سرینگر//ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو ایک اچھا اعتماد سازی قدم قرار دیتے ہوئے اپنی پارٹی نائب صدر ظفر اقبال منہاس نے کہا ہے کہ فوجی سطح پر اُٹھائے گئے امن اقدام کے بعد جموں وکشمیر کے عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کی تعمیر نو کے لئے ریاستی درجہ بھی بحال کیاجانا چاہئے۔ پارٹی دفتر پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے منہاس نے کہا’’اس معاہدہ نے جموں وکشمیر کے سرحدی مکینوں کو راحت پہنچائی ہے جوکہ سرحدی کشیدی کا شکار رہے ہیں،مجھے یقین ہے کہ فریقین نچلی سطح پر موثر عمل آوری سے اِس کو کامیاب بناسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بدقسمتی سے ایسے معاہدات دباؤ یا امن مخالف قوتوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اب دونوں پڑوسی ممالک خطے میں دیرپا خوشگوار تعلقات کے لئے عوام کی خواہش کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو حائل نہیںہو نے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا’’جہاں تک اس معاہدہ سے متعلق جموں وکشمیر کے لوگوں کا تعلق ہے ، اس سے سرحدی علاقوں میں خاص طور سے امن کا نیا دور شروع ہوگا، میری خواہش ہے کہ یہ ماحول آنے والے کافی عرصہ تک قائم رہے۔ میری حکومت ِ ہند سے گذارش ہے کہ اس طرح کی وسعت ِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتماد سازی قدم کے طور جموں وکشمیر کاریاستی درجہ بحال کیاجائے۔دریں اثناء منہاس نے لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ جموں وکشمیر میں منریگا اسکیم کے تحت پہلے سے مکمل شدہ ترقیاتی کاموں کے فنڈز اور اُجرتیں واگذار کی جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوئے غیر متوقع اضافہ کو روکنے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ عام آدمی راحت کی سانس لے سکے۔ اپنی پارٹی نائب صدر نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ 2.90لاکھ روپے تک کے ترقیاتی کاموں کو ای ٹینڈرنگ سے مستثنیٰ رکھاجائے تاکہ ٹھیکیدار اور دیگر محنت کش طبقہ مزید محفوظ طریقہ سے اپنی روزی روٹی کما سکے۔ پارٹی میڈیا ایڈوائرزفاروق اندرابی اور ضلع صدر کپواڑہ راجہ منظور بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مکمل طور پر عملدرآمدہوآغا حسن
سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے حد متارکہ پر سالہاسال سے جاری کشیدگی اور آئے روز گولہ باری واقعات میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے نقضان کو ایک انسانی المیہ قراردیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کی طرف سے ایک بار پھر 2003میں طے پائے جنگ بندی معاہدہ پر مکمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے دونوں اطراف سے بحال ہورہے فوجی رابطوں کا خیر مقدم کیا ۔مرکزی امام باڑہ بڈگام میں جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے ریاست کی متنازعہ حیثیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی، اس دیرینہ سیاسی تنازعہ کے دائمی اور پر امن حل کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو جوہری ہمسایوں کے درمیان متواتر کشیدگی نہ صرف یہاں کے کروڑوں عوام بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا پر امن حل خطے کے دائمی امن اور محفوظ مستقبل کے لئے از حد ضروری ہے ۔جنگ بندی معاہدے پر مکمل طور پر عمل در آمد کے لئے دونو ں ممالک کا عزم امید افزا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان اگر خلوص نیت کے ساتھ باہمی تنازعات کے حل کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان روایتی دشمنی کی طویل تاریخ کا خاتمہ ہو سکتا ہے بلکہ اس خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا بھی خاتمہ ہوگا اور تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا ۔
حدمتارکہ پرجنگ بندی معاہدے کی پاسداری
اجیت دوول اور میرا کوئی رول نہیں:ڈاکٹر معید
سری نگر//پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ان کی اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دوول سے کسی طرح کی درپردہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔کے این ایس کے مطابق ڈاکٹر معید یوسف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا میں یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے مابین ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سطح پر ہوئے سمجھوتے کا اعلان دراصل میرے اور میرے بھارتی ہم منصب کے درمیان ہوئے خفیہ مذاکرات کے نتیجہ میں ہوا ہے۔ یہ دعوی بے بنیاد ہے۔ میرے اور اجیت دوول کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔پاکستانی قومی سلامتی مشیر نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ یہ خوش آئنداقدم ڈی جی ایم اوئوز کے طے شدہ چینل پر ہوئے مذاکرات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے مذاکرات منظر عام پر لائے بغیر نجی اور پیشہ وارانہ سطح پر براہ راست چینل کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان2003 کے سیز فائر معاہدے پر عمل آوری پر زور دیتا آرہا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ اس معاملہ پر دوبارہ مفاہمت ہوئی ہے۔ اس پر بھر پور طریقہ سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ معاہدے پر عمل درآمد سے عام لوگوں کی زندگیاں بچ جائیں گی ،اسلئے کسی کی نیت پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے اور نہ ہی اس اقدام سے غلط معنی اخذ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ ظاہر ہے اس کے علاوہ اس میں(معاہدے) اور کچھ نہیں ہے۔