عبدالرحمٰن پاشا
مرکزی حکومت سابقہ حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے نافذ کردہ پالیسیوں کو یکے بعد دیگرے ختم کررہی ہے۔اقلیتی طبقوںکے مالی طور پر کمزور طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کیلئے شروع کی گئی مولانا آزاد فیلوشپ(ایم اے ایف)کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلی تا آٹھویں جماعت میں پڑھ رہے اقلیتی طلبہ کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی پری میٹرک اسکالرشپ کو بند کیا گیا اور اب صرف نوویں اور دسویں جماعت کے طلبہ ہی وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ اس اسکالرشپ کے اہل ہوں گے۔ مارچ 2022 میں پارلیمنٹ میں سابق وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بتایاتھا کہ 2014-15کے بعد ملک بھر میں اقلیتی طلبہ کو 5.20 کروڑ اسکالرشپس دیے گئے تھے، جب کہ 2014-15سے پہلے یہ تعداد 3.03 کروڑ تھی۔ نقوی نے کہا تھا کہ 2014-15تا 2021-22کے درمیان مسلم طلبہ کو کل 3,36,11,677 روپیے پری میٹرک اسکالرشپ دیے گئے۔ اب لاکھوں دیگر مسلم طلبہ و طالبات کو پری میٹرک اسکالرشپ سے محروم کردیا جائے گا۔تلنگانہ حکومت اقلیت دوست حکومت کے طور پر مشہور ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست کی بارہ فیصد مسلم آبادی کے تناظر میں بارہ فیصد تحفظات کا عندیہ دیا گیا تھا، لیکن اب یہاں کے نئے روسٹر پوائنٹس سسٹم میں مسلم تحفظات کو چار فیصد سے بھی کم کرکے صرف تین فیصد کردیا گیا ہے۔ اب تومرکزی وزارت اقلیتی امور پر بھی لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں سچر کمیٹی رپورٹ 2006کا مطالعہ ضروری ہے۔
معروف دانشور مرحوم اوصاف احمد نے اپنی کتاب’ہم عصر دنیا، ہندوستان اور ہندوستانی مسلمان ‘ میں ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی حالت سے متعلق سچر کمیٹی کی رپورٹ کی تلخیص کو پیش کیا ہے۔جملہ 540صفحات پر مشتمل سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو17نومبر 2006کو پیش کی گئی، اسے 30نومبر 2006کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، جس کے چیئرمین دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس آنجہانی راجندر سچر تھے۔ پلاننگ کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن ، زکوۃٰ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے آفیسر ان اسپیشل ڈیوٹی ڈاکٹر سید ظفر محمود کے مطابق سچر کمیٹی رپورٹ کا پہلا باب تعارفی ہے۔ دوسرے باب میں عوامی تاثرات پیش کئے گئے ہیں، جو کہ کمیٹی نے ملک گیر دوروں میں عوامی نمائندوں سے ملاقات کر کے حاصل کئے۔ تیسرے باب میں آبادی کا حجم اور مسلمانوں کی صحت، نیز ان کے درمیان عوامی نظام تقسیم کی صورت حال پیش کی گئی ہے۔ دیگر ابواب میں تعلیم، اقتصادیات اور روزگار کی صورت حال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بنک قرضوں کی فراہمی، سوشل اور فزیکل انفراسٹکچر کی دست یابی، غربت کی سطح، معیار زندگی، سرکاری ملازمتوں اور ترقیاتی پروگراموں میں ان کی حصہ داری، نیز مسلم پسماندہ طبقات کی صورت حال وغیرہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک الگ باب میں وقف املاک کی موجودہ صورت حال اور ان کی بہتری کی تدابیر نیز معاشی ترقی میں ان کی اہمیت اور امکانات وغیرہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آخری باب میں کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔سچر کمیٹی کی رپورٹ میں جملہ 76تجاویز تھی، جس میں سے 72تجاویز کو منظور کیا گیا۔ مذکورہ رپورٹ کے صرف چند اہم نکات یہاں پیش ہیں:
�مسلم شناخت کی تین علامتیں بیان کی گئی: ڈارھی، ٹوپی اور برقع۔ ان علامتوں کی وجہ سے پریشانی بھی اٹھانی پڑتی ہے۔�اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان گرداننے اور اس کے سیاسی استعمال نے اس زبان کی ترقی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔�دوسرے گروہوں کی بہ نسبت مسلمانوں میں نسبت جنس (Sex Ratio) بہتر ہے۔�ہندوستان کی مسلم آبادی، کل ہندوستانی آبادی کی طرح دیہی ہے گو کہ شہر باشی کی سطح (Level of Urbanization) کل آبادی کی نسبت مسلمانوں میں زیادہ ہے۔�ہندوستان میں مسلم آبادی کی شرح افزائش میں کمی واقع ہوئی ہے جس کا خاص سبب مسلم خواتین کی بارآوری میں کمی ہے۔�سال 1990 کے بعد کی نسل کی خواندگی پر کچھ توجہ کی گئی ہے لیکن جہاں عام ہندوؤں میں خواندگی کی شرح 90 سے 95 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مسلمانوں میں اسی نسل کی شرح خواندگی زیادہ سے زیادہ 75 فیصد ہے۔�مسلمانوں کی شرح خواندگی دوسری اقلیتوں سے بھی بہت کم ہے۔