سرینگر //وادی میں منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کو علاج و معالجہ فراہم کرنے کیلئے مختلف ضلع اسپتالوں میں ایمز کے اشتراک سے 6ایڈکیشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز( اے ٹی ایف ) کا قیام عمل میں لایاجارہا ہے۔انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ” منشیات کی بری عادت میں لوگ خود مبتلا ہو جاتے ہیں اور لوگ ہی خود اس بری عادت کو ختم کرسکتے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ چاہئےں تو وہ کچھ دنوں کے اندر ہی اس بری عادت کو ختم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکارنے انسداد منشیات کیلئے ایک پالیسی ترتیب دی ہے اور اس پالیسی کے تحت منشیات کے عادی نوجوانوں میں مختلف اسپتالوں میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں ڈاکٹروں سمیت ہمارے سماج کا پڑھالکھا طبقہ بھی منشیات کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے اور اس کنفیوژن کو ختم کرنے کیلئے تربیت کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مختلف محکمہ جات میں کام کرنے والے ملازمین ،جن میں تعلیم ، پولیس اور دیگر محکمہ جات کے علاوہ رضاکار تنظیمیں اور سکولی بچے شامل ہےں ، کو تربیت فراہم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی لوگوں کو خود سامنے آنا چاہئے تبھی ہم اس بری لت کو ختم کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے کہا کہ ہمیں اس بات سے کبھی انکار نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارے سماج میں نشیلی ادویات کا استعمال ہورہا ہے۔ منشیات کے بارے میں جانکاری پھیلاﺅ اور زندگیاں بچاﺅ کے عالمی موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں منشیات کے خلاف مختلف طرےقوں سے لڑنا چاہئے اور اپنے بچوں سے اس بری لت پر بات کرنی چاہئے“۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں نشیلی ادویات کا استعمال کرنے والے افراد کو اب علاج و معالجہ کیلئے سرینگر نہیں آنا پڑے گا کیونکہ محکمہ صحت نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر ایمز کی مدد سے وادی میں 6اے ٹی ایف سینٹر قائم کرنے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سینٹروں میں علاج کے علاوہ نشیلی ادویات کے عادی نوجوانوں کی کونسلنگ بھی کی بھی سہولیات دستیاب ہونگی