نہ ہو رشتہء الفت تو سوز جگر کہاں باقی ؟
شمع محفل ہو کے جب تو سوز سے خالی رہا
تیرے پروانے بھی اس لذت سے بیگانے رہے
رشتہء الفت میں جب ان کو پرو سکتا تھا تو
پھر پریشان کیوں تیری تسبیح کے دانے رہے ؟
دوستی انسانی نسل کی بقاء کی ضامن ہے اور دنیا کا ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں اپنے ہم خیال کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے اور ہوتا بھی یوں ہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئ نہ کوئ ہمدم مل ہی جاتا ہے۔ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل اور حصول کی خاطر دوستی کا یہ رشتہ جسطرح کل نظر آ رہا تھا اسی طرح آج بھی نظر آ رہا ہے اور آنے والی نسلوں کی زندگی کا لازمی حصہ بھی بنا رہیگا ,چاہے انفرادی طور اس رشتے کی صحت قابل اعتراض ہی کیوں نہ ہو اور مجموعی طور کسی کے وقار پے شب خون ،کسی کی عزت پے یلغار،کسی کے مال کی غارتگری یا کسی فرد یا قوم کو زیر نگین کرنے کے لئے کیوں نہ قائم ہوا ہو۔لیکن دوستی کا یہ رشتہ اگرچہ ہر طرف شد و مد سے جاری ہے مگر اس کے لازمی نتائج خصومت،عداوت،بغض،نفرت اور رنج و ملال پے ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں یوں ثابت ہو رہا ہے کہ دوستی کے ان ٹوٹتے رشتوں میں سوز جگر شامل نہیں اور دنیا امن و سکون کی نشیلی فضاؤ ں سے یکسر محروم پشیمانی کے تپتے ریگزاروں میں روح سمیت جھلس رہی ہے۔اب ذرا قرآن مقدس اور احادیث نبوی کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ سچی دوستی کا معیار اور کسوٹی کیا ہے؟
انما المومنون اخوۃ
بے شک مومن آپس میں بھائ بھائ ہیں۔یہاں اس مغالطہ کو رفع کرنا ہوگا کہ مومن ہر وہ شخص ہے جو الله کی وحدانیت پے یقین کامل رکھتا ہو لہذا لفظ مومن کو کسی فرد یا قوم کے ساتھ محض اس اصول پے مربوط کرنا ایک زیادتی ہوگی کہ وہ کسی خاص قوم یا خطے سے تعلق رکھتا ہے۔کیوں اس لئے کہ حضرت نوح علیہ الصلواۃ والسلام کا فرزند کنعان,حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام کا باپ آذر،ضرت لوط علیہ الصلواۃ والسلام کی اہلیہ،حضرت آسیہ کا شوہر فرعون اور حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کا چچا ابو طالب،عقیدہ توحید کی فساد کی بنیاد پے زمرہ ایمان سے خارج ہیں۔
دوسرا اہم نقطہ کہ مومن ہی مومن کا بھائ ہو سکتا ہے ورنہ نسبی رشتہ اس پاک رشتے کا تعلق قائم کرنے کے لئے بہر صورت ایک ایسا عارضی گھٹ جوڑ ہے جس سے ابدی فلاح کا شائبہ تک نہیں ہو سکتا۔چونکہ اس آیت میں اخوت کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا تشریعی معنی دوست ہے۔اسی رشتے کی محکم بنیاد کو قرآن مقدس کی دوسری آیت میں بایں طور بانداز احسن بیان کیا گیا ہے :-
والمومنون والمو منات بعضھم اولیاء بعض یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و یقیمون الصلا ت و یوتون الزکاۃ و یطیعون الله و رسوله اولیک سیرحمھم الله ان الله عزیز حکیم۔القرآن (التوبتہ)
بو علی اندر غبار ناقہ گم
دست رومی پردہ محمل گرفت
ایں فروتر رفت تا گوہر رسید
آں بگردابے چو خس منزل گرفت(علامہ اقبال )
اور مومن مرد اوور مومن عورتیں ایک دوسرے کے( مدگار و معاون) دوست ہوتے ہیں،اچھائ کی ترغیب دیتے ہیں اور برائ سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور الله اور الله کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں،یہی لوگ ہیں جن پے الله رحم کرتا ہے۔بے شک الله زبردست حکمت والا ہے۔
اس آیت میںدوستی کی پائیدار بنیادوں کی وضاحت موجود ہے۔ان بنیادی شرائط کی بیک وقت موجودگی میں اخوت،محبت اور جذب باہمی کی ضمانت محفوظ ہے۔اب ذرا ہم اپنا اور اپنے مسلم معاشرے کا احتساب کریں تو بہت مشکل سے ہزار میں ایک ایسی سعید روح ہمیں نظر آئیگی جس میں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھائ پے ابھارنے اور برائ سے روکنے کی حمیت اور غیرت پائ جاتی ہو اور قیام نماز کے ساتھ زکوۃ کی ادائیگی کی بھی پابند ہو۔تلقین خیر تو ہر مسلم کا فرض عین ہے اور برائ سے اجتناب،خیر کی اس مہم کو سر کرنے کے لئے ہھتیار ہے۔بد قسمتی سے یہاں فقدان ہی فقدان ہے۔ جب کوئ اپنے نفس امارہ کی سرکوبی سے ہی عاجز ہو تو معاشرے کی اصلاح کب ممکن ہو سکتی ہے اور جب ایک طویل مدت تک کوئ گھر،ادارہ،سماج یا قوم تیر بہدف اصلاح سے محروم رہے تو معاشرے کی اکثریت کا بے خانما برباد رہنا ایک ایسی دلخراش داستان بن جاتی ہے کہ جس سے نجات سد اسکندری کو کریدنے سے بھی زیادہ کار دشوار بن جاتا ہے۔
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مغرب زدہ مسلم معاشرے کے افراد کی دوستی,دروغ کو فرغ دینے کی بنیاد پے قائم ہوتی ہے اور اس مرض مہلک کے ہلاکت خیز مناظر آئے دن انسانیت کو شرمسار کر رہے ہیں۔عقل کے زلزلوں نے عشق کے حصاروں کے در ودیوار میں صدمے ڈال دئے ہیں۔بو علی سینا کے پیروکار فلسفی جابجا نئے نئے گل کھلا رہے ہیں اور پیر رومی کا سوز جگر سینے میں تھامنے والے خال خال ہی نظر آرہے ہیں۔واحسرتا !
