سرنکوٹ// ریاست جموں وکشمیر میں گذشتہ کئی دن سے لگا تار موسلادھار بارش کی وجہ سے جہاں سیلابی صورتحال پیداہوئی اورندی نالوں میں طغیانی سے عوام کی زندگی درہم برہم ہوئی وہیں پسیوں کی زدمیں آنے سے مختلف مقامات پرمکانات کے منہدم ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔اس سلسلے میں سرنکوٹ کے لوگوں کاکہناہے کہ سال 2014 کے سیلاب متاثرین کیلئے 80 کروڑ کی امدادی رقم واگذارکرنے کااعلان ہواتھالیکن عملی طورپرمتاثرین تک یہ امدادنہیں پہنچی ۔انہوں نے کہاکہ متاثرین کوآج تک پتہ نہیں چل سکاہے کہ یہ 80 کروڑروپے کاپیکیج کہاں گیا۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ سیلاب میں سرنکوٹ قصبہ بھی بری طرح متاثرہواتھا لیکن بیشترسیلاب متاثرین امدادسے محروم ہی رہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کی زمین بہنے اورفصلیں تباہ ہونے کے علاوہ دریائے سرن کے قریب سے گذرنے والی 132 کے وی لائن بھی 2014 میں سیلاب سے تہس نہس ہوئی تھی اوراس ترسیلی لائن کے متعددبجلی ٹاوربھی ٹرٹ کردریابرد ہوگئے تھے۔اس بارے میں دھندک کے شہزاد خان نے کہاکہ 2014 کے سیلاب نے کافی تباہی مچائی تھی لیکن لوگوں کو حکام اور حکومت کی طرف سے امداددینے کے بجائے محض طفل تسلیاں ہی دی گئیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا لیکن عوام سرنکوٹ کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ 132 کے وی کی لائن ٹوٹ جانے کی وجہ سے لوگوں کو بجلی کا منہ دیکھنے کو نہیں ملتا ،بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے لوگ متاثر ہوئے لیکن اس ترسیلی لاین کو ابھی تک مرمت نہیں کیا گیا۔ جس کا خمیازہ لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ وہیں ان ٹوٹے ہوئے ٹاوروں کی وجہ سے لوگوں کی زمینوں میں فصل بھی نقصان ہوتی ہیں۔ یوتھ نیشنل کانفرنس کے بلاک صدر مرہوٹ سفیر چوہدری نے کہا کہ ہمارے لوگوں کی تباہی کو انتظامیہ اور حکومت اپنی کامیابی سمجھ لیاہے۔ لیکن اس لائن کے ٹوٹ جانے سے ہمیں رات کی تاریکی میں بسر کرناہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ 2014 کے سیلاب کے بعد ترسیلی لائنیں اور ٹاور اسی حالت میں پڑے ہیں جس حالت میں وہ سیلاب کے وقت تھے۔ لیکن اس لائین کو مرمت کرنے کیلے حکام کی جانب سے کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اگر اس لائین کا وقت پر کام کیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتا۔ دیرہ گلی سے پونچھ تک بہت بجلی ٹاور سیلاب نے تباہ کیے ہیں۔ جن میں الگ بھگ دس سے زائد ٹاور بالکل ٹوٹ گئے تھے۔ جن کو عوام کی جانب سے مرمت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ جب اس سلسلے میں اے آئی سرنکوٹ سرفراز احمد سے بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کا ٹینڈر ہو چکا ہے اور ڈپٹی کمشنر پونچھ اعجاز اسد نے حکمہ پاور ڈولپمنٹ کے میٹنگ طلب کی تھی۔ اور اس پروجیکٹ کو اگست کے پہلے ہفتے میں کام شروع کیا جائے گا۔