عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// دہلی ہائی کورٹ نے قتل اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں مجرم قرار دیے گئے علیحدگی پسند لیڈڑمحمد یاسین ملک کو سزائے موت دینے سے متعلق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے یاسین ملک کے جواب پر این آئی اے کو اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔واضح رہے کہ 25 مئی 2022 کو پٹیالہ ہاوس کورٹ نے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے یو اے پی اے (UAPA) کی دفعہ 17 کے تحت تا حیات قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 18 کے تحت دس سال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 20 کے تحت دس سال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ اسی طرح دفعہ 38 اور 39 کے تحت پانچ پانچ سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔10 مئی 2022 کو یاسین ملک نے پٹیالہ ہاوس کورٹ میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ اس سے قبل 16 مارچ 2022 کو عدالت نے حافظ سعید، سید صلاح الدین، یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم، انجینئر رشید، ظہر وٹالی، بٹا کراٹے، آفتاب احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں ہے اور کورٹ کی جانب سے تا حیات قید کی سزا سنائے جانے کے بعد این آئی اے نے دوبارہ کورٹ کا رجوع کیا اور یاسین ملک کے لیے سزائے موت کی سفارش کی۔ کورٹ نے اس معاملے میں یاسین ملک سے جواب طلب کیا جس پر اب کورٹ نے این آئی اے کو اپنا جواب طلب کرنے کے لئے آخری مہلت دی ہے۔