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پے عیاں ہو جا
خودی کا ترجماں ہو جا خدا کا رازداں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا۔(اقبال ؒ)
الحدیث :-مثل المومنین فی توادھم وتراھمھم و تعاطفھم مثل الجسد الواحد اذا اشتکی منه عضوا تداعی له سائر الجسد با السھر والحمی
مومنوں کی مثال آپس میں محبت کرنے ،ایک دوسرے پر ترس کھانے اور ایکدوسرے پر شفقت کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے لئے بخار کے ساتھ تڑپ اٹھتا ہے اور اسکی وجہ سے بیدار رہتا ہے۔
ہمارے مسلم معاشرے میں کتنے ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو دوسروں کے لئے تڑپتے ہیں۔یہاں تو نقلی ادویات کھلا کر زہر دیا جا رہا ہے۔ہر چیز میں ملاوٹ کرنا تو ایک دستور ہی بن گیا ہے۔کہاں رہی اخوت،کہاں گئ محبت اور کب مل پائینگے دوست !
پائیدار دوستی کے لئےایک اور بنیادی اصول :-
واعتصموا بحبل الله جمیعا ولا تفرقو۔۔۔۔۔۔ا لخ
اور سب الله کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ و اور فرقوں میں نہ بٹو۔
اس محاذ میں بھی مسلم معاشرہ کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے اور قبر پرستی سے لیکر شرک فی الربوبیت و شرک فی الرسالت کی مجالس, ملاؤں کی من مانی کی پیروی میں پے در پے انجام پا رہی ہیں اور دنیا کے ,ساتھ ساتھ ,عام مسلماں کی عاقبت بھی لٹ رہی ہے۔جہالت اور فریب کے اس سیلاب کو روکنے کے لئے عام مسلمان کو دین سے بیگانگی کی عادت کو ترک کرنا ہوگا۔اگر مسلم سماج اسلامی معارف و مسائل سے آگاہ ہوتا تو خدا کے بندے کو خدا نہ کہتا۔ غوث الاعظم مطلب سب سے بڑا مدد گار،کون ؟ الله کا بندہ یا الله !
تو یہاں تک ان بنیادی شرائط کو مستند دلائل کی روشنی میں بیان کیا گیا جو سچی دوستی کے لئے اتنی ہی ضروری ہیں جتنی جسم کے لئے روح۔اگر واقعی اس گمان میں وزن ہے کہ آج کا مسلم معاشرہ عمومی طور ان اوصاف سے عاری ہے تو یہ تلخ حقیقت نا قابل انحراف ہوگی کہ اس معاشرے کی زندگی کے آثار محض ایک سراب ہے۔
قارئین دوستی کتنی عظیم دولت ہے اس کا اندازہ ہمیں اس آیت سے بآسانی ہو سکتا ہے :-
و الف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا۔۔۔الخ
اے نبی اگر آپ زمین پے موجود ساری چیزیں خرچ کر ڈالتے تو پھر بھی آپ انکے دلوں میں محبت پیدا نہیں کر سکتے۔
لہٰذا جسے محبت (دوستی) ملی اسے سب کچھ ملا اور جو اس سے محروم رہا،گویا اسےکچھ بھی نہ ملا ۔ایمان کی بنیادوں پے قائم دوستی،میاں بیوی کی ہو،باپ بیٹے کی ہو،بھائ بھائ کی ہو،بہن بہن کی ہو یا کسی اور کی ہو،ایک عظیم نعمت ہے جسکا سلسلہ آگے جا کر سیدھا الله کی ذات سے ملتا ہے،اسی لئے الله رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوات والسلام کو خلیل الله یعنی اپنا دوست قرار دیا۔
اگر اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہمارے رشتے جڑتے تو جہیز دے کر بھی ہماری بیٹیاں زندہ جلائیں نہ جاتیں۔دوستی خریدی نہیں جاتی یہ وہ چمن ہے جسکی آبیاری سوز جگر سے ہوتی ہے۔سوز جگر کیا ہے ؟ نبی کی محبت اور نبی کی محبت کیا ہے ؟ الله سے دوستی اور یہی معراج مومن ہے اور یہی کمال بندگی کی آخری سرحد۔
پتہ۔تحصیل بانہال،ضلع رام بن ،جموںوکشمیر
رابطہ۔8493990216