پونچھ//گورنمنٹ ہائی سکول سیڑھی خواجہ کا درجہ نہ بڑھائے جانے پر مقامی لوگوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔اس سلسلے میں مقامی لوگوں اور طلباء کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے لیکن حکام نے کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی سکول کا درجہ بڑھایاگیا ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اب چونکہ ریاست سے مخلوط حکومت کا خاتمہ ہوگیاہے اور گورنر راج نافذ ہے لہٰذا وہ امید کرتے ہیں کہ گورنر انتظامیہ اس علاقے کے ساتھ انصاف کرے گی ۔سماجی کارکن پرویز احمد آفریدی نے مانگ کی کہ گورنمنٹ ہائی سکول سیڑھی خواجہ کا فوری درجہ بڑھاکر اسے ہائراسکینڈری سکول بنایاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اس سکول کا درجہ سب سے پہلے بڑھناچاہئے تھاتاہم حکومت نے دیگر کئی سکولوں کو اپ گریڈ کیااور اسے چھوڑ دیاگیا۔انہوں نے کہا کہ سیڑھی خواجہ کے طلباء کو ہائراسکینڈری کی تعلیم کیلئے کئی کئی کلو میٹر دور جاناپڑتاہے اور طالبات اسی وجہ سے اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریاستی و مرکزی حکومت بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو مہم چلارہی ہے لیکن اس علاقے کی بچیاں ترک تعلیم پر مجبور ہیں اور انہیں بنیادی سطح پر تعلیم کی سہولت ہی دستیاب نہیں ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ وہ سکول کادرجہ بڑھائے جانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے اور خاموش نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے ریاستی گورنر این این ووہرا سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرکے اس سکول کا درجہ بڑھانے کے احکامات صادر کریں تاکہ طلباء کو تعلیم کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