آج دنیا بھر میں ایسے پر آشوب وقت میں حجاب ڈے منایا جارہا ہے جب عالمی سطح پر مسلمانوں کے عقائد ، تہذیب و تمدن اور فکر و فلسفہ پر کہیں اسلام سے ناواقف لوگ اور کہیں بدباطن اور بد دماغ عناصر انگلیاں اٹھاکراسلام بے بیزار فتنوں کی آگ سلگا رہے ہیں ۔ خاص کر مغر بی اور یو رپی ممالک مسلسل نہ صر ف اسلام اور پیغمبر اسلامؐ بلکہ مساجد ،اسلامی مراکز، لباس اور حجاب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔مغر ب اور یورپ میں آسٹر یلیا سے لے کر ار جنٹا ئن تک اور فر انس سے لیکر سویزر لینڈ تک مسلمانوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے ،انہیں راہ چلتے نہ صرف طنز کا نشانہ بننا پڑتا ہے بلکہ ہر طر ح کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے نیز روز مرہ کے کاموں ،سفر کے دوران اور آ فسوںمیں ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک ہوتا ہے ۔ اسلام کی حقیقی تصویر کو بگاڑ نا،مسلما نوں کو بد نام کرنا ،انہیں جاہل اور خوفناک روپ میں پیش کرنا،اور انہیں ذہنی و جسمانی طور سے پر یشان کرنا،تشددکا نشانہ بنانا،مساجد اور اسلامی شعائر پر حملے کرنا،مسلمانوں کے مخصوص لباس پر طعنے کسنا اور ان کے تہذیبی تشخص اور جائز اور بنیادی حقوق سے محروم کرنا وغیرہ اسلا مو فوبیا کی مختلف شکلیں ہیں۔حجاب بھی اسی فوبیا کی زد میں ہے۔ زیادہ تر مسلم خواتین حجاب اور بر قعہ پہننے کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی شکار ہو تی ہیں۔
مسلمانوں اور مساجد پر نظر رکھنے والی ہیلپ لائن’’ ٹیل ماما‘‘ کے مطابق مسلم خواتین حجاب میں ہونے کی وجہ سے نفرت پر مبنی حملوں کی شکار ہو رہی ہیں۔برطانیہ میں نسلی حملوں کی شکار زیادہ تر مسلم خواتین اور لڑکیوں نے روایتی اسلامی لباس پہن رکھے تھے ۔ان خواتین پر زیادہ تر حملے بس،ٹرین اور عوامی مقامات پر کئے گئے۔نومبر ۲۰۱۵ میں پیرس میں حملے کے بعد صرف ۱۰ دنوں میں ۳۴ خواتین اور بچیوں کو حجاب پہننے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔اس طرح سے سو یزر لینڈ میں خواتین کو برقعہ اور نقاب پہنے پر پابندی عائد کی گئی اس قانون کی خلاف ورزی کر نے پر ۶۵۰۰ کا جُر مانہ عائد کیا گیا۔
یورپ میں میں ہر جگہ حجاب کو تہذیب دشمن عناصر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ وہاں حجاب کو دقیا نوسی اور زمانہ جہالیت اور تنگ نظری کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے لیکن بات اتنی ہی نہیں ہے بلکہ وہ آگے بڑھ کر مسلم خواتین کی کھلے عام سڑکو ں، چوراہوں اور سٹیشنوں پر تذلیل کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات مغرب اور یورپ میں ہر جگہ رونماء ہوتے ہیں ۔نیدر لینڈ یورپ کا پہلا ملک ہے جہاں برقعہ استعمال کرنے پر بین عائد کی گئی اور اس کا نفاز ۲۰۰۵ ء میں ہوا ۔اس کے بعد بلجیم نے بھی برقعہ اورحجاب پر بین عائد کر دی ۔ ان ہی کی دیکھا دیکھی میں آسٹرلیا اور ڈنمارک نے بھی حجاب اور برقعہ کو اپنے ملک کے لئے خطرہ قرار دیا ہے ۔
۲۰۰۰ ء سے فرانس مسلسل حجاب کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور ۲۰۰۴ء میں اس نے باضابطہ اس کے خلاف قانون پاس کیا ۔پورپ کے کئی ممالک میں حجاب کو جلایا بھی گیا اور پاؤں تلے روندا بھی گیا ۔مغربی مفکرین اور صحافی اس کے لئے راہیں ہموار کر رہے ہیں ۔ مثلاََمارکس کروگر نام کا ایک صحافی کا کہنا ہے کہ "The headscarf is a symbol of the fact that women in islam are scond class citizens and that this status is encoded in both sacred text and tradition ,enforced by law and culture "
