دنیا کے کْل رقبہ کے ایک چوتھائی حصے پرموجود 50 اسلامی ممالک میں1ارب 70کروڑ سے زائدمسلمان آباد ہیں۔اتنی تعداد میں ہونے کے باوجود آج ا تنے کمزور ہیںکہ ا ہلِ مغرب اور انکی تہذیب کو بظاہران سے کوئی خطرہ تو نہیں،لیکن پھر بھی یہودیت اور عیسائیت اپنی صلیبی ذہنیت کے ساتھ مسلم اْمت کے ساتھ بر سر ِ پیکار ہے۔بے پناہ قدرتی وسائل تیل،گیس اور یورینیم سے مالامال اور اہم ترین بندر گاہوں و اہم ترین عالمی بحری راستوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلم اْمت سمندر کے جھاگ کی طرح بے وزن دکھائی دے رہی ہے۔جس طرف نظر اْٹھائیں تو ہر طرف مسلمان زیر عتاب ہیں۔فلسطین میں قیامت ٹوٹ رہی ہے ،برما میں مسمار ہورہے ہیں،عراق ،لیبیا،مصر،شام ،لبنان،افغانستا ن میں اِنہیں تہہ ِ بارودکیا گیا ہے ،کشمیر لہو لہو اور بھارتی مسلمان بھی آہ و فغاں ہے۔حالانکہ یہ وہی قوم ہے جس کی ابتدا 611ء میں ہوئی ،جب امام کائنات ؐنے توحید کی صدا لگائی، ایک عظیم انقلاب برپا ہوا ،عرب کے ایک چھوٹے سے شہر سے اْٹھنے والی معصوم آواز انتہائی مختصر عرصہ میں کرہء ارض پر پھیل گئی اورمحض23سال میں اس قوم کی ایماندار ، متقی ،بہادر افرادکی ایک چھوٹی ٹولی کی مجاہدانہ قوتوں سے ایسے ناقابلِ یقین واقعات رونما ہوئے جوکہ ناقابل ِ فراموش ہیں۔ کہیں 313نے1100کامقابلہ کیا ،تو کہیں صرف 60نے مدمقابل 60ہزار کو ناکوں چنے چبوائے۔ تعداد میں کم ہونے اور محدود ذرائع کے باوجود فتح پہ فتح حاصل کرتی رہی اوربڑی بڑی فوجی طاقتیں ان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔روم اور فارس جیسی سپر طاقتیں مسلمانوں کے زیر نگیں آنے کے بعد بھی وقت کا پہیہ رواں دواں رہا ، مسلمان پے در پے کامیابیاں حا صل کرتے رہے اورآگے بڑھتے رہے مگر شو مئے قسمت کہ خلافت راشدہ کے بعدیہ قوم اپنے آپ کو سنبھالنے میں ناکام رہی اور شان وشوکت کی زندگی کو عیاشیوں میں ڈبو ڈالیںاور پھر گھوڑے بیچ کر ایسے سوگئی کہ عیسائیت ، اشتراکیت ، اشتمالیت، یہودیت ،لادینیت اور مغربی طاغوتی طاقتوں کے جال میں جکڑ کر رہ گئیں۔جنگ عظیم اول کے بعد مسلم اْمت نے خلافت کو جڑ سے اْکھاڑ کر پھینک دیا اورپھر3مارچ 1924ء کو اس قوم کے ایک حکمران مصطفیٰ کمال نے خلافت کے خاتمہ کا باضابطہ اعلان کیا۔جبکہ 14مئی 1948ء کو رات دس بجے ایک یہودی ایجنسی نے دنیا کی اْس پہلی یہودی نظریاتی ریاست کے قیام کا اعلان کیا جو اب تک نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ مسلم دنیا کے لئے ناسور بن چکی ہے۔ 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود جہاںتواتر کے ساتھ فطری فلسطینی باشندوں کا بے دریغ خون بہایا جا رہا ہے وہیں اْن کو اپنے وطن سے نکالنے کا عمل بھی جاری و ساری ہے اورعالمی ادارے بھی اپنے ایوانوں سے اس قوم کے ساتھ کی جانے والی سفاکی کے نظارے دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کی یہودی لابی نے جس کے قوم کی پیٹ میں اسرائیل کا چھرا گھونپا،اہل سعود کا کردار بھی کافی حد تک اہل ِیہود جیسا رہا ،یہاںتک کہ وہ نبی اکرم ؐکے آخری خطبہ کا پہلا اور بنیادی نکتہ تک بھول گئے کہ’’ عرب کی سرزمین پر یہو دونصاریٰ کا وجود نہ ہو‘‘۔