وارسا// مغربی رہنماؤں نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے کہ مشرقی پولینڈ میں مہلک میزائل گرنے کے بعد روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں تیزی آسکتی ہے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی خبر کے مطابق پولینڈ اور نیٹو نے کہا کہ ممکنہ طور پر میزائل یوکرین کے فضائی دفاعی نظام سے روسی میزائل کو روکنے کے لیے فائر کیا گیا اور ماسکو کو تنازع کا ذمہ دار قرار دیا۔2 روز قبل ایک میزائل یوکرین کی سرحد سے تقریباً 6 کلومیٹر (4 میل) کے فاصلے پر واقع گاؤں پر گرا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ، یہ میزائل ایسے وقت میں گرا تھا جبکہ بڑے پیمانے پر روسی بمباری جاری تھی جس کا مقصد مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے اندر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا تھا۔میزائل گرنے کے فوری بعد ان خدشات کے پیش نظر کہ یہ دھماکے روسی حملے تھے جو اتحادیوں کو جواب دینے پر مجبور کر سکتے ہیں، بالی میں جی20 سربراہی اجلاس میں شریک مغربی رہنماؤں اور بروسلز میں نیٹو کے سفیروں نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا لیکن پولینڈ کے صدر نے مزید کشیدگی کے عالمی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ میزائل پولینڈ پر جان بوجھ کر گرایا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ سوویت دور کے میزائل کو یوکرین نے فائر کیا ہو، انہوں نے اس دھماکے کو [؟]بدقسمت حادثہ قرار دیا اور کہا کہ حملے کا ذمے دار روس ہے جس نے یوکرین پر حملہ کیا۔نیٹو سربراہ نے اس مؤقف کو اجاگر کیا اور برسلز میں یورپی یونین کے سفارت کاروں نے اجلاس کے دوران وارسا کے نپے تلے رد عمل کی تعریف کی جو یوکرین کا قریبی دوست اور روس کے شدید دشمنوں میں سے ایک ملک ہے ۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ دھماکا ممکنہ طور پر روسی کروز میزائل حملوں کے خلاف یوکرین کی سرزمین کے دفاع کے لیے فائر کیے گئے یوکرینی فضائی دفاعی نظام سے ہوا تھا۔