سرنکوٹ// سڑک کی اہمیت کوئی ہاڑی بڈھا کے لوگوںسے پوچھے جہاں سڑک روابط نہ ہونے کی وجہ سے اب تک چار حاملہ خواتین دم توڑ چکی ہیں اور بزرگ ،خواتین و بچوں کو کئی میل کا سفر پیدل طے کرناپڑتاہے ۔اس گاؤں کے بیچ سے پی ایم جی ایس وائی کے تحت ایک سڑک نکالی جارہی ہے لیکن اس کا2 سو میٹر کاحصہ تعطل کا شکار بناہواہے جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے رقومات ہی دستیاب نہیں ۔اس دو سو میٹر سڑک کی خرابی کی وجہ سے پورا ہاڑی بڈھا گاؤں متاثر ہو رہا ہے اوراسی وجہ سے گاڑی بھی آگے نہیںجاسکتی جس کے نتیجہ میں لوگوںکو اس جدید دور میں بھی پیدل سفر کرناپڑتاہے ۔مقامی نوجوان شوکت حسین نے بتایا کہ آج بھی وہ ایک مریض کو چارپائی پر اٹھاکر سرنکوٹ لے گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس دو سو میٹر سڑک کے نہ بننے سے چار حاملہ خواتین ہسپتال منتقلی کے دوران راستے میں ہی دم توڑ گئیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر سڑک ہوتی تو نہ ہی ان خواتین کی موت ہوتی اور نہ ہی ان کے بطن میں بچے مرتے ۔ان کاکہناہے کہ حیران کن بات ہے کہ محکمہ اتنا ہی غریب ہوگیا ہے کہ اس کے پاس دو سو میٹر سڑک بنانے کیلئے رقومات نہیں۔مقامی شخص محمد یوسف شاہ نے لوگوں سے ایپل کی ہے کہ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پونچھ سے بھی بات کی گئی اور انہوںنے یقین دلایاکہ وہ خود علاقے کا معائنہ کریںگے ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں نے یہ انتباہ دیاکہ اگرایک ہفتے کے اندر اندر سڑک کی مرمت نہ کی گئی تو وہ میدانہ کے مقام پر جموں پونچھ شاہراہ کو بند کرکے احتجاج کریںگے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ان کے بچے صبح چھ بجے سکول سے نکلتے ہیں اوررات کوواپس گھر پہنچتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ان کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ۔مقامی شہریوں سید یوسف شاہ،محمد اکرم، محمد عرفان، شوکت حسین، محمد معروف ،محمد منشی قریشی ،گلزار احمد، محمد عارف، محمد اشرف کھاری ،شوکت حسین قریشی وغیرہ نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ اس روڈ کی تعمیر کرکے اسے گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بنایاجائے ۔