�مسلمانوں کی شرح خواندگی، پسماندہ ذاتوں سے کم ہے۔�مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ پرائمری (بنیادی) تعلیم کی کمی ہے۔�مسلم کارکنوں کی ایک بڑی تعداد خود روزگای (Self Employment) کے ذریعے اپنا روزگار حاصل کرتی ہے۔ یہ رحجان شہری علاقوں میں بھی پایا گیا اور خواتین میں بھی۔�مسلمانوں کی ایک تعداد غیر منظم زمرہ کار (Unorganised Sector) سے متعلق ہے، بیٹری مزدوروں، درزیوں، کاریگروں وغیرہ کے لیے سماجی تحفظ کا انتظام کیا جانا چاہیے۔�عام طور پر مسلم کارکنوں کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیاجاتا۔ ان کے سماجی تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔�مسلم کارکنوں کو روزانہ کم اجرت دی جاتی ہے۔�چھوٹے موضعات میں بھی مسلم آبادی اور تعلیمی سہولتوں کی موجودگی کے درمیان معکوسی نسبت پائی جاتی ہے۔ یعنی جہاں مسلم آبادی میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں تعلیمی سہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔�مسلم آبادی والے موضعات میں پکی سڑکوں اور بس اڈوں کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔�مسلم ارتکاز والے بڑے موضعات میں سے چالیس فیصد موضعات میں کسی قسم کی طبی سہولیات موجود نہیں۔�غربت کا وجود مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔�سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی تعداد قابل رحم حد تک کم ہے۔�کسی بھی ریاست میں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب، ریاستی آبادی میں ان کے تناسب کے برابر نہیں ہے۔�محکمہ تعلیم میں مسلمانوں کا تناسب چھ فیصد اور ہوم ڈپارٹمنٹ میں 7.3 فیصد ہے، کل پولیس کانٹیبلوں کے صرف چھ فیصد مسلم کانٹیل ہیں۔ محکمہ صحت میں مسلمانوں کی نمائندگی 4.4 فیصد اور محکمہ نقل و حمل (Transport) میں صرف 6.5 فیصد ہے۔ عدلیہ میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی قابل تشویش حد تک قلیل ہے۔�گو کہ اسلام میں ذاتوں کا وجود نہیں، لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ذات پات کا فرق موجود ہے۔ 1901 کی مردم شماری رپورٹ میں غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان 133 سماجی گروہوں (Social Groups) کی شناخت کی گئی تھی۔�مسلم پسماندہ ذاتوں میں دوسری پسماندہ ذاتوں کی نسبت بے روزگاری کا تناسب زیادہ ہے۔�عام مسلمانوں کے معاشی حالات بھی ان ہندو پسماندہ ذاتوں (OBC) سے ابتر ہیں جن کو ریزرویشن کا فائدہ حاصل ہے۔اورہندوستانی مسلمان دوسرے سماجی و مذہبی گروہوں کی بہ نسبت کافی پسماندہ ہیں۔(ہم عصر دنیا ، ہندوستان اور ہندوستانی مسلمان، ص:269)
سچر کمیٹی رپورٹ کو پیش ہوئے16برس مکمل ہوچکے ہیں۔ اس دوران حالات بدل گئے ، سال 2014کے بعد سے تو منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے۔ اس مدت کے دوران ہندوستانی مسلمان کس دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اس پر از سر نو غور وفکر کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں نے رفتار زمانے سے سبق حاصل کیا۔مسلمان معاشی اور تعلیمی اعتبار سے خود کفیل ہونے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔خاص طور پر جنوبی ہند میں تعلیمی میدان میں قابل ذکر پیش رفت ہوئے ہے۔ لیکن سچر کمیٹی رپورٹ میں جو نکات پیش کیے گئے تھے۔ وہ اب بھی قابل غور ہے۔ روزنامہ انقلاب ممبئی ایڈیشن کے ایڈیٹر شاہد لطیف نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے اپنے کاروبار ہیں بھی تو وہ غیر منظم ہیں۔ ان کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی۔ مسلمانوں کے کاروبار سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی ملک کی قومی مجموعی گھریلوآمدنی (جی ڈی پی)میں اچھی خاصی حصہ داری ہے۔ اگر صرف ملک کے طول و عرض میں پھیلے مسلمانوں کے پان ڈبوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ٹیکس کا حساب لگایا جائے تو ا س کی بھی اچھی خاصی مد ہوگی، جو کہ بالراست طور پر جی ڈی پی کا حصہ بن رہی ہے۔ اب جب کہ موجودہ حکومت اقلیتوں سے متعلق اسکیمات کو ختم کررہی ہے اور مسلمانوں کے عرضۂ حیات کو تنگ کیے جانے کی کوششیں کی جارہے ہیں، تو تعلیمی اور معاشی صورت حال پر ایک اور ’سچر کمیٹی رپورٹ‘ کی ضرورت ہے یا کم از کم اس کا ریویو تو کیا جانا چاہیے۔ حکومت سے تو اس کی امید کم ہے، لیکن کوئی تنظیم یا تنظیموں کے اشتراک سے یہ کام کرسکتی ہے۔ اگر کل ہند سطح پر ممکن نہ ہو تو مسلم اکثریتی علاقوں میں کیا جاسکتا ہے۔ اس سے انداز ہ ہوسکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی اور معاشی اعتبار سے کس دو راہے پر کھڑے ہیں۔
(رابطہ۔ 9014430815)
[email protected]