جموں/تعمیراتِ عامہ کے وزیر نعیم اختر نے قانون ساز اسمبلی میں حاجی عبدالرشید کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے 2488.06 کروڑ روپے لاگت والے 289 سڑک پروجیکٹ فنڈنگ کیلئے نبارڈ اور سی آر ایف کو بھیج دئیے ہیں ۔ وزیر نے مزید کہا کہ 72.26 کروڑ روپے لاگت والے مزید 26 سڑک پروجیکٹوں کی تجویز 2018-19 کیلئے تجویز کئے گئے ہیں اور یہ متعلقہ فنڈنگ ایجنسیوں کو بھیج دئے گئے ہیں ۔ چودھری سکھنندن کمار نے ضمنی سوال پوچھ کر اُن کے حلقے سے گذر رہے لنک روڈ کی تعمیر کا معاملہ اجاگر کیا اور کہا کہ علاقے کے کسانوں کے مفادات کو ملحوظ نظر رکھا جانا چاہئیے ۔ دریں اثنا نعیم اختر نے ایوان کو جانکاری دی کہ چنینی حلقے میں پچھلے دو برسوں کے دوران 12 سڑک پروجیکٹوں کو مکمل کر کے انہیں ٹریفک کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔ ایوان میں دینا ناتھ بھگت کے سوال کا جوان دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2016-17 کے دوران 10.16 کروڑ روپے کی لاگت سے 17 کلو میٹر لمبے 7 سڑک پروجیکٹوں کو مکمل کیا گیا جبکہ رواں مالی سال کے دوران 40 کلو میٹر لمبے سڑک پروجیکٹوں کو 24.15 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سڑک پروجیکٹوں کی بدولت 12 بستیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں مدد ملی ہے ۔ وزیر نے کہا کہ مال محکمے کو 21.33 کروڑ روپے واگذار کئے گئے ہیں تا کہ وہ چنینی حلقے میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت تعمیر ہو رہی سڑکوں کیلئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو معاوضہ فراہم کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک زمین کے مالکان میں 15.96 کروڑ روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں ۔ نعیم اختر نے کہا کہ چنینی پتن گڑھ سڑک کو پڑھاوا دینے کیلئے 20 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں تا ہم کئی وجوہات کی بنا پر ٹھیکیدار کام شروع نہیں کر سکا ۔ وزیر نے کہا کہ ٹھیکیدار سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مشینری سڑک کی دوسری طرف سے لا کر کام جلد از جلد شروع کرے ۔ نور محمد شیخ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ اس وقت قمر واری سے گاڑھ کدل چھتہ بل تک ویر چتھہ بل سے ہوتے ہوئے سڑک کی کشادگی کا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