لندن //یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے مختلف پابندیوں کا نفاذ بھی کر دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں اور حفاظتی اقدامات میں بعض پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ ان پابندیوں کے خلاف مظاہرے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ہزاروں افراد مختلف یورپی شہروں میں کووڈ کے باعث لگائی گئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کر لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔جرمنی اور اس کے ہمسایہ ملکوں میں لوگ ان حکومتی پابندیوں کے اقدامات پر برہم اور خفا ہیں۔ ویانا کی پولیس کے مطابق پابندیوں کے خلاف ایک احتجاج میں تقریباً 40 ہزار لوگ شریک ہوئے۔ کئی جگہوں پر مشتعل مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر برسلز میں تقریباً 8 ہزار لوگ پابندیوں کے خلاف مظاہرے میں شریک ہوئے۔ یہاں بھی پولیس کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔ اْدھر لکسمبرگ میں بھی مظاہرین نے کرسمس مارکیٹ پر دھاوا بول دیا کیونکہ اس میں صرف ویکسین شدہ افراد داخل ہو سکتے تھے۔ نیدرلینڈز کے مختلف شہروں میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے۔جرمنی کے مختلف علاقوں میں صدائے احتجاج بھی بلند کی گئی۔ جرمن ریاست سیکسنی میں مجمع پر پابندی عائد ہے۔ ایسا تاثر ہے کہ لوگوں کے مظاہرے کی منصوبہ بندی انتہائی دائیں بازو کے گروپوں نے کی۔ گزشتہ جمعے سیکسنی میں ٹارچ بردار مظاہرین ریاستی وزیر صحت کے گھر کے باہر جمع ہوئے تھے۔کووڈ مظاہروں میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے اور سوچ کے افراد شریک رہے۔ ان میں سیاسی بے چینی کے حامل افراد کے ساتھ ریاست مخالفین بھی شامل تھے۔ اسی طرح ویکسین مخالفین بھی مظاہروں میں شریک تھے۔ جرمن سرکاری ٹیلی وڑن زیڈ ڈی ایف کے پروگرام میں بلجیم کے شہر لیوون میں قائم کیتھولک یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر مارک ہوگہے کا کہنا ہے کہ کووڈ مظاہروں میں مختلف سماجی گروپوں کے افراد شامل ہیں اور ان کے اپنے اپنے نظریات ہیں۔ جرمنی میں بھی صورت حال کم و بیش ایسی ہے۔ایک ماہر عمرانیات ڑوہانس کِیس کا خیال ہے کہ یہ مایوس افراد کے گروپ ہیں جو کووڈ 19 کی حکومتی پالیسیوں پر شاکی ہیں اور جمہورت سے بھی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ کِیس کے مطابق ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو انسانی بشری رویوں کے بھی مخالف ہیں اور جدیدیت سے بھی دور بھاگنا چاہتے ہیں۔
کورونا کیسز میں تیزی | چین کے ڑیان شہر میں لاک ڈائون
بیجنگ//چین کے شہر ڑیان میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے ملک بھر میں کورونا کیسز میں اضافے میں تیزی آ گئی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 21 ماہ کے ریکارڈ 206 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔شہر ڑیان میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مقامی منتقلی کے 155 کیسز رپورٹ ہوئے۔ 13 ملین کی آبادی والے شہر ڑیان میں گزشتہ چار روز سے مکمل لاک ڈاون ہے۔1 ارب 43 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک چین میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، چین اس فہرست میں 114 نمبر پر پہنچ چکا ہے۔چین بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 1 ہزار 77 ہو چکی ہے جبکہ کل ہلاکتوں کی تعداد کافی عرصے سے 4 ہزار 636 پر رکی ہوئی ہے۔