دہرادون// اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ میں گلیشیر کے ٹوٹنے سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے اب تک 31 افراد کی موت واقع ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ تقریباً 200 افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ لوگوں کو تلاش کرنے کی لگاتار کوشش کر جاری ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ترویندر راوت نے کہا کہ 35 افراد ٹنل کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں باہر نکالنے کے لئے ڈرل کے ذریعے راستہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تپوون میں پیر کی پوری شب ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق سرنگ میں 37 افراد پھنسے ہوئے ہیں اور تاحال کسی کو بھی باہر نہیں نکالا جا سکا ہے۔ریاستی سرکار نے سرکاریطور پر تصدیق کی ہے کہ اچانک آئے سیلاب میں اتوار سے 197 مزدور ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ راحتی ٹیم ایک سرنگ میں پھنسے ہوئے 12 افرادکو بحفاظت نکالنے میں بھی کامیاب ہوئی ہے۔ ادھرلوک سبھا میں کل چمولی حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے تئیں احترام کے طورپر خاموشی اختیار کی گئی اور وزیرداخلہ امت شاہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ حالات کو معمول بنانے اور راحت اور بچاؤ کے کام میں ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوںمرکزی وزیر توانائی نے واقعے کی جگہ کا دورہ کیا ہے اور وزیر اعلی اور ریاست کے عہدیدار مستقل واقعے کی نگرانی کر رہے ہیں اور مرکز کو اس کی اطلاع دے رہے ہیں تاکہ مل کر صورتحال کو جلدازجلد معمول پر لایا جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ 13 گاوؤں کا رابطہ مکمل طور پرمنقطع ہوچکا ہے ۔ اس دوران گاؤں کو جوڑنے والا ایک اہم پل بہہ گیا تھا جس کی مرمت کا کام تیزی سے چل رہا ہے ۔