بلا شبہ تعلیم انسان کی ذہنی، روحانی اور اخلاقی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تعلیم انسان کو نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں سے آگاہ کرتی ہے بلکہ اُس کے لئے صحیح راستوں کی نشاندہی بھی کرتی ہے،گویاتعلیم ایک ایسی دولت ہے جو انسان کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ انسان کی شخصیت بہتر بناتی ہے اور اس کی زندگی میں سکون اور توازن لاتی ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہےکہ تعلیم کا حصول صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لئے نہیں ہوتابلکہ اس کا گہر ا اثر معاشرتی نظام پر بھی ہوتا ہے۔
ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ تعلیم انسان کی اخلاقی تربیت کا بھی حصہ ہے اور اس کے ذریعے انسان میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس کے ذریعے وہ معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتا ہے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر بناسکتا ہے۔ اس طرح تعلیم نہ صرف ایک فرد کی بھلائی کا ذریعہ ہے بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبودکا بھی ایک ذریعہ بنتی ہے۔مجموعی طور پر تعلیم انسان کی زندگی میں تبدیلی لانے، ترقی پانے اور کامیاب ہونےکے لئے اُس روشن شمع کی مانند ہے،جس کی روشنی میں انسان اپنے مقصدِ زندگی کو بہتر طریقے سے دیکھ سکتاہے اور سمجھ سکتا ہے۔ اس لئے ہر فرد کے لئے لازم ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اورتعلیم کے حصول ِ مقاصد کو اپنی زندگی میں نافذ کرے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکے بلکہ اپنے معاشرتی ماحول میں بھی بہتری لا سکے۔در حقیقت تعلیم انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس دلاتی ہے اور اُسے سچائی اور راہ ِ راست کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہے۔چنانچہ جب انسان تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی زندگی میں نیکی، فہم اور درست فیصلوں کا رُجحان بڑھتا ہے اور وہ اپنے مقصد کو بھی بہتر طور پر سمجھتا ہے۔تعلیم نہ صرف فرد کی زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ اُسے اپنے معاشرتی ذمہ داریوں سےبھی واقف کراتی ہے،اُسے سکھاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور اُن کے ساتھ انصاف اور ہمدردی سے پیش آئے۔
ظاہر ہے کہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے کیونکہ ترقی یافتہ لوگ ہی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور معاشرتی برائیوں کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں امن، سکون اور ترقی کی فضاء قائم ہوتی ہے۔کیونکہ تعلیم ہی انسانوں کے درمیان فرق کو مٹاتی ہے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔یعنی جہاں تعلیم کی روشنی ہوتی ہے، وہاں جاہلیت کی جگہ نہیں بنتی۔مطلب یہ کہ تعلیم وہ قیمتی متاع ہے، جس سے انسان اپنی تقدیر کو بدل کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اُس کی اصل حقیقت سے آشنا کرتی ہے اور اُس کی سوچ کے دریچے کھولتی ہے، گویاہر معاملے میںاُس کی رہنمائی کرتی ہے اور اُسے صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ جس کے بدولت انسان خود کو اور اپنے اردگرد کی دُنیا کو بہتر طریقے سے سمجھ پاتا ہے۔الغرض اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم انسان کے ذہن کو وسعت دیتی ہے اور اس کی زندگی کو مقصدیت فراہم کرتی ہے،جس کے ذریعے انسان اپنے روحانی اور دنیاوی معاملات میں توازن پیدا کرتا ہے اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔
تعلیم انسان کو اس کی حقیقت اور مقصد سے آگاہ کرتی ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کر کے معاشرتی فلاح اور انسانیت کی خدمت کے راستے پر ڈالتی ہے، انصاف، مساوات اور رحم دلی کی اہمیت سکھاتی ہے اور اسے ایک ایسافردبناتی ہے جو صرف اپنی ذات کے بارے میں نہیں بلکہ معاشرتی بھلائی کے بارے میں بھی سوچتا ہے۔لہٰذا تعلیم کا حصول انسان کے لئے بے حد ضروری ہے۔کیونکہ تعلیم انسان کی فلاح و بہبود کا وہ ذریعہ ہےجو معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔جب تعلیم یافتہ ہر فرد حق و ناحق ،سچ و جھوٹ،دیانت و خیانت ،ایمانداری و بے ایمانی ،جائز و ناجائز اور انصاف و ظلم میں فرق کرنا اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اپنے عمل سے دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے تو اُسی سے ایک خوشحال، پُرامن اور متوازن معاشرہ قائم ہوجاتا ہے۔