جاوید اقبال
مینڈھر// سب ڈویژن مینڈھر کے سڑہوتی علاقے میں زمینی تنازعہ اس وقت خطرناک اور خونریز تصادم میں تبدیل ہو گیا جب دو گروپوں کے درمیان شدید جھڑپ، مبینہ فائرنگ، پتھراؤ اور تیز دھار ہتھیاروں کے استعمال سے پورا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ اس پرتشدد واقعے میں کانگریس لیڈر پروین سرور خان سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان پہلے معمولی تلخ کلامی ہوئی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال بگڑ گئی اور دونوں اطراف سے شدید پتھراؤ شروع ہو گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا جبکہ کئی راؤنڈ فائرنگ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایچ او مینڈھر حبیب پٹھان پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کر دی۔تمام زخمیوں کو فوری طور پر سب ضلع ہسپتال مینڈھر منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق شدید زخمی ہونے والے تین افراد، جن میں کانگریس لیڈر پروین سرور خان بھی شامل ہیں، کو مزید علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کر دیا گیا۔اس دوران محکمہ صحت پونچھ نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کی۔ چیف میڈیکل آفیسر پونچھ ڈاکٹر پرویز احمد خان کی نگرانی میں ایمبولینسیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں تاکہ زخمیوں کو جلد ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ سی ایم او پونچھ نے خود صورتحال کی نگرانی کی اور بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر ڈاکٹر غزالہ چوہدری کو ہدایت دی کہ تمام زخمیوں کو خصوصی طبی نگہداشت اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ایس ڈی ایچ مینڈھر کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے فوری ردعمل دیتے ہوئے زخمیوں کا طبی معائنہ کیا اور انہیں مستحکم بنانے کے لئے بروقت علاج فراہم کیا۔ زخمیوں میں رابینہ کوثر (30)، زبر احمد (36)، نظیر حسین (40)، زینب بی (45)، صنم امتیاز (17)، پروین سرور خان (51) اور معین خان (18) شامل ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق رابینہ کوثر، نظیر حسین اور پروین سرور خان کو تشویشناک حالت کے باعث جی ایم سی راجوری ریفر کیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔اس دوران قتیل سرور خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ زائد خان کئی درجن افراد کے ہمراہ ان کے گھر پر حملہ آور ہوا۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کے ہاتھوں میں تلواریں اور لاٹھیاں تھیں اور اچانک کئی راؤنڈ گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے شدید پتھراؤ کرتے ہوئے مکان کا گیٹ توڑ دیا اور زبردستی گھر کے اندر داخل ہو گئے، جس سے خواتین اور بچے شدید خوفزدہ ہو گئے۔پولیس نے واقعے کے سلسلے میں20افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق معاملے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔علاقے کے لوگوں نے پولیس اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ کسی کے گھر پر حملہ کرنا، خواتین اور بچوں کو خوفزدہ کرنا اور قانون ہاتھ میں لینا ناقابل برداشت عمل ہے۔حکام کے مطابق علاقے میں اس وقت صورتحال قابو میں ہے، تاہم امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ دوبارہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