اسلام ایک مکمل نظام حیات اور دنیا کا واحد ایسا متوازن مذہب ہے جو انسان کو خوشگوار اور پرامن وپرسکون اور مضبوط حکمرانی عطا کرسکتاہے، کیونکہ یہ ربانی نظام اور خالق کائنات کا متعین کردہ منہج ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا کے اندر جتنے بھی نظام متعارف ہوئے اور انسانی دماغ نے جتنے بھی حل پیش کئے وہ سب ناکام ثابت ہوئے، لیبرل نظام ہو یا اشتراکی ، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا جمہوری ، سیکولر اصول ہوں یا کچھ اور ہر ایک نقائص سے پر اور ہر میدان میں انسانوںکو خوشگوار وپرامن زندگی دینے میں ناکام رہے، ایک دو نہیں بلکہ زندگی کے جتنے بھی شعبے ہوسکتے ہیں، وہ سب کے اندر سرنگوں رہے، مثال کے طور پر معاشی واقتصادی میدان میں اسی ناکامی کی واضح دلیل یہ ہے کہ اس میں غذاء یادوا ،ہتھیار ہو یا آلات واوزار ،صنعت ہو یا حرفت سب میں انحصار دوسروں پر کیا جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے نہ صرف فقر وافلاس میں اضافہ ہوتا بلکہ بیماریوں اور نا خواندگیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح آزادی جو انسان کی فطری ضرورت ہے اسے دینے میں یہ ناکام رہا نہ انسانوں کو نجی زندگی میں آزادی رہی نہ سماجی زندگی میں ، نہ ذرائع ابلاغ کو آزادی ملی نہ عدالتی نظام کو ، نہ قانون سازی میں آزادی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شعبہ میں بلکہ ہر میدان اور ہر شعبہ میں انسان بدترین غلامی سے دو چار ہے، نہ بولنے کی آزادی ہے نہ فکر وخیالات کی، نہ لکھنے کی آزادی ہے نہ اظہار رائے کی، یہاں تک کہ نہ کھانے پینے ، چلنے پھرنے کی آزادی ہے نہ پہننے اوڑھنے اور بات کرنے کی۔
خود ساختہ نظام جو بھی متعارف کیا گیا ، شروع شروع میں خواہ کتنا ہی بھلا وخوشنما کیوں نہ لگا ہو مگر وہ دھوکہ ثابت ہوا اور بہت جلد اس کی ناکامی طشت از بام ہوگئی، فوجی وعسکری میدان کی ناکامی ہی ہے کہ اسرائیل پوری دنیا میں دہشت گردانہ کاروائیاں کررہا اور دنیا اس کے سامنے مہر بلب اور بے بس ہے، اس کے ماہرین جہاں چاہتے قتل وغارت گری کا بازار گرم کرتے اور بڑی مہارت سے فتنہ وفساد کی بیج بوتے رہتے ہیں۔
اخلاقی میدان میں اس کی ناکامی کا تو کوئی حد وحساب ہی نہیں۔ موجودہ انسانی نظام نے ساری دنیا کو بے حیائی کی آماجگاہ بنا دیا، شرم وحیا ناپید ہوگئی اور انسانوں وجانوروں میں کوئی زیادہ فرق باقی نہیں رہا غرض کہ اخلاقی گراوٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ساری دنیا نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگ رہی ہے، ہر جگہ ظلم وزیادتی کا دور دورہ ہے، فساد وبگاڑ نے انسانی سماج کا حلیہ بگاڑ دیا اور دنیا کی حکمرانی کا مفہوم ہی بدل دیا ہے۔ اب جو سب سے بڑا بد کردار ہر طرح کے جرائم کا ماہر اور نامور سفاک ہو وہی سب سے بڑا قائد ورہنما ہوتا اور ملک کی قسمت کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے، یہ اس خود ساختہ نظام کی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس اخلاقی گراوٹ اور مجرمانہ ریکارڈ کے حامل رہنمائوں کی وجہ سے نہ صرف ملک کا امن وامان غارت ہوجاتا بلکہ انسان کا چین وسکون چھن جاتا ہے، نہ اس کی جان محفوظ رہتی نہ مال نہ زمین وجائیداد محفوظ رہتی، نہ عزت وآبرو ، اس خود ساختہ نظام نے روحانیت کا گلا گھونٹ کر پروان چڑھنے کی سعی کی، اس نے ہر ممکن کوشش کیا کہ اللہ اور خالق کائنات پر ایمان باقی نہ رہے بلکہ انسان کا ایمان مادیت پر ہوجائے۔ اس نے بڑی عیاری اور مکاری کے ساتھ دین کو زندگی سے نکالنے کی کوشش کی۔
