گول بازار یا فرو ٹ منڈی ،سڑک پر کھڑی گاڑیوں سے پریشانیوں میں اضافہ

گول//’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘کے مصداق گول بازار کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں پر انتظامیہ کی کوئی چیز نہیں ہے ۔گول بازار کے بیچ میں گاڑی والے گاڑیوں سے ہی سیب بیچنے کا کام کرتے ہیں جس وجہ سے آنے جانے والی گاڑیوں کو کافی پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طرح سے بازار میں جام بھی لگ جا تا ہے ۔ گول بازار جہاں پہلے سے ہی سڑک کے کنارے کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے سڑک سکڑ گئی ہے وہیں دوسری جانب بیچ سڑک میں اس طرح سے گاڑیاں کھڑی کر کے سیب بیچنا کہاں کا انصاف ہے اور یہ تمام انتظامیہ اور پولیس کے سامنے ہو رہا ہے جو اس کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں ۔ وہیں دن سڑک کے بر لب کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے بازار کے بیچ سے گزرنے والی بڑی گاڑیوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جہاں اک طرف سے یہ سڑک کافی تنگ ہے وہیں دوسری جانب اسی سڑک کے کنارے کھاڑی نجی گاڑیاں ، ٹرک ، ڈیمپر ،بسیں وغیرہ ایک معمول بن گیا ہے ۔ اگر چہ گول بازار میں کئی مرتبہ پولیس نے رسمی کاروائی کی تھی لیکن ایک دو گھنٹے ہی اس کاروائی کا اثر دیکھنے کو ملا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کو چاہئے کہ بالخصوص اُن گاڑیوں کو بازار میں کھڑا نہیں ہونے دیں جس کوئی حادثہ پیش آئے ، جام لے تا کہ بازار میں آنے جانے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو بھی کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بازار میں آئے ہوئے کئی لوگوں نے انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ بازار کی حالت کو بہتر بنائے اور یہاں کھڑی گاڑیوں سے جو مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور اس طرح سے بیچ بازار میں گاڑیوں سے سیب بیچنا یہ بند کیا جائے اور ایک ایسی جگہ منتخب کریں جہاں پر یہ لوگ اپنا کار وبار کر سکیں جس سے دیگر لوگو ں کو پریشانی نہ ہو ۔