جموں //اصنافِ سُخن کے مختلف رنگوں سے آراستہ ریاست کی معروُف واحد کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں کے زیر اہتمام اِس کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں میں گذشتہ روز مختلف موضوعات کے تحت اسلوُبِ نغمہ ( گیٖت) پر ایک خاص سُر مئی ادبی نِشست کا اہتمام ہوا۔ جِس کی صدارت کے فرا ئض گوجری کے جانے مانے شاعر و گلو کار محمّد سرور چوہان حبیٖب ؔ نے انجام د یئے ۔ نِشست کی نِظامت کے فرائض اُردوُ، پنجابی و ڈوگری کے جانے مانے شاعر بِشن داس خاک نے انجام دِئے۔ اِس نِشست میں شہر جموں اور اِس کے گِردو نواح سے مختلف زبانوں کے شعراء اور نغمہ نِگار حضرات نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔ نِشست کے پہلے دور میں اسلوُبِ نغمہ کے مختلف پہلوؤں پرسیر حاصل روشنی ڈالی گئی۔ اِس موقعہ پر مقررّ ین نے اسلوُبِ نغمہ کے بُنیادی اجزاء کو تفصیلاً واضع کرتے ہوئے فِلمی و غیر فِلمی معروُف گیٖت کاروں کے حوالے سے اُن کے لِکھے گیتوں کے اقتباسات بھی پیش کِئے۔ خاص طور سے ساحرؔ لُدھیانوی ، گوپال داس نیرج، کیفی عظمی اور شکیل بدایونی کے نغموں کے حوالے پیش کِئے گئے۔نِشست کا دوسرا دوَر مُترنّم تھا۔ جِس میںنغمہ نِگار شعراء حضرات نے اپنے مختلف نغمے (گیٖت) گا کر حاضرین کو سرشار کِر دِیا۔گیٖت پیش کرنے والے کُچھ حضرات کے نام اِس طرح ہیں۔ سب سے پہلے تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کے اِس گیٖت کو بہُت سراہا گیا۔ ’کلا یُگ دے کوی لوکو زمانے گی سنواری لئیو۔‘نِشست میں پہلی بار تشریف لائے ڈوگری کے گیٖت کار جتیندر بسن کا گیٖت تھا۔ ’او چندوُا کدوں توُں مِلنا ں مِگی جدوں، کہ جدوُں میںمُکّی جاناں‘، مہاراج کرشن کے کشمیری کلام کا موضوع تھا۔ ’ پربھوُ میرے من میں بسے ہو تُم‘۔ کے آر سلگوترہ نے اپنے ایک ڈوگری گیٖت کے ساتھ ہی ایک پاکستانی گیٖت ’ میری چُنّی دِئیاں ریشمی نّ تنداں ، میں گھُٹّ گھُٹّ بنھّیٖئاںگنڈھاں‘ گا کر پُرانی یادیں تازہ کر دیٖں۔ سرور چوہان حبیٖب ؔ کاچُناؤ پرایک بڑا دلچسپ گوجری گیٖت تھا۔دسّن ہورنے کُج ہور کریں ، یہ کم تے لیڈر یور کریں، بھلو کسے غریب کے نئیں کرتا، بس سمبلیاں ماجا شور کریں۔‘ اِس کے ساتھ ہی آپ نے ایک معروُف فِلمی گیٖت ’ یہ شام کی تنہائیاں ایسے میں تیرا غم‘ گاکر خوب سماں باندھا۔اِس موقعہ پر شام طالبؔ نے اپنا ہِندی گیٖت پتھّر کے بھگوان بہُت ہیں شیٖشے کے انسان بہُت ہیں‘ گاگر پیش کِیا۔اِس موقعہ پر۔ اِس سُرمئی دور کے بعد ایک مختصر محفلِ افسانہ بھی ہوُا۔جِس میں شام طالبؔ نے رزانہ مِلاپ دھلی میں 29ستمبر 1874 کو شائع ہوااپنا ایک اُردوُ افسانہ ’سپنا جو ٹوُٹ گیا‘ پیش کِیا۔ جِسے حضرین نے بے حد سراہا۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔ جِس میں آپ نے نِشست کے اوقات میں تبدیلی بارے آئیندہ شام 4بجے سے 6بجے تک نشست ہونے کی یاد دہانی بھی کرائی۔