یہود کی سرشت میں شرو فساد اور فتنہ و ریشہ دوانیاں رکھ دی گئی ہیں، ان کی فطرت میں ہی سازشیں کرنا اور امن وامان کو درہم برہم کرنا رکھ دیا گیا ہے، انہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کبھی چین سے نہیں رہنے دیا ، ہر آنے والے نبی کیخلاف وہ نبرد آزما رہے اور ان کیخلاف سازشیں کرتے رہے، یہاں تک ان یہودیوں نے بیس ہزار سے زائد انبیاء کو قتل کر ڈالا، اپنے بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قتل کرنے کی کوششیں کی جنہیں اللہ نے آسمان پر زندہ اٹھا لیا، جبکہ یہود اپنے عقیدے کے اعتبار سے سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے، ہمارے آقا نبی آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا ، آپ کی جان لینے کی کوشش کی، دشمنوں کے ساتھ سازشیں کرکے مدینہ پر چڑھائی کیا اور اسلام کو مٹانے کی کوشش کی مگر انہیں جب اس میں کامیابی نہ مل سکی اور اسلام صدیوں اپنے متوازن نظام حیات اور ر بانی نظام حکمرانی کے ساتھ حکومت کرتا رہا تو انہوں نے اسلام کو مٹانے کا ایک دوسرا منصوبہ وفارمولہ اپنایا ۔ انہوں نے نعرہ دیا کہ دین کے لئے عبادت گاہوں کا رخ کرو یعنی دین پر عمل کرنا ہے، تو مساجد تک محدد ہوجائو ، دوسرے کاروبار زندگی کو اس سے آزاد کرلو، آہستہ آہستہ ہم نے اس کو اپنا لیا اور باور کرلیا کہ دین صرف مسجدوں میں ہے، عیسائیوں نے سمجھ لیا کہ دین چرچوں تک ہے، اس سے باہر نہیں، انہوں نے اپنے دوسرے منصوبے کے تحت ساری دنیا میں سودی نظام کو نافذ کردیا اور پوری دنیا کے بینکنگ نظام کو سودی کاروبار کے شکنجے میں جکڑ دیا جس نے امیروں وسرمایہ داروں کو تو خوب خون چوسنے کا موقع فراہم کیا مگر غریب غربت کے دلدل میں پھنستے چلے گئے، اور آج ساری دنیا اس شکنجے میں پھنسی پھڑا پھڑا رہی ہے، اور اس سے گلو خلاصی کی کوئی صورت انہیں نظر نہیں آرہی ہے، اب مال چند مٹھیوں میںمحصور ہو کر رہ گیا ہے، اور وہ جس طرح چاہتے ہیں دنیا کے اندر کھیل کھیل رہے ہیں جس پر چاہا اقتصادی پابندیاں لگا دی جسے چاہا ظلم وبربریت کا نشانہ بنا لیا اور اپنے ہنموائوںکو بھی دوسروں پر اسی طرح ظلم کرنے کی آزادی دے دی، آج جو دنیا میں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے، ظلم وبربریت کا ننگا ناچ ہورہا ہے، اسی کا دین ہے، اور تیسرا منصوبہ یہود نے اسلام کو مغلوب کرنے کا یہ بنایا کہ ساری دنیا میں عریانیت وبے حیائی کو عام کردیا اور اسے قانونی تحفظ فراہم کیا اور آج ساری دنیا اس بد اخلاقی میں گرفتار ہے، دنیا کی ساری قومیں مسلم ہوں یا غیر مسلم ، عرب ہوں یا عجم ، مشرقی ہوں یا مغربی سب اس تالاب میں ننگے اور یہود کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، جس کی وجہ سے سماج کے تانے بانے لوٹ رہے ہیں، خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے، بدکاریاں وزناکاریاں عام ہورہی ہیں، بین مذہبی کافرانہ شادیوں کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ان ساری سازشوں کو ناکام بنانے ، ملک وقوم کو صحیح ڈگر پر گامزن کرنے اور سماج کے تانے بانے کو استوار کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی وملکی وبین الاقوامی زندگی تک اسلام کے نظام حیات کو اپنایا جائے اور اس کیلئے از سر نو منصوبہ بندی کی جائے۔
اسلام ہی وہ صحیح وسچا دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے پسند فرمایا ہے اسی دین ومذہب کے اندر زندگی کو سدھارنے کے اصول وتعلیمات ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا، اور ڈر وخوف میں امن وامان دیا۔ (قریش: 3-4)
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے ۔ (الاعراف: 96)
اور اگر یہ لوگ توریت وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے۔ (المائدہ:166)
نوح علیہ السلام کی زبان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اور میں نے کہا اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوائو اور معافی مانگو ، وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے ، وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ (نوح: 10-12)
