دربار مو ختم کرنے سے جموں کے تاجروں کو بھاری نقصان ہوا: عمر عبد اللہ
جموں//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں انتخابات کے انعقاد سے قبل ریاستی درجہ بحال اولین شرط ہے۔ جموں میں کارکنوں اور ورکرس کے ایک روزہ کنونشن کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں جب بھی الیکشن کمیشن انتخابات کرانا چاہئیں، وہ کریں ،لیکن پہلے جموںکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ مکمل طور پر بحال کیا جائے بعد میں شوق سے انتخاب کرائے جائیں ۔ انکا کہنا تھا’’ باقی کی جو لڑائیاں ، چاہئیں دفعہ 370 کی ہوں یا5 اگست کا فیصلہ ہو،وہ ہم سپریم کورٹ میں دیکھیں گے‘‘ ۔عمر عبد اللہ نے کہا ’’ہم انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں تاہم اسمبلی انتخابات سے قبل جموںو کشمیر کے ریاستی درجہ کو بحال کیا جائے‘‘۔ انہوںنے کہا ’’ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہو گا تو نیک کام میں کیوں دیر کی جا رہی ہے‘‘ ۔ انہوںنے کہا ’’ دربار مو کے خاتمہ سے کشمیر کے بجائے جموں کے تاجروں کو نقصان ہوا اوریہ پانچ اگست 2019کا نتیجہ ہے‘‘۔ عمر عبد اللہ نے کہا’’ در بار مو کے سلسلے کو ختم کرنے سے سب سے زیادہ نقصان جموں کے تاجروں کو پہنچا کیونکہ جموں کے تاجروں کو اچھا فائدہ پہنچتا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ جانے سے قاصر ہیں کہ ہر ایک انسان پریشان ہے ،بے روز گاری ختم نہیں ہوئی، پھر فائدہ کس کو پہنچا ہے ؟۔انہوں نے کہا ’’ آپ نے یہاں ڈی ڈی سی انتخابات کرائے لیکن کوئی بھی ممبر آج تک مطمئن نظر نہیں آرہا ہے ‘‘۔ عمر عبداللہ نے طالبان کے بارے میں کہا: 'بھارت اور طالبان بات کرنے لگے ہیں، یہ آج کے اخبارات کی خبر ہے کہ قطر میں طرفین کے درمیان بات چیت ہوئی ہے،طالبان دہشت گرد تنظیم ہے یا نہیں۔ آپ (بھارتی حکومت) مہربانی کر کے ہمیں بتائیں کہ آپ طالبان کو کیسے دیکھتے ہیں؟‘‘۔انہوں نے کہا’’اگر طالبان دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو کیا آپ اقوام متحدہ میں جا کر اس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکلوائیں گے، کیوں کہ اس وقت آپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہے ہیں‘‘۔عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ اگر طالبان دہشت گرد تنظیم ہے تو آپ طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان کیسے فرق کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: 'مگر آپ کا مختلف دہشت گرد تنظیموں کے تئیں الگ الگ رویہ نہیں ہو سکتا، اگر وہ دہشت گرد تنظیم ہے تو آپ کیوں ان سے بات کرتے ہیں، اگر وہ دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو آپ نے ان کے بینک کھاتوں پر پابندی کیوں لگا رکھی ہے اور ان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ہیں‘‘۔