سرینگر// ٹنل کے آر پار ٹرانسپورٹروں نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے باوجود کرائیوں کے بجائے ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کے خلاف24 فروری سے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جموں میں منعقدہ میٹنگ کے دوران جموں کے لیڈروں کے علاوہ وادی سے مختلف ٹرانسپورٹ انجمنوں کے مشترکہ اتحاد کشمیر پسنجیر ویلفیئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے لیڈروں نے شرکت کی،جس میں 24فروری سے غیر معینہ عرصہ کیلئے پہیہ جام کرنے کافیصلہ کیا گیا۔میٹنگ میں شریک ہوئے ٹرانسپورٹ لیڈر اور کشمیر پسنجر ویلفیئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بدھ سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا اور یہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک کہ حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے ۔انہوں نے کہا کہ 6 جنوری کو یک روزہ ہڑتال کے بعد ، جموں و کشمیر کی حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے تمام مطالبات ایک ہفتہ کے اندر پوری کردیئے جائیں گے ، جو ابھی تک نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مسافروں کے کرایہ میں ترمیم کے لئے ٹرانسپورٹ کمشنر کے دفتر میں ایک خاکہ پیش کیا ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ شیخ محمد یوسف نے کہا کہ اپریل 2018 میں مسافر کرائیوں میں نظر ثانی کی گئی تھی ، اور اس وقت ڈیزل کی قیمت 65 روپے فی لیٹر تھی لیکن اب ڈیزل کی قیمت 82 روپے ہے جو جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹرز کے لئے قابل برداشت نہیں ہے۔انہوں نے جموں کشمیر انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ہمیں ہڑتال پر جانے کیلئے مجبور کیا گیا‘‘۔