وادیٔ کشمیر، جو کبھی اپنے سرسبزشاداب میدانوں، صاف وشفاف چشموں،دِلرباجھیلوں و آبشاروں، بہتے ندی نالوں ، دریائوں اوردلکش گھنے جنگلات کے باعث دنیا بھر میںاپنی ایک الگ پہچان رکھتا تھا ، آج ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار نظر آرہا ہے۔ ڈل جھیل اور جھیل ِ ولُر سمیت کئی آبی ذخائرکافی حد تک سُکڑ کر جہاںاپنی دلکشی و خوبصورتی کھو چکے ہیں،وہیں ان کا پانی ،جو کبھی لوگ بغیر کسی خوف و کھٹکےپیتے تھے،آج گدلا اور زہریلا ہوچکا ہے۔اسی طرح یہاں کے شاداب جنگلات کا رقبہ کم ہوچکا ہے اور قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہاں کے قدرتی ماحولیاتی نظام میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔چنانچہ آج جب ہم اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالتے ہیںتو بخوبی دکھائی دیتا ہےکہ ہمارے قدرتی اثاثے ، جن میںچشمے، جھیلیں، تالاب، ندیاں، نالے ، دریا اور جنگلات بھی شامل ہیں، ہماری خودغرضی اورحکومت کی غفلت سےآلودہ اور مسمار ہورہے ہیں،اور تواتر کے ساتھ تباہی کا نشان بن رہے ہیں۔ہمارے وہ آبی ذخائر جو کبھی زندگی، خوبصورتی اور تازگی کی علامت تھے، آج ہماری خود غرضی اور لاپرواہی سے کوڑے دانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اب ہمارے وہ سیاحتی مقامات جو ہماری معیشت کا ایک اہم ذریعہ ہے،ہماری بے حِسی اور بد نظمی سے نہ صرف اپنی خوبصورتی اور دلکشی کھو رہے ہیں بلکہ دن بہ دن غیر محفوظ بھی ہوتے جارہے ہیں۔ملک اور غیر ممالک کے سیاح وادی ٔ کشمیر کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاحتی مراکز کا رُخ کرتے ہیں،لیکن ان مقامات پر مناسب انتظامات اور سہولیات کی عدم دستیابی سے مایوس ہوجاتے ہیں،زیادہ تر سیاحتی مقامات پر مناسب کوڑے دان تک نہیں ،جس کے نتیجے میںملکی ، غیرملکی اور مقامی لوگ وہاں پلاسٹک کی بوتلیں، لفافے اور دیگر فضلہ چھوڑ جاتے ہیں۔اس طرزِ عمل سے اِن مقامات کانہ صرف قدرتی حسن بگڑ جاتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق جنگلات کی کٹائی بھی جاری ہے۔ درخت، جو زمین کے پھیپھڑے کہلاتے ہیں، تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ صنعتوں، گاڑیوں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں نے گلوبل وارمنگ کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
جس کےنتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، موسم اپنی روایتی ترتیب کھو چکے ہیں۔ جب بارشوں کی ضرورت ہوتی ہے تو دھوپ کا راج ہوتا ہے اور جب دھوپ درکار ہوتی ہے تو بے وقت بارشیں ،تیز ہوائیں اورخوفناک ژالہ باری فصلوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران وقفہ وقفہ کے بعد مختلف اضلاع میں ہونے والی شدید ژالہ باری نے میوہ باغات اور کھڑی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کسان، باغبان اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندان مختلف مصائب و مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ واقعات محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ اس بگڑتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی نشانیاں ہیں جس کی بنیاد انسانی بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی نے رکھی ہے۔
ایک طرف جہاں جنگلات کی مسلسل کٹائی کا یہ سنگین نتیجہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں،تو دوسری طرف صاف و شفاف اور آلودگی سے پاک پانی ،خالص ہَوا اور معتدل فضا بھی عنقا ہوتی جارہی ہے۔ وقفہ وقفہ کے بعد یہ خبریں بھی سامنے آتی ہیںکہ فلاں فلاں علاقے میں ریچھ، تیندوے اور دیگر جنگلی جانور انسانی بستیوں میں داخل ہو کر جانی نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔جبکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اُن کے قدرتی مسکن کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث انسان اور جنگلی درندوںکے درمیان تصادم بڑھتا جا رہا ہے،جس پر سنجیدہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
ہاں !ان قدرتی اثاثوںکے تحفظ کی ذمہ داری محض سرکاری اداروںکی ہی نہیں ہے بلکہ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے ناطے ہر بالغ فردپر لازم ہے کہ وہ اپنے اطراف واکناف کےبچے کُچے قدرتی اثاثوںکی حفاظت خود کریں ، چشموں،ندی نالوں اور دریائوںکو صاف و شفاف رکھیں،کوڑا کرکٹ مناسب جگہوں پر ڈالیں اور اس معاملے میں بلدیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں،نیزان کے تحفظ میں سرکاری اداروں کی کوتاہیوں کو سرِ عام لائیں۔ہمارے ایسے اقدام سے ہمارے یہ قدرتی اثاثے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں،ورنہ آہستہ آہستہ ان کا نام و نشان تک مِٹ جائے گا۔