مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے پسماندہ علاقہ کیری کانگڑھ میں قائم کر دہ گور نمنٹ ہائی سکول کیری کانگڑھ کا درجہ گزشتہ کئی برسوں سے بڑھایا ہی نہیں گیا جس کی وجہ سے ایک وسیع علاقہ کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے 8سے 10کلو میٹر کا روزانہ سفر کرناپڑتا ہے جس میں سے زیادہ تر سفر پیدل کیا جاتا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ سکول کا درجہ مڈل سے ہائی کئی دہائیاں قبل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد ایک بڑی آبادی کے مرکز میں ہونے کے باوجود سکول کا درجہ بڑھانے میں کسی بھی حکومت نے کوئی دلچسپی ہی نہیں لی ۔مقامی معززین نے بتایا کہ مذکورہ ہائی سکول 2پنچایتوں کے مرکز میں قائم ہے جس کی وجہ سے بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول میں زیر تعلیم ہے تاہم ملحقہ علاقوں میں بھی کوئی ہائر سکینڈری سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے ہرنی جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بچیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سکول کا درجہ بڑھانے کیلئے حالیہ کئی عرصہ سے مہم شروع کی گئی ہے لیکن انتظامیہ او ر جموں وکشمیر میں آنے والی کسی بھی حکومت نے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے سکول کے درجے میں توسیع کرنے کیلئے کوئی عملی کام نہیں کیا ۔غور طلب ہے کہ پہاڑوں پر آباد کئی دیہات کے مرکز میں قائم کر دہ سکول جانے کیلئے بھی بچوں کو کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کرنا پڑتی ہے جبکہ مذکورہ سکول سے ہائر سکینڈری سکول کی دوری بھی کئی کلو میٹر ہے ۔اس سکول کے زیر تحت کئی مڈل اور پرائمری سکول آتے ہیں جہاں کے بچے بھی مزید تعلیم کیلئے ہائی سکول کیری کا رخ کرتے ہیں ۔مقامی لوگوں اور پنچایتی اراکین نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہائی سکول کا درجہ بڑھایا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو ۔