اور اے نبی آپ انہیں یہ بھی کہہ دیں کہ اگر لوگ راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقینا ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے (الجن: 16)
اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو، اور اس کے سامنے توبہ کرو تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت وقوت بڑھا دے۔ (ھود:52)
اللہ کے اس نظام اور اس حقیقت سے خود مسلمان بھی غافل ہیں اور دوسرے آسمانی وخود ساختہ مذاہب بھی ‘اگر وہ اسلام کے اس حقیقت پسندانہ تعلیمات اور فطری نظام کو سمجھتے اسے رویہ عمل لاتے اور زندگی میں برتتے تو آج دنیا اس انارکی میں مبتلا نہ ہوتی اور نہ دنیا کے اندر یہ انتشار وبدامنی ، ظلم وسفاکی اور چین وسکون کا فقدان ہوتا، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ عقیدہ ایمان باللہ ، اور اصول دین کا نفاذ انسانی زندگی سے الگ کوئی مسئلہ نہیں اور نہ یہ زندگی کے کاروبار سے جداگانہ کوئی چیز ہے ، بلکہ یہ زندگی اور اس کے نظام کا اٹوٹ حصہ ہے جسے ہر جگہ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
تو قسم ہے تیرے پروردگا کی! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان سے کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی وناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری قبول کرلیں۔ (النساء65)
کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے ۔ (المائدہ:50)
بھلا کوئی انسان یہ جرات کرسکتا ہے کہ وہ علیم وخبیر اور خالق ارض وسماء اور رب کائنات سے بہتر قانون اور نظام حیات بنا کر پیش کرسکتا ہے؟، اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے تو اس سے بڑا احمق اور بے عقل اور کون ہوسکتا ہے۔
مسلمانوں کی نگاہ میں اسلام کا نظام حیات اور اس کا بنایا ہوا طریقہ بالکل واضح وعیاں ہونا چاہیے۔ اس کے علم کے بغیر انسان نہ اسے اپنی زندگی میں نافذ کرسکتا ہے اور نہ دنیوی نظام میں برت سکتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کا علم حاصل کریں اور اپنے نوجوان بچوں وبچیوں کو اس سے آگاہ کریں اور اس نہج پر ان کی تربیت کریں تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ حیات سے وابستہ ہوں ان کے سامنے اسلام کا نظام اور مزاج ہونا چاہیے وہ کاروبار میں ہوں یا سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں ، طب وحکمت سے جڑے ہوں یا سیاسی وسماجی خدمات میں، وہ ملک کی حفاظت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے فوجی وسپاہی ہوں یا ایوان اقتدار میں وہ ہر جگہ اسلامی طریقہ کار کو مد نظر رکھ سکیں۔
اسلام کی اس بالادستی وآفاقیت ہی کا نتیجہ ہے کہ جن مغربی اسکالروں نے بھی اسلام کا سنجیدگی وغیر جانبداری سے مطالعہ کیا وہ ان محاسن کی تائید وحمایت کرنے پر مجبور ہوئے ، اور انہیں کہنا پڑا کہ آج دنیا جن مشکلات ومصائب سے دو چار ہے اور دنیا کے اندر جو فتنہ وفساد اور خرابیوں کا طوفان بپا ہے اس کا علاج کسی دوسرے نظام میں نہیں ، صرف اسلام میں ہے۔
معاشیات کے شعبہ میں نوبل انعام یافتہ امریکہ ماہر اقتصادیات جوزف اسٹیگلیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین بینکنگ نظام ہے، اسی نظام کے تحت مستقبل کے مالیاتی بحران سے بچا جاسکتی ہے، اور مالیاتی تحفظ کے لئے قدم آگے بڑھایا جاسکتا ہے، بلا شبہ اسلامک بینکنگ ہی اسلامی بینکنگ نظام اور قرض حاصل کرنے والوں کے درمیان خطرات کو تقسیم کرتا ہے۔ خاص طور پر قرض حاصل کرنے اور قرض دینے کی اس کی پالیسی دیگر سودی نظام پر مبنی بینکوں کی بنسبت زیادہ مامون ومحفوظ ہے،، انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی بینکنگ آگے کی طرف ایک قدم ہے، مگر موجودہ بحران کے خاتمہ کے لئے یہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس مالی بحران میں ڈوبنے سے بچا جاسکے۔
