سرنکوٹ//2014 کے سیلاب نے جہاں جموں کشمیر کے ہر علاقے کو اپنی زد میں لیاوہی سرنکوٹ کے لوگ بھی اس سیلاب کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ۔اس دوران دریاسرن پر بنائے گئے کئی پل زمیں بوس ہوگئے جبکہ 132کے وی بجلی کی لائن بھی تباہ ہوئی اورجموں پونچھ شاہراہ پر بھی دریا کے کنارے سے کٹ کر رہ گئی۔اگرچہ سیلاب کے بعد سڑک اور کچھ پلوں کی مرمت کرکے انہیں قابل آمدورفت بنایاگیاتاہم کچھ پل ایسے ہیں جن کی طرف کسی نے مڑ کر نظر نہیں ڈالی اور چار سال گزرجانے کے بعد بھی ان کی مرمت کاکام شروع نہیں کیاگیااور نہ ہی امکانی سیلابی خطر ے سے بچنے کیلئے احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ گزشتہ روز بھی دریائے سرن میں زبردست طغیانی آئی جس کی وجہ سے بیلہ، سنئی اور پوٹھہ کی لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئیں جبکہ فضل آباد کے ایک نوجوان کی نعش بھی اسی علاقے سے برآمد ہوئی جس کی بعد میں انظار حسین ولد طالب حسین عمر بائیس سال کے طو رپر شناخت کی گئی ۔ذرائع کے مطابق یہ نوجوان دریا عبور کرتے ہوئے بہہ گیا ۔بیلہ سنئی کے لوگ کئی عرصہ سے مانگ کررہے ہیں کہ سڑک اور پل کی مرمت کی جائے تاکہ انہیں آنے جانے میں مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے لیکن حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔اسی مطالبے پر سنیچر کے روز مقامی لوگوں نے سنئی کے مقام پر جموں پونچھ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بند کرکے احتجاج کیا اور حکام کے خلاف نعرے بازی کی ۔یہ احتجاج دو گھنٹے تک جاری رہاجس کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ بحال ہوا۔مظاہرین نے کہاکہ یاتو انہیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کیاجائے یاپھر پل تعمیر کیاجائے کیونکہ انہیں روزانہ دریا عبور کرکے اپنے گھروں اور زمینوں تک جاناپڑتاہے جس کیلئے انہیں جان جوکھم میں ڈالنی پڑتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ طغیانی کے دوران ان کے بچے سکول نہیں آجاسکتے ۔انہوں نے کہاکہ وہ چار سال سے دیکھ رہے ہیں کہ اس پل کی مرمت کاکام شروع تک نہیں کیاگیا اور محکمہ تعمیرات عامہ و انتظامیہ خواب خرگوش میں ہیں ۔مظاہرین کاکہناتھاکہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے اور وہ اب مزید برداشت نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہاکہ موسلادھار بارش کے دوران کچھ سکولی بچے نالے میں پھنس گئے جن میں سے ایک بچے کو بہتے ہوئے پکڑاکر بچالیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اور دریا سے عبور کرتے ہوئے جان جوکھم میں ڈالنی پڑتی ہے ۔احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایس ایچ او سرنکوٹ انظر میر اور نائب تحصیلدار لسانہ محمد رشید چوہان موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے مظاہرین کو پل کی تعمیر کا یقین دلاکر احتجاج ختم کروایا۔