رئیس یاسین
اُستاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ استاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گم راہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کراتا ہے۔ اسلام نے استاد کو روحانی والد قرار دے کر ایک قابل قدر ہستی، محترم و معظم شخصیت کی حیثیت عطا کی۔ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے،جوقوم کے مستقبل کی اخلاقی تربیت میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔ نبی اکرم ؐکا فرمان ہے۔’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا ،میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق اقبال ،ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے۔باپ بچے کو جہاں اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے وہیں استاد بچے کو زندگی میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔ایک استاد کے پاس قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارا کل کا روشن مستقبل ہمارے نوجوان نسل ہیں، اگر آج انکی اچھی تربیت کی جائے تو تو قوم کا مستقبل بھی روشن اور تابناک ہو گا۔ اس لئے ایک استاد کا ایک طرف اپنے مضمون کا ماہر اور دوسری طرف اخلاقی بلندی اور دینی فہم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ ایک عظیم مشن ہے، جیسے اقبال نے کہا تھا ’’شیخِ مکتب ہے اک عمارت گرجس کی صنعت ہے رُوحِ انسانی‘‘۔
استاد کی حیثیت معمار جیسی ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ معمار عمارت بناتا ہے لیکن استاد انسانی شخصیت یا روح کی تعمیر کرتا ہے۔ روح انسان کی تعمیر عمارت سازی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم اور مشکل کام ہے۔ ایک استاد میں لیڈر شپ کی کالٹی ہونی چاہیے جو بچوں کی نفسیات کو جان سکے کہ کس بچے کیا رجحان ہے۔ استاد کی رہنمائی سے ہی ایک معاشرے میں اچھےڈاکٹر، اچھے انجینئر، اچھے جج، گویا سارے شعبے اس وقت اچھے ہو سکتے ہیں، جب استاد کی رہنمائی اچھی ہو چکی ہو۔ یہاں پر میں یہ بات بھی کہنا چاہوں گا کہ جو شخص استاد کا پیشہ اختیار کرے، اُس کے اندر ایمان، اخوت، اخلاق لازمی ہونا چاہیے۔ دورِ حاضرمیں آئے دن ایسے واقعات دیکھتے میں آتے ہیں جن سے سر شرم سے جھُک جاتا ہے ۔گویا ہماری قوم کی بیٹی بھی اُن سے محفوظ نہیں۔ استاد کا کردار اس لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے،کہ اُن کی تربیت سےمعاشروں کی حالت تبدیل ہو سکتی ہے۔
یہ استاد ہی ہے جو ایک بچے میں اچھے عادات ڈال سکتا ہے۔ یہ استاد ہی ہے جو ایک بچے کو فکری ترقی دلا سکتا ہے۔ یہ استاد ہی ہے جو ایک بچے کو اخلاقی لحاظ سے نیکی کی راہ پر لا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو بھی بڑے بڑے کارنامے کسی نے انجام دئے، اس میں اُن کے استاتذہ کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ ایک مدرس اپنے بچوں کے لیے ایک رول ماڈل ہونا چاہیے، اس کے اندر ایسے اوصاف ہونے چاہئیں، جس سے وہ بچوں کو پڑھائی کی طرف مائل کر سکے۔
معلّم کے کردار کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس عالم رنگ و بو میں معلّم اوّل خود رب کائنات ہیں ۔چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے ،اورآدم ؑ کو اللہ کریم نے سب چیزوں کے اسماء کا علم عطاء کیا۔(البقرہ۔31) ۔انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ تعلیم کا بھی انتظام فرمایا‘‘۔ رحمٰن ہی نے قراٰن کی تعلیم دی،اس نے انسان کو پیدا کیااس کو گویائی سکھائی‘‘۔(الرحمٰن)ذریعہ تعلیم قلم کو بنایا ’’پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم سے سکھایااور آدمی کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتاتھا‘‘۔(العلق ۔6)
پتہ:پدگام پورہ، اونتی پورہ۔
rayeesshah157@@gmail.com