برٹرانڈرلیسل برطانیہ کے مشہور بڑے فلاسفر ہیں ، انہیں 1950 میں نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ میں نے اسلام اور اسلام کے نبی کا مطالعہ کیا، میں نے پایا کہ یہ دین آیا ہی اس لئے ہے کہ یہ دنیائے انسانیت کا دین ومذہب بنے ، وہ تعلیمات جو محمد صلعم نے پیش کیا ہے جس سے اسلام کی مذہبی کتابیں بھری پڑی ہیں، ہم اب بھی اس کی کھوج کررہے اور اس کے ذرے کو اپنے لئے سب سے زیادہ کارآمد سمجھتے ہیں، اور اسی کو پیش کرکے ہم اونچے سے اونچے انعامات حاصل کررہے ہیں۔ (دیکھیں ھل الاسلام ھوالحل (محمد عمارہ)
مغربی تمدن جو اپنے سائنسی علوم وفنون کے حسن سے خوشنما نظر آتی رہی اور اس کے بل بوتے پر اس نے دنیا کی قوموں اور ملکوں کو اپنے تابع بنایا آج وہ مفلس وقلاش نظر آنے لگی،اور اندر سے کھوکھلی دکھائی دینے لگی ہے، اس کے اصول متزلزل ہوگئے اور اسکے سارے نظام وسسٹم اور اس کی بنیادیں وستون منہدم ہونے لگے ہیں، ان کی سیاست وحکمرانی کے اصول کو مطلق العنانی و ڈکٹیٹریٹ ہٹ کا دیمک لگ گیا ہے، اس کا معاشی نظام بحرانوں سے دوچار ہے، جس کے نتیجہ میں اربوں کھربوں لوگ بھوک وپیاس اور افلاس کا شکار ہورہے ہیں۔ بے روزگاری عام ہوچکی اور قحط وبھوکمری ہر کاشتکاراور ہر فرد دور کرکے گھروں پر دستک دینے لگی ہے، اس کا سماجی نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ ہر جگہ بغاوت وانقلاب کی صدائیں بلند ہورہی ہیں، لوگ حیران وپریشان ہیں، کہ وہ اپنے مصائب ومشکلات کا حل کہاں تلاش کریں اور ا پنی بیماری کا علاج کس طرح کریں، ان کی کانفرنسیں محض زبانی جمع خرچ تک اور ذرائع ابلاغ پر تشہیری پروپگنڈوں تک محدود ہوگئی ہیں، ان کے کئے گئے وعدے اور معاہدے پانی کے بلبلے ثابت ہورہے ہیں جب چاہیں توڑ دیں اور اس سے مل کر جائیں ان کے دو طرفہ عہدوپیمان ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہیں جن کی کوئی قدر وقیمت نہیں جب چاہیں پھاڑ کر پھینک دیں ، اقوام متحدہ بے جان لاش بن چکا ہے جس کا نہ کوئی کام ہے نہ اثر ورسوخ ، یہود ونصاری کچھ بھی کرلیں ان پر حرف نہیں آسکتااور نہ اقوام متحدہ کا ضمیر بیدار ہوتاہے مگر اسلامی ملکوں کی بے بنیاد ، جھوٹی ومن گھٹ وکہانیوں ومفروضوں کی بنیاد پر اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی اور انہیں تباہ وبرباد کردیا جاتا اور لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی جان لے لی جاتی اور اس کی جانب سے ایک حرف مذمت بھی نہیں آتا ہے، بڑی طاقتیں ایک ہاتھ سے دوسرے کے ساتھ امن معاہدہ کرتی اور دوسرے ہاتھ سے اس پر تھپڑ برساتی ہیں، آج دنیا کی یہی صورتحال ہے اور اس کی واحد وجہ یہود ونصاری کا مسلط کردہ ظالمانہ نظام وپالیسی ہو اور آج دنیا کی حالت اس کشتی جیسی ہے جو بیچ سمندر میں طوفانوں میں گھر گئی ہو اور بادبان چکرا رہا ہو، مسلط کہ کرے تو کیا کرے، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہاہو کہ راہ نجات کیا ہے اور اس پر سوار اضطراب وبے چینی کے عالم میں زندگی سے مایوسی نظر آرہے ہوں جبکہ ان کی نجات اسلامی نظام حیات میں ہے، جو ان کے سامنے دسترس ہے، آج انسانیت کو ضرورت اسلام کے محفوظ وپائیدار نظام کی ہے، یہی نظام ان کی شقاوت وبدبختی کو دور کرسکتی ، انہیں برامان تک پہنچا سکتی ، سعادت وخوش بختی سے بہرہ ور کرسکتی اور امن وامان ، چین وسکون اور عدل وانصاف سے جینے کا مسکن انہیں فراہم کرسکتی ہے۔
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
ای میل۔[email protected]