یہ کیسی سیاست ہے مرے ملک پہ حاوی
انسان کو انسان سے جدا دیکھ رہا ہوں
ہر بار ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انتخابات کا بگل بجتے ہی ہمارے تمام کرم فرما سیاسی نمائندے زمینی سطح پر آ کر بہت سارے نئے تماشے کرتے ہیں، نئے شوشے چھوڑتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر اور سن کر ہر ذی شعور فرد بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ روایت کے عین مطابق ایک طرف الفاظ کے پلندوں کو الیکشن مینی فیسٹو کہہ کر منظر عام پر لایا جاتا ہے اور سیاسی جماعتیں اور لیڈر انہیں اپنا منشور کہہ کربھولے بھالے عوام کے سامنے رکھ کر اپنا سینہ پھلاتے ہیں ، دوسری جانب مخالف جماعتوں اور لیڈروں کی نکتہ چینی شروع کر کے خود کو دودھ کا دھلا ثابت کر تے ہیں ، کہیں روزگار فراہم کرنے کے جھوٹے وعدے ہوتے ہیں تو کہیں تعمیراتی کاموں کے جاگتے کے خواب دکھائے۔الغرض اس قسم کے سیاسی کلچر میںجس پارٹی اوراُمیدوار سے جو بن پڑتا ہے ،وہ زبان کے چٹخارو ں میں بول جاتاہے… مگر نتیجہ… ندارد!
بہرحال میں کسی سیاسی جماعت کی نکتہ چینی نہیں کرنا چاہتا، میری توجہ کا مرکز ہمارے سماج کے انٹلیکچول کہلانے والوں کا وہ طبقہ ہے جو ہربار انتخابات کو لے کررائی کا پہاڑ بنا کر پیش کرتا رہتا ہے۔ سوشل نیٹ ورک سائٹس ہوں ، یا کوئی اور محفل ،موقع پاتے ہی یہ لوگ اپنے ’’اونچے‘‘ خیالات اور ماڈرن وچار، فرضی دلائل وشواہد کے ساتھ کبھی ہلکی آواز میں کبھی گھن گرج کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ ممکن ہے ان کی زبان کے ہوائی قلعے ان کے مخصوص ذہنی سانچے اورفکر و فلسفہ یا آنکھوں پر لگے عینک کی رُ و سے پرمغز ومدلل ہوں مگر یہ رتی بھر بھی کام کے نہیں ہوتے …… جی ہاں ان کو میں بے کار کہہ رہا ہوں کیوں کہ یہ سب میری نظر میں زبانی جمع خرچ ہوتا ہے یا محض جذباتیت کی متلیاں… پھرجب جب زمینی سطح پر ایسے نالائق نمائندوں کو عوام اہم مسائل کے نپٹارے کے لئے چننا جاتا ہے ، تو ظاہر ہے ان کااولین مقصد عوام کی خدمت ہونا چا ہیے ، ان کے تمام اقدام انصاف پر مبنی ہو نے چاہیے اور وہ خود اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے کے لائق بھی ہو نے چاہیے مگر ان تینوں مراحل پر یہ ناکام ونامراد نظر آتے ہیں ۔ عجیب بات یہ کہ پھر ان کا وہ نام نہاد’’ ذی شعور‘‘ حامی لوگ پھر گدھے کی سینگ کی طرح غائب ہو جاتے ہیں کہ اگلے انتخابات تک کہیں دکھائی بھی نہیں دیتے… ہمیں بھولے بھالے عوام پر بھی افسوس ہونا چاہیے جو سیاست دانوں کی متواتر دھوکہ بازیوں کے باوجود بار باران کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور بلا کسی معقول وجہ کے مات کھا جاتے ہیں ۔ رہے نوجوان، ان کو عموماََ غم ِروزگار دامن گیر رہتا ہے جس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی سیاسی دکانیں چلانے والے انہیں سبز باغ دکھا دکھا کر ٹھاٹھ سے اپنا کام برسوں دھندا چلاتے ہیں۔کسی بھی قوم کی تعمیر وترقی تب تک ممکن ہی نہیںجب تک اس میں سچائی، اتفاق اور اپنائیت کا وصف بدرجہ اتم مو جود نہ ہو ۔ تاریخ کے اوراق ایسی ہزارہا کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اُس قوم پر زوال بہت جلد آ جاتا ہے جس میں اپنائیت، صداقت ، اتفاق اور قابل کار قیادت کا فقدان ہو۔پچھلی کئی دہائیوں سے ہماری قوم نے اپنی ایک اور نرالی صلاحیت کا لوہا منوالیا ہے ، وہ یہ کہ ایک طرف یہ مین اسٹریم کہلالنے والی کرسی پرست پارٹیوں کو خوش رکھنا ، دوسری طرف حریت اور عسکریت پسندوں کو بھی حفا نہ کرنا۔ یہ تضاد اپنے آپ میں ایک بڑا جادوئی فن ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک ایسا چلے گا ؟ میرے ناقص خیال میں جب تک ہماری قوم خود بیدار ہو کر سنجیددہ سوچ وچار، خود اعتمادی اور اتفاق ویک سوئی اور یک روئی سے مالا مال نہیںہوتی اور ہر مکتب فکر کے لیڈرانِ کرام عوام کی مجموعی بھلائی کا نہیں سوچیں، تب تک گزشتہ دہائیاںاپنی بپتا کسی نہ کسی صورت ہر بار دہراتی رہیں گی۔ اس لئے سماج کے تمام ذی شعورافراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ زمینی سطح کے حقائق کو تسلیم کر کے عوامی فلاح وبہبود کا ایک ایسا نقشہ یا خاکہ بنا لیں جس پرعمل پیرا ہوکر قوم خاص طور پر اٹھتی جوانیوں کی صحیح تربیت اور اخلاقی اصلاح ممکن ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم سب جھوٹ ، فراڈ اور سنہرے سپنوں کی وادیوں کو خیر باد کہہ کے اپنے حال اور آنے والے کل کی تعمیر نو میں انسانیت کی محبت اور خدا کے خوف سے لیس ہو کرکام کریں۔ یہی روش ِکار سیاست کا منشور ہو ، سماجی بھلائی کا چارٹر ہو ، آزادیٔ پروا زکا آسمان ہو ۔ کیا ہم ان خطوط پر سوچنے کو تیار ہیں ؟
ولی وار ، لار گاندربل
فون نمبر9697394893