اسلام نے عورت کو تہذیبی ، معاشی ، تعلیمی اور معاشرتی حقوق عطا کئے ہیں ۔ اس نے عورتوں پر وہ احسان کیا جس کی دنیا کے کسی بھی نظریہ ، تہذیب اور مذہب میں مثال نہیں ملتی ۔ اس نے مردوں اور عورتوں پر وہ تمام احسانات کئے ہین جن کی بدولت گھر گرہستی کی گاڑی مضبوط ہوئی ۔اسلام نے عورتوںکے نہ صرف حقوق متعین کئے ہیں بلکہ ان کے تشخص کو بلندی بخشی ،ان کو ملک وملت اور قوم و معاشرے کے لئے مرد کا معاون قرار دیا ۔اسلام نے عورت کو پردہ جیسی عظیم نعمت سے بھی نوازا ۔اسی پردے اور حجاب میں اس کی حقیقی زیب و زینت کا اظہار ہوتا ہے ۔
حجاب اور اس کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لئے چند سال پہلے اسلامی تحریکات اور علماء کونسل نے علامہ یوسف القرضاوی کی صدارت میں ایک تاریخی فیصلہ لیا جس کے مطابق ہر سال ۴ ستمبر کو یوم حجاب کے پر منایا جائے گا ۔۴ ستمبر کو حجاب کا جو دن منایا جاتاہے اس کا یہی پس منظر ہے ۔حجاب کوئی فیشن یا رسمی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی تہذیب کے خلاف اعلان ِجنگ کی علامت ہے ۔حجاب ایک عورت کو اس کا صحیح تشخص فراہم کرتا ہے ۔اس کا اصل مقصد صرف عورت کی اندرونی ساخت اور اس کے پوشیدہ اعضاء کو ڈھانپنا ہی مطلوب نہیں ہے بلکہ مریض ذہنیت والے مردوں کی بد نگاہی اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنا بھی ہے ۔حجاب عورت کو تمام فاسد عناصر اور گندے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس کے برعکس ننگا پن یا بے حجابی عزت یا ترقی کی علامت نہیں ہے بلکہ تنزل کی علامت ہے ۔نیز یہ اخلاقی فساد ، سماجی بگاڑ اور غیرت و حمیت کی نیلامی کا مظہرہے ۔ننگا پن اور بے حجابی قدامت پسندی اور پہلی صدی کی علامت ہے ۔ ننگا پن اگر ترقی کی علامت ہے تب تو جانور انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں ۔ڈاکٹر توکل کرمان لکھتی ہیں کہ’’ ابتدائی زمانہ میں انسان تقریبا َبرہنہ زندگی گزارتا تھا ،جیسے جیسے اس کے فہم دو دانش میں اضافہ ہوتا گیا ، اس نے لباس پہنا شروع کیا ۔ حجاب مسلمان خاتون کی وسعت اور اسلامی فکر و تہذیب کی ان اعلی اقدار کو ظاہر کرتا ہے جنہیں انسان نے حاصل کیا ہے ۔عورت کا حجاب کسی زوال کی علامت نہیں بلکہ عروج کی علامت ہے جب کہ عریانیت برہنگی اور بے حیائی تنزلی کی علامت ہے‘‘۔ موصوفہ اسلامی رنگ و تہذیب اختیار کرنے والوں اور حجاب پسندوں سے مخاطب ہوکر کہتی ہیں کہ’’ عورت کا حجاب کسی تنزلی یا پستی کی نہیںبلکہ ترقی کی علامت ہے کیوں کہ آج کی بے حیائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ انسان پھر اپنے ابتدائی قدیم زمانہ کی طرف رواں دواں ہے جس وقت لباس کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ ‘‘یاد رکھیئے مسلم عورت کا باپردہ رہنا اور حجاب پہنناکسی ظلم، غلامی یا قدامت پسندی کا اظہار نہیں بلکہ یہ اس کے عروج وارتقاء کا ضامن ہے ، جب کہ عریانیت، برہنگی اور بے حیائی تنزلی و بازاری پن کا کھلا اشتہار ہے ۔آئیے آج کے روز ہم یہ تجدید عہد کریں کہ ہم اپنی ماں ، بہن بیٹی کی تعظیم اور تکریم میں اور حیا باختہ زمانے کی بد نگاہی سے انہیں بچانے کے لئے حجاب کی پاکیزگیاں عام کرنے کا بیڑا اٹھائیں بالکل اسی طرح جیسے مشرق و مغرب میں ملت کی بیٹیاں اور بہنیں تمام خطرات ، خدشات اور شبہات کو نظر انداز کر کے مشکل ترین حالات میں بھی حجاب کو بدرجہ عبادت اختیار کر لیتی ہیں ، تاکہ وہ سماج میں شو پیس نہیں بلکہ معلم اخلاق اور زینت دہر کے طور اپنا منفرد وجود منوائیں ۔
رابطہ۔ کانہامہ بیروہ ،فون نمبر۔6006475945