جموں// بہادرنوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے انتظامیہ غیرمعمولی کارنامہ انجام دینے والوں کے نام کواعزازات کیلئے منظوری دیتی ہے لیکن تین سال قبل یعنی 2014 میں کشمیرمیں سیاحت کیلئے آئے سیاحوں کوبچانے میں کلیدی کرداراداکرنے والے ہونہارنوجوان عامراشرف جوبلال کالونی خیام چوک سرینگر کارہائشی ہے کواس کی بہادری کومدنظررکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ سرینگرنے جیون رکھشاسیریز ایوارڈعطاکرنے کیلئے منتخب کیاتھا لیکن تین سال گذرنے کے باوجود تاحال عامراشرف کومذکورہ ایوارڈنہیں دیاگیاہے۔ تفصیلات کے مطابق عامر اشرف ایک جوتوں کی دکان پر سیلز مین کے طورپرکام کرتا ہے ۔اس نوجوان نے ستمبر 2014میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے سیاحوں کو بچایا تھاجوسلینڈرپھٹنے کے بعد اس ہوٹل میں پھنس گئے تھے۔ اس بارے میں عامراشرف کاکہناہے کہ قریب کے ایک ہوٹل میں جب سلینڈرپھٹنے کاواقعہ پیش آیا اس وقت میں اپنے گھر میں تھا ، مجھے پتہ چلاکہ میرے گھر سے صرف چند میٹر کی دوری پر واقع ایک ہوٹل میں گیس سلنڈر پھٹ گیا ہے۔میں نے جب بچائو بچائو کی زور دار آوازیں سنیں تو میں فوراََ اپنے گھر سے دوڑا،دیکھا کہ سیاح ہوٹل میں پھنس گئے ہیں، میں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اس گیس سلنڈر کو ہوٹل سے باہر پھینک دیا اور گیس کی سپلائی بند کردی اگر چہ یہ جوکھم بھرا کام تھا مگر میں نے اللہ کے فضل سے انجام دیا اور اس طرح سے ہوٹل میں پھنسے سیاحوں کی جان بچ گئی۔اس کے صلے میں ضلع انتظامیہ نے مجھے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا تھا۔لیکن تین سال عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک مجھے ایوارڈ نہیں دیا گیا ۔محکمہ سی آئی ڈی نے میرے حق میں رپورٹ دی ہے ۔میرے یا میرے کنبہ کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے ۔اس سلسلے میں جب ڈی سی سرینگرسے رابطہ کرنے کی کوشش کی توان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔غوروفکرکرنے کی بات ہے کہ اگرعامراشرف کویہ ایوارڈعطانہیں کیاگیاتواس کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