عاصف بٹ
کشتواڑ// سب ڈویژن چھاترو کے علاقہ چنگام کی پنچایت سی گلوان پورہ کی رہائشی بیوہ خاتون نسیمہ بیگم اپنے 6بچوں سمیت کچی جھونپڑی میں گزشتہ15سال سے اپنے شب وروز گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ سرکار کی جانب سے اس کی کوئی دادرسی نہیںہوئی اور نہ ہی آواس یوجنا کے تحت اس کامکان بناہے۔مٹی کی جھونپڑی میں فقط دو کمرے ہیں اور چھ بچوں کو پالنے والی اس بیوہ کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ اپنا گزارہ کرسکے۔آج تک انکی مدد کیلئے کوئی پنچایتی ممبر آیا ہے اورنہ ہی کسی افسر نے حال جاننے کی زحمت کی ہے۔
بڑا بیٹا مزدوری کرکے گھر کو بڑی مشکل سے چلاتاہے۔ بارشوں و زلزلے سے مکان میں دراڑیں ہی دراڑیں پڑی ہیںجو کسی بھی وقت گرسکتاہے۔نسیمہ بیگم کے دس سالہ بچے نے بتایا کہ جب کبھی بارش ہوتی ہے تو سارا پانی چھت سے نیچے گرجاتا ہے اور انھیں اس کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں چھت ہی بیٹھ نہ جائے جبکہ وہ اس ٹوٹے مکان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مٹی کے بنے دو چھوڑے کمروں و ان پر لکڑی و مٹی کی ٹوٹی چھت سے ہروقت موت کا ڈر ستاتاہے۔
نسیمہ بیگم کی نو سالہ بچی نے بتایا کہ بارش کے وقت وہ کمرے سے باہربیٹھتے ہیں۔نسیمہ نے بتایا کہ اگر انتظامیہ انہیں آواس یوجنا کے تحت مکان فراہم کرتی توانکی مشکل آسان ہوجاتی۔ نسیمہ بیگم نے بتایا کہ گزشتہ دس سال سے وہ محکمہ کے دفاتر کے چکرلگارہے ہیں جبکہ متعدد بار سرپنچ نے بھی کاغذات لئے لیکن انہیں یہ کہاجاتاہے کہ لسٹ کے اندر نام ہی نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سیاست دان بھی صرف ووٹ مانگنے آتے ہیںاوراسکے بعد انکاحال پوچھنے کوئی نہیںہوتا۔انھوں نے انتظامیہ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیںآواس یوجنا کے تحت اگر مکان فراہم ہوتا تو انکی مشکل کم ہوتی۔ انھوں نے ضلع ترقیاتی کمشنرسے اپیل کی کہ وہ انکی مدد کرے۔دیہی ترقی افسر اندروال تسلیم جاویدنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال 2018میں ہوئی سروے میں انکا نام شامل نہیں تھا اور انکانام انہوںنے نہیں بلکہ آن لائن سسٹم کے ذریعے ردہوا جسکی وجہ سے انہیںآواس یوجنا کا فائدہ حاصل نہیںہوا۔انکاکہناتھا کہ اب انھیں اگلے مرحلے میں ترجیح دی جائے گی جبکہ یہ خاندان واقعی میں اسکا مستحق ہے اور انہیں اس یوجنا کا فائیدہ ملے گا۔بی ڈی او نے کہا کہ محکمہ نے بیوہ خاتون کے بڑے لڑکے کو ایم جی نریگا میں کام بھی دیاہے تاکہ وہ اپنے گھر کو چلاسکے۔