نتیجتاً آسج عرب میں امریکہ کی بے دام غلامی کی شکل ہمیں عملی طور پر بخوبی نظر آتی ہے۔در اصل مشرق ِ وسطیٰ میں اپنے مفادات کا حصول برقرار رکھنا اہلِ مغرب کی ترجیحات کا اہم حصہ ہے اس لئے وہ شروع سے ہی اپنے سازشی منصوبوں پر کاربند ہیں،جس کے تحت وہ نہ صرف عربوں کی دولت پر اپنا غاصبانہ قبضہ جمائے رکھنے پربضد ہیں بلکہ اْنہیں آپس میں لڑانے میں بھی مصروف ِ عمل ہیں،جس کے نتائج وقفہ وقفہ کے بعد ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔خیر۔۔۔۔!
اس وقت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امریکہ کی سربراہی میں کرایا جانے والاحالیہ امن معاہدہ پوری مسلم دنیا میں زیر بحث ہے۔ کسی کے نزدیک یہ مشرقِ وسطیٰ میں فروغِ امن کا باعث بن سکتا ہے اور کسی کی نظر میں یہ مسلم ملکوں کو آپس میں لڑنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے جبکہ ایران اور ترکی سمیت چند دیگر مسلم ممالک اسے اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدام سے تعبیر کر کے رد کر رہے ہیں۔ پاکستا ن نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو حق نہ ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے سبھی کی نظریں سعودی عرب پر تھیں جو مشرقِ وسطیٰ کا ہی نہیں اْمتِ مسلمہ کا بھی اہم ترین ملک گردانا جاتا ہے۔چند روزقبل سعودی عرب نے بھی کہا کہ وہ اْس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن ضروری ہے، اس کے بعد تمام چیزوں کا حصول ممکن ہے۔ملائشیا ئی رہنما مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے، جس سے مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوجائیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کے ناسور اسرائیل کے غیر قانونی قیام اور استحکام کی تفصیل خاصی طویل ہے، جس میں برطانیہ اور امریکہ کا بھرپور ہاتھ ہے۔ سردست مسلم اْمہ کے بیشتر ممالک اسرائیل کی مغربی کنارے پر قبضہ اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر پر ہی نہیں ،فلسطین اور فلسطینیوں کی بقا کے لئے پریشان ہیں۔ معاملات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس شر میں خیر کا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان، ایران، ترکی ،ملائشیااور سعودی عرب سمیت بیشتر مسلم ممالک کا جوموقف دکھائی دیتا ہے تو یہ عالم اسلام کے لئے باہمی اتحاد کا نادر موقع ہے کہ وہ یکسو ہو کر اس معاملے کی بجائے اس مسئلے کے حل کی بات کریں تاکہ معاملات بہتر طور پر طے کئے جا سکیں جبکہ وہ اس میں مسئلہ کشمیر کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔ اب یہ مسلم اْمہ کی دانش و لیاقت پر منحصرہے کہ اس سے خیر کیسے برآمد کرتی ہے۔
یادرہے کہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میںامن معاہدہ کے اعلان کے بعد اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں جشن کا سماں رہا اور ساتھ ہی یہ اندازے لگائے جانے لگے کہ امارات کے بعد اورکون کون یہ جرأت دکھائے گا؟جبکہ سعودی عرب سمیت 5 ملکوں کے نام بھی لئے جاتے تھے۔ سوئے اتفاق یہ تھا کہ اس اعلان سے پہلے پاکستان اور سعودی تعلقات میں تلخی آچکی تھی اور اس تلخی کو اسرائیل کے ساتھ جوڑنے کی غرض سے یہ دعوے کیے جارہے تھے کہ پاکستان پر بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو تھا اور یہ دبائو ہی تعلقات کی خرابی کی وجہ بنا کیونکہ پاکستان نے دبائو میں آنے سے انکار کردیا۔
اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوششیں جارہی ہیں کہ ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں لیکن یہ رپورٹ کرنے والے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ حتمی فیصلہ شاہ سلمان نے کرنا ہے جوکہ اس وقت بہت علیل ہیں۔ بظاہر شاہ سلمان فلسطین کاز کے ساتھ مخلص ہیںاور جنوری میں فلسطینی وزیرِاعظم محمود عباس کو یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ سعودی عرب فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ظاہرہے کہ سعودی عرب کی پوزیشن عرب امارات سے الگ ہے۔ سعودی عرب حرمین شریفین کی وجہ سے مسلم دنیا میں الگ مقام رکھتا ہے اور مسلم امّہ کی سیادت کا بھی دعویدار ہے اور ترکی، ملائشیا اور ایران کی طرف سے سیادت کی دعویداری کا مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ اس لیے ان حالات میں سعودی عرب کے لیے ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر سعودی عرب کو مستقبل میں اسرائیل کو تسلیم کرنا بھی پڑا تو فلسطینیوں کے لیے رعایتیں لینے کے بعد ہی کچھ ہوسکے گا۔چنانچہ اس وقت سعودی عرب کے شاہ سلمان قریب المرگ ہیں جس کے نتیجہ میں وہاں صورت حال نہایت گوناگوں ہے۔تخت نشینی کے حصول کے لئے ولی عہد محمد بن سلمان نے جہاں تمام روایتی اصولوںسے بالاتر ہو کر اندرونی کانٹوں کی صفائی کردی ہے وہیںتخت پر قبضہ جمانے کی راہ میں پیش آنے والی روکاوٹوں کو بھی دور کردیا ہے۔ اخباری ذرائع کے مطابق بیشتر شہزادوں اور شہزادیوںسمیت قریباً پانچ سو افراد کو گرفتا ر کیا جاچکاہے جن میں سابق وزیر داخلہ،فوج اور حکومتی عہدیدار ،کماندار،گورنراوراْن کے حمایتی شامل ہیں جبکہ بہت سوں کو ٹھکانے بھی لگوایاگیا ہے۔جس پر کسی حد تک امریکہ بھی اْس سے ناراض ہے کہ یہ سب کچھ اْس کی مرضی کے بغیر ہورہا ہے۔ تخت نشینی کے بعد نئے سعودی شاہ کی پالیسی میں کون سی لچک آتی ہے، اس کے متعلق قبل ازوقت واضح طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا تاہم تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اسرائیل کا ساتھ دینے اور اسے تسلیم کرنے والوں کو بعد میں پچھتانا پڑا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے خطے میں خوشحالی آئے گی اور اسرائیل کے دوست بننے والے ملک معاشی اور دفاعی اعتبار سے مضبوط ہوں گے، لیکن اسرائیل کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے اْردن اور مصر کا حال ہم سب کے سامنے ہے۔یہ دونوں ممالک آج پہلے کی نسبت کمزور اور منقسم ہیں۔ یہ دونوں ملک کبھی خود کو خطے میں امن کا بانی کہتے تھے لیکن آج پچھتاتے ہیں کہ امن کے نام پر انہیں کیا ملا ہے؟ ان دونوں ملکوں کے ساتھ جو معاشی وعدے کیے گئے تھے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ مسئلہ فلسطین آج بھی حل طلب ہے اور ارضِ فلسطین مزید سکڑ گئی ہے۔