گول//دوردراز علاقوں میں بجلی نظام کو بہتر بنانے او رہر گھر کو روشن کرنے کے سرکاری اور انتظامی دعوے اُس وقت کھولے نظر آ رہے ہیں جب زمینی سطح پر بجلی کی صورتحال پر ایک نظر دوڑائی جاتی ہے۔ گول سب ڈویژن کے گگر سولہ علاقہ اگر چہ بیس سال قبل بجلی کی سپلائی دی گئی لیکن ابھی تک تاریں درختوں اور عارضی کھمبوں پر لٹکتی ہوئی ہیں ۔مقامی لوگوں نے اس صورتحال کو سیاسی امتیاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس محلے اور انسان کو جتنی سیاسی پہنچ ہو گی اُتنی کی ان کی چونچ بھی لمبی ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے کام کرتے ہیں ۔ گگر سولہ کے پیر محلہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے ایک دلدوز حادثہ بھی پیش آیا جب ترسیلی لائن کے ساتھ ایک سکولی بچی چھو گیا اور موقعہ پر ہی لقمہ اجل بن گیا اور علاقہ میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی لیکن اس کے با وجود بھی یہاں پربجلی کے پول نہیں دئے گئے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر اگر چہ بجلی کی سپلائی بہتر ہے لیکن خطرے سے خالی نہیں کیونکہ ترسیلی لائنیں چھ سات فٹ اونچائی پر عارضی لکڑی کے کھمبوں یا سرسبز درختوں پر لٹکی ہوئی ہیں جو خطرے سے خالی نہیں ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر ساتھ ہی دوسرے محلوں کو محکمہ بجلی نے لوہے کے بہترین پول دئے لیکن ہمارے محلے کو نظر انداز کیا ہے ۔ اندھ ، گاگری ، گول کے کچھ علاقوں میں بھی اسی طرح سے سر سبز درختوں کے ساتھ ترسیلی لائنیں لٹکی ہوئی ہیں اور بجلی کے کھمبے اثرورسوخ والے لوگوں کے لئے ہی آتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ کے آفیسران اور ملازمین کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے اپنا فرض نبھائیں اور انصاف کے تقاضوں پر کام کریں اور جہاں جہاں کھمبوں کی ضرورت ہے وہاں کھمبے لگائیں تا کہ انسانی جانوں کو کوئی خطرہ لا حق نہ ہو ۔