قیصر محمود عراقی
ہر انسان کو اس دنیا میں کوئی نہ کوئی دکھ ضرور ہے ۔اس عالمِ رنگ و بو میں ہر کوئی کسی نہ کسی مسئلہ میں اُلجھا ہوا ہے ۔ اس طرح کے پریشان کن حالات میں قوت ایمانی رکھنے والے لوگ اللہ تعالٰ کی طرف رجوع کر تے ہیں اور رو رو کر پریشانیوں سے پناہ مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بہت رحیم ہے اور اس کی رحمت کی کوئی حد ہے نہ حساب ، اس کے حمد و ثنا کے لئے ہماری زبان بہت چھوٹی ہے ۔ اس کے بر عکس کچھ ضعیف العقید ہ لوگ ہیں جو پریشانیوں سے گھبرا کر جعلی اور فراڈی قسم کے عامنوں سے اپنی مشکلات کے حل کے لئے رابطہ کر تے ہیں ۔ یہ جعلی عامل اور بہروپیے ان سادہ لوح لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیںاور بے وقوف بنا کر اپنا اُلو سیدھا کر تے ہیں ، ان سے پیسہ بٹورنے کے ساتھ ساتھ عورتوں کی عزت کا جنازہ بھی نکال دیتے ہیں ۔
ہمارے ملک میں ان جعلی پیروں اور فراڈیوں کی بھر مار ہے ، جو مختلف شعبدہ بازی دکھا کر اور مختلف ڈھکوسلے استعمال کر کے لوگوں کی جمع پونجی ہتھیالیتے ہیں ۔ بہو اور ساس کی لڑائی ہر گھر کی کہانی ہے ، بہت ساری ضعیف العتقا د بہوئیں اپنی ساس کے ظلم سے چھٹکارا پانے کے لئے ان جعلی عاملوں کے ساس تعویز ، گنڈہ لینے جا تی ہیں ، یہ پہروپیئے ان کی مجبوریوں اور بے بسی کو بھانپ کر ان سے پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ ان کی عزتوں کو بھی پامال کر تے ہیں ۔ ساسیں ، بہوئوں کی بد تمیزی اور بد زبانی سے نجات پانے کے لئے ان مکار اور عیار قسم کے جعلی پیروں کے پاس جاتی ہیں ۔ ان جعلی عاملوں کے پاس جا نے والے زیادہ تر جاہل ، ان پڑھ اور کمزور ایمان والی عورتیں اور مرد ہو تے ہیں ۔ کچھ عورتیں تنگ دستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی غربت دور کر نے کے لئے ان جعلی پیروں ، عاملوں کے پاس جا تی ہیں ، تو یہ بہروپیئے ان کو امیر بنا دینے کے دعوے کر کے ان سے پیسہ بٹور کر ان کی غربت میں اور اضافہ کر دیتے ہیں ۔ کوئی بے روزگار ہے ، اس کو ایسا تعویز چا ہئے کہ وہ دولت سے ما لا مال ہو جا ئے ، کسی مرد کو یہ غم ہے کہ اس کی محبوبہ اس کے قابو میں نہیں ہے، اس کو ایسا عمل بتایا جا ئے کہ محبوب اس کے قدموں میں آگرے ۔ میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ لوگ اپنی ہر طرح کے پریشانی کے حل کے لئے ایک ایسی آڑی ترچھی اور ہندسہ والی تعویز اپنی جیب میں ہمیشہ رکھتے ہیں اور اس تعویز کو اپنے دل کی مرادیں پوری کر نے کا سبب بتاتے ہیں جبکہ ہر مشکل اور پریشانی کا حل تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ، حمد و ثنا اور اس کے سامنے گڑ گڑا کر معافی مانگنے میں ہے ۔
آج بر صغیر کے مسلمانوں کی گمراہی کی اصل وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس وسائل کی شدیدکمی ہے یا وہ موجودہ علمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ بلکہ اصل وجہ یہی ہے کہ ایک مالک کو لا شریک و بے ہمتا ماننے والی مسلمانوں کی اکثریت نے شرک کو اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ غضب تو یہ ہے کہ اس کام میں امت کے پیروں اور نام نہاد عالموں نے مرکزی کر دار ادا کیا ہے ۔ یہ لوگ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی دنیا بنانے کے لئے شرک کے سب سے بڑے سر پرست بنے ہو ئے ہیں، ہر روز ایک نیا پاسا پھینک کر اس سے منافع سمیٹنا ان کا پسند یدہ مشغلہ ہے ۔یہی وہ جعلی پیر اور مولوی ہیں ، جو پیدائش سے لیکر موت تک ہر ہر مرحلے پر اپنی کارگذاری کا حق جبراً وصو کر تے ہیں ۔ ان ہی کے شان میں پر ور دگار عالم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ! اے ایمان والو! علماء اور دین داروں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور ان کو اللہ کے راستے سے روک دیتے ہیں ( سورۃ توبہ آیت نمبر ۳۴)
یہ بات بالکل سچ ہے کہ یہ پیر اور مولوی صرف یہی ستم نہیں ڈھاتے کہ فتوے بیچتے اور نذرانے وصول کر تے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے اغراض کی خاطر ساری دنیا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسا رکھا ہے ، ایسی ایسی مذہبی رسمیں ایجاد کر لی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کا مرنا اور جینا ، شادی و غم جو کچھ بھی ہے، ان کو کھلائے پلائے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اسی لئے یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی کوئی داعی حق ِ اصلاح کے لئے اٹھتا ہے تو سب سے پہلے اسی گروہ کے افراد اپنی عالمانہ فریب کاریوں کے ہتھیار لے لے کر اس کا راستہ روکنے کے لئے کھڑے ہو جا تے ہیں اوریہ سب کچھ دینداری کے بھیس میں ہو تا ہے ۔کاش ان بھولے بھالے مسلمانوں کو کوئی بتائے کہ نبی پاک ﷺ نے جس چیز سے منع کیا ہے ،اس سے کسی قسم کے خیر کی امید ایمان کے خلاف ہے ۔
)رابط. 6291697668)