نئی دہلی/ / بھارت اور پاکستان کے درمیان دو سال کے بعدنئی دہلی میں دوروزہ آبی مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ کی سربراہی میں 8رکنی وفد کررہا ہے ۔ بھارت کی طرف سے پی کے سکسینہ کی سربراہی میں وفد بات چیت کا حصہ ہے۔ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز کا یہ 116 واں اجلاس ہے۔ آبی تنازعہ پر دونوں ملکوں کے درمیان آخری مذاکرات2018میں لاہور میں ہوئے تھے، جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوئے تھے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق دونوں کمیشنز کو ہر سال دونوں ممالک میں باری باری ملنا ہوتا ہے۔2018کے مذاکرات کے بعد بھارت نے پاکستانی وفد کو ان ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کا جائزہ لینے کی دعوت دی تھی، جو بھارت پاکستانی دریائوں پر تعمیر کررہا ہے۔ بعد ازاں فروری 2019میں کمشنر فار انڈس واٹر کی قیادت میں ماہرین نے چناب بیسن پر پکل ڈول، لوئر کلنائی، ریتے اور بغلیہار ڈیموں کا جائزہ لیا تھا۔ دفعہ 370کی منسوخی اور کورونا کی وجہ سے سندھ طاس کمشنرز کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جاسکا۔