہیں۔آر ٹی آئی کے مطابق اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ نے گاندھی نگر میں ایک سابق نائب وزیر اعلیٰ، سابق کابینی وزیر وزارت روڈ، سابق وزراء /سابق رکن اسمبلی گاندھی نگر اور ایک سابق کابینہ وزیر/سابق رکن اسمبلی کو جموں کے غلامی باغ میں جگہ خالی کرنے کو کہا ہے ۔