ہر جاندارکو جینے کا حق ہے تلخ و شریں

شیخ عابد حسین

قدرت نے انسان کے اندر محبت اور ہمدردی کا مادہ ازل سے ہی پیدا فرمایا ہے تاکہ انسان دنیا میں دیگر جانداروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر کے زندگی بسر کر سکیں۔ قدرت کی بنائی ہوئی چیزیں کچھ ایسی بھی ہیں جن کے ساتھ ہم نفرت کرتے ہیں، حالانکہ اگر دیکھا جائے تو دنیا کو چلانے یا ecosystem میں برابری کو قائم رکھنے میں ان جانداروں کا اہم رول ہوتا ہے جن میں کُتا بھی شامل ہے، جسے انسان ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کسی بھی انسان کو ملامت کے خاطر اسے کُتے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ ساخت کے اعتبار سے وہ منفرد ہے، دیکھا جائے تو کتے کی ساخت سے کسی کو اعتراض نہیں ہے، البتہ کتے کی حرکات و سکنات سے انسان اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

کتا کسی کو بلا وجہ نہیں کاٹتا ہے بلکہ اسے بعض اوقات کاٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہر جاندار کی طرح کتا بھی اپنی دفاع کے لئے کھڑا رہتا ہے ،کتے کے ساتھ آپ محبت سے پیش آتے ہیں تو کتے سے بڑا وفادار پھر کوئی نہیں ہے۔ انسان سے محبت حاصل کرنے کے بعد کتے نے کبھی اپنے مالک کی بے وفائی نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب کتے کے اندر اللہ نے کئی ساری صلاحیتیں پیدا فرمائی ہے، جنہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ہر جاندار کا اپنا ایک الگ رہن سہن بھی ہوتا ہے، اسی طرح کتا بھی اپنے ایک منفرد طریقے سے زندگی میں دوڑ دھوپ کر کے اپنا نفس پالتا ہے۔ اب جو طریقہ وہ اختیار میں لاتا ہے، انسان اس کے ساتھ نفرت کرتا ہے، پر کتے بیچارے کو کیا معلوم کہ ecosystem میں اپنا اہم رول نبانے کے باوجود بھی اسے نفرت ہی حاصل ہوتی ہے۔ دراصل انسان کی نگاہ میں انصاف کی صلاحیت کم ہوگئی ہے، اگر انسان کی نگاہ انصاف کرنے کے قابل ہوتی تو کتے کے ساتھ اتنی نفرت نہیں ہوتی جو کتا ہمارے آس پاس کے ماحول میں گندگی اور جس گندگی سے ماحول کا آلودہ ہونا طے ہے کو کھاکے صاف رکھتا ہے، اسے بڑھ کر کتا انسان کی بھلائی کے لئے اور کیا کر سکتا ہے۔ لیکن ایک انسان اتنا نا انصاف ہے کہ وہ کتے کو سماج سے ہی نکالنا چاہتا ہے، یہ جان کر بھی کہ کتے کو سماج میں رہنے کا ویسا ہی حق ہے جیسا کہ دوسرے جانداروں کا ہے۔ انسان کی نگاہ کی سب سے بڑی خامی یہ بھی ہے کہ وہ صرف ظاہری بناوٹ پر فدا ہوتی ہے، اسے جو اچھا لگتا ہے وہی دیکھتا ہے۔دراصل یہ صرف آئینہ ہوتا ہے جو ہر خوبصورت اور بدصورت چیز کی طرف دیکھتا ہے، ہر جاندار و بے جان چیز کا دنیا میں الگ الگ مقام ہے۔ پتھر بظاہر ایک ناکارہ چیز ہے، پر کسی بھی عمارت کی صحیح اور مضبوط بنیاد اسی پتھر سے ہوتی ہے ۔اسی طرح اور بھی چیزیں ہیں، لہٰذا کوئی بھی چیز جسے قدرت نے بنایا ہے کو حقیریا ناکارہ سمجھنا غلط ہے ،ہر جاندار کے ساتھ ہمدردی رکھنا ایک صحیح انسان ہونے کی علامت ہے، چاہئے صورت کے اعتبار سے ہمیں وہ اچھا لگے یا نہ لگے کیوں کہ قدرت کی بنائی ہوئی چیزیں قباحت سے پاک ہوتی ہے۔
(رابطہ۔ 7889959161)
[email